ایک زمانہ تھا جب حقیقی سکے معیشت کی بنیاد ہوا کرتے تھے، اور امت کا مالی نظام سونے اور چاندی جیسے قیمتی اثاثوں پر استوار تھا۔ دینار، جو چار اعشاریہ پچیس گرام خالص سونے پر مشتمل ہوتا تھا، ہاتھوں میں آتا تو اعتماد اور استحکام کا احساس دلاتا تھا۔ درہم، جو دو اعشاریہ پچانوے گرام چاندی سے ڈھالا جاتا تھا، اپنی قدر اور شفافیت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔
آج ہمارا مالی نظام ایسے کاغذی نوٹوں پر قائم ہے جن کی کوئی اندرونی قدر نہیں، صرف ریاستی اعتماد ہی ان کی بنیاد ہے۔ وہ سکہ، جو کبھی اپنے وزن اور خالص دھات کی وجہ سے قابلِ اعتماد سمجھا جاتا تھا، اب محض پرنٹنگ مشین کا نتیجہ بن چکا ہے۔ یہ نظام نہ صرف غیر شفاف ہے بلکہ ہر لمحہ افراطِ زر کے خطرے سے دوچار بھی، اور سب سے بڑا ستم یہ ہے کہ ہم نے اس مصنوعی کرنسی کو اپنے قدرتی اثاثوں پر ترجیح دے دی ہے۔
ڈالر محض ایک کرنسی نوٹ نہیں رہا۔ یہ ایک ایسا غیر محسوس معاشی ہتھیار بن چکا ہے جو بغیر شور کے اثر انداز ہوتا ہے۔ سودی نظام کے ذریعے یہ انسانی دل و دماغ کو متاثر کرتا ہے، اور افراطِ زر کے ذریعے روزمرہ کی ضروریات کو مزید مہنگا کر دیتا ہے۔ قرآنِ حکیم نے ربا کو واضح طور پر حرام قرار دیا، لیکن موجودہ عالمی مالیاتی نظام نے اسی ربا کو ترقی کا نام دے کر قابلِ قبول بنا دیا، اور ہم نے بھی اسے خوش دلی سے اپنا لیا۔
1971 میں امریکی صدر رچرڈ نکسن نے جب ڈالر کو سونے کے معیار سے الگ کیا، تو ایک دور کا خاتمہ اور ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ اس اقدام کے نتیجے میں ڈالر کی پشت سے وہ مادی ضمانت ختم ہو گئی جو اُسے حقیقی قدر بخشتی تھی۔ 1974 میں جب شاہ فیصل نے تیل کے بدلے ڈالر کو بطور عالمی کرنسی تسلیم کیا، تو مسلم دنیا کا معاشی انحصار مزید گہرا ہو گیا۔
بعد کے برسوں میں، اگر کسی نے اس نظام سے انحراف کی کوشش کی، تو اسے سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑا۔ صدام حسین نے جب یورو میں تیل فروخت کرنے کی کوشش کی، تو عراق پر حملہ ہوا۔ معمر قذافی نے سونے کے دینار کی بنیاد پر ایک نیا کرنسی نظام تجویز کیا، تو وہ عالمی سیاست کا نشانہ بنے۔ ایران نے ڈالر کی اجارہ داری کو چیلنج کیا، جس کے جواب میں اس پر سخت معاشی پابندیاں عائد کی گئیں۔
یہ محض قیاس آرائیاں نہیں، بلکہ خود ایک امریکی جنرل ویسلی کلارک نے 2007 میں اعتراف کیا تھا کہ امریکہ نے سات مسلم ممالک کو اس لیے نشانہ بنایا کیونکہ وہ ڈالر کے نظام سے ہٹنا چاہتے تھے۔ اُس کے الفاظ تھے:
ہم پانچ سال میں سات ممالک کو نشانہ بنانے جا رہے ہیں… عراق، پھر شام، لبنان، لیبیا، صومالیہ، سوڈان، اور آخر میں ایران۔ یہ دہشت گردی کا مسئلہ نہیں تھا… یہ کنٹرول کا مسئلہ تھا
ان تمام واقعات کے پیچھے جو بنیادی مفاد کارفرما تھا، وہ لیبیا کے 143 بلین ڈالر مالیت کے سونے پر قبضہ تھا، جو مغربی قوتوں کی اصل توجہ کا مرکز رہا۔
آج، 2025 میں، ڈالر کو ایک نئے چیلنج کا سامنا ہے۔ موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ برکس ممالک پر دس فیصد درآمدی ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ یہ بیانیہ درحقیقت اس نظام کی کمزوری اور غیر یقینی مستقبل کی علامت ہے۔ جواباً، چینی صدر شی جن پھنگ نے خبردار کیا کہ اگر کوئی ان کی سپلائی لائن میں مداخلت کرے گا تو وہ اس کی معیشت کو شدید نقصان پہنچائیں گے۔
اسی تناظر میں، برکس کے گیارہ ممالک ایک متبادل کرنسی “آر-فائیو” متعارف کرانے جا رہے ہیں، جو ممکنہ طور پر ڈالر کی اجارہ داری کو براہِ راست چیلنج کرے گی۔ روس اور چین اب اپنی گیس کی تجارت یوآن اور روبل میں کر رہے ہیں، اور یہ ایک واضح اشارہ ہے کہ عالمی مالیاتی منظرنامہ تبدیلی کے دہانے پر کھڑا ہے۔
مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ کینیڈا اور میکسیکو جیسے ممالک، جو جغرافیائی طور پر امریکہ کے قریب اور تجارتی طور پر اس کے وابستہ رہے ہیں، اب ڈالر سے فاصلہ اختیار کرنے کی خواہش ظاہر کر رہے ہیں۔ یہ صرف برکس کی بغاوت نہیں، بلکہ عالمی ضمیر کی ایک خاموش بیداری ہے۔
ان حالات میں وہ احادیث خاص اہمیت رکھتی ہیں جنہیں شاید ہم نے نظرانداز کر دیا ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے: “مسلمانوں کے سکے کو بغیر ضرورت کے توڑنا حرام ہے” (ابو داؤد: 3449)، اور ایک اور روایت کے مطابق: “ایسا زمانہ آئے گا جب دینار و درہم باقی نہ رہیں گے” (مسند احمد: 10284)۔
آج کا المیہ یہ ہے کہ ہم نے صرف سونے چاندی کے سکے ترک نہیں کیے، بلکہ ان کی جگہ ایسے کاغذ کو اپنایا جس پر ہمارے معاشی مخالفین کا نشان لگا ہے۔
پھر بھی کچھ مثبت اشارے موجود ہیں۔ ملائیشیا نے سونے کے دینار کی بنیاد پر تجارت کا آغاز کیا ہے، پاکستان اور چین کے درمیان سی پیک کے مالی معاملات یوآن اور روپے میں طے پا رہے ہیں، اور سعودی عرب و متحدہ عرب امارات سونے کی مشترکہ کرنسی پر کام کر رہے ہیں۔ یہ تمام اقدامات ایک ایسی دنیا کی طرف اشارہ کرتے ہیں جہاں معاشی آزادی ممکن ہو سکتی ہے۔
ڈالر، جس نے روزمرہ کی ضروریات کو مہنگا، دواؤں کو خواب، اور تنخواہوں کو غیر مؤثر بنا دیا، اب محض کرنسی نہیں بلکہ ایک نظامِ غلامی کا استعارہ بن چکا ہے۔
ہمیں اب ان سکوں کی طرف لوٹنے کی ضرورت ہے جنہیں توڑنے سے نبی کریم ﷺ نے منع فرمایا تھا: سونے کا دینار، چاندی کا درہم جو صرف مالی وسیلہ نہیں بلکہ ایک باعزت، شفاف اور غیر سودی نظام کا نشان ہیں۔
اگر ہم اسی کاغذی نظام کو تھامے رہے، تو ہم نہ صرف معاشی طور پر دفن ہوں گے بلکہ تاریخ میں تماشائی کے طور پر یاد رکھے جائیں گے
اور ہماری خاموشی، ہماری شکست بن جائے گی۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں