خدا اس کے باپ کو بخشے ۔۔۔ معاذ بن محمود

کہتے ہیں کسی گاؤں میں ایک کفن چور گورکن رہتا تھا جس کے شر سے کوئی مردہ محفوظ نہ تھا۔ گاؤں والے ہمیشہ اس کفن چور پر اعلیٰ درجے کی لعن طعن کیا کرتے۔ پھر یوں ہوا کہ گورکن اللہ کو پیارا ہوگیا۔ قبرستان میں گورکن کی جگہ اس کے بیٹے نے لے لی۔ بیٹا باپ کی طرح کفن چور تو تھا ہی ساتھ ہی کفن چوری کرتے ہوئے لاش میں ایک آدھ لکڑی بھی فٹ کر دیا کرتا۔ اب گاؤں والوں کی زبان سے پرانے گورکن کے لیے دعائیں نکلتیں اور وہ ہمیشہ یہی کہتے ملتے کہ “اللہ اس کے باپ کو بخشے”۔

عرصہ ہوا ریاست پاکستان کو لبرل آزاد معاشرے کے خطوط پہ چلتے اچانک مرد مومن مرد حق ٹکرا گئے۔ گرم پانیوں تک روسی رسائی ہماری ریاستی طہارت پہ اثرانداز ہوسکتی تھی، لہٰذا مرد مومن مرد حق نے فوری ایکشن لیتے ہوئے رینٹ این آرمی اور بائے مجاہد گیٹ ٹریننگ فری پیکج کا بندوبست فرمایا۔ یوں بہ عوض بہت سے ڈالر و سٹنگر میزائل ماہر اساتذہ کی زیر نگرانی ہم نے ایک کامیاب جہاد کا نفاذ یقینی فرمایا۔ بارڈر کے اس جانب مجاہدین کی ایکسپورٹ کا کامیاب کاروبار شروع ہوا جبکہ دوسری جانب افغان عوام گورکن کی کہانی سمجھنا شروع کر چکی تھی۔ پنڈی بوائز ہر طرح سے موج میں تھے۔پھر ایک دن مرد مومن مرد حق آموں کی تاب نہ لا کر پھٹ پڑے اور یہاں سے ہمارے گاؤں کی کہانی کا پہلا گورکن کفن چور بننے کی تیاری پکڑ لیتا ہے۔

یہاں ایک لمحے کو پالتو جانوروں کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ پالتو جانور کی اپنی ایک نفسیات ہوتی ہے۔ اسے پالنے کے بعد اچانک بے یارو مددگار چھوڑ دیا جائے تو وہ ایک کونے میں چھپنے کی کوشش کرتا ہے۔ محفوظ مقام نہ ملنے پر اس کا سامنا دوسرے جانوروں سے ہوتا ہے جہاں وہ دوسروں کو خطرہ سمجھ کر خود ان کے لیے بڑا خطرہ بن جاتا ہے۔ چونکہ پالتو جانور عام حالات میں خطرے سے مانوس نہیں ہوتے لہٰذا دوسروں کی نسبت جان دینے اور لینے کو جلدی تیار ہوجاتے ہیں۔ ہماری مجاہدین کے ساتھ یہی ہوا۔

انکل سیم روس کے بلاتکار سے فارغ ہوئے تو انہیں دوسرے اہم کام یاد آگئے۔ امریکہ بہادر (بدمعاش پڑھا جائے) کو اپنے کیے پہ پانی بہانے پہ کوئی مجبور نہیں سکتا، لیکن جانے کس زعم میں ہم نے بھی پچھتانے کی روایت ترک کر ڈالی۔ یوں مجاہدین کو ہم سب نے مل کر ان کے حال پہ چھوڑ دیا۔ طالبان کے نام سے جانی جانے والی یہ مخلوق بعد ازاں آپ کے گاؤں کا پہلا کفن چور ثابت ہوتا ہے۔ مقامی قبائلی سخت جان تھے ہی، اور اسلام کے نام پر حساس بھی، لہٰذا ان کی مذہب پسندی کو ہائی جیک کرنا اتنا بڑا مسئلہ نہ بنا۔ پنڈی بوائز انہیں ان کے حال پہ تو چھوڑ چکے تھے لیکن ان کے خلاف ہرگز نہ تھے۔

پھر نو گیارہ کے حملے ہوتے ہیں۔ قطع نظر اس سے کہ یہ حملے کس نے کیے، امریکہ بہادر کو ایک نئی مہم جوئی کا جواز ضرور مل گیا۔ کمانڈو آمر بین الاقوامی طوائف کی طرح گن پوائنٹ کا بہانہ بنا کر ڈالرز واسطے امریکہ بہادر کے آگے بخوشی لیٹ گئے۔ ہر آمر کی طرح مشرف کو بھی آمریت کو طول دینے کے لیے بہانہ چاہئے تھا سو مل گیا۔ طالبانی کفن چور اس مرحلے پہ امریکہ بہادر اور ہماری پاک فوج کی بدولت ایک ڈاکٹرائن سے عفریت میں بدل گئے۔ اس کے بعد جس طرح سے فوج نے اپنے پالتو جانوروں کے خلاف پالیسی بدلی اور ان کے سر کی قیمتیں لگانی شروع کیں، وہ آپ سب جانتے ہیں۔

جو چیز ہم محسوس نہیں کر رہے وہ ان کفن چور طالبانوں کی فکری اولادیں ہیں جو آج ایک اور تشخص کے ساتھ لانچ ہونے کے قریب ہیں۔ طالبان ڈاکٹرائن کی روح یہی ہے کہ ایک اقلیت جو خود کو مذہبی لحاظ سے اتھارٹی سمجھتی ہے، ریاست کے آئین کو ایک جانب رکھ کر اپنے فیصلے صادر کرنا شروع کر دے اور یوں ریاست کی رٹ کی ببانگ دہل آبرو ریزی کرنا شروع کر دے۔ مذہب کو بنیاد بنا کر طالبان نے قبائلیوں کے جذبات ہائی جیک کیے، آج بریلوی ٹولہ اس فارمولے کو جان کر مستقبل کے لئے بم بنانے میں مصروف ہے۔ طالبان فکری طور پر مسلک دیوبند کے لیے parasite بنے ان کا خون چوستے رہے۔ دیوبندی ریاست پاکستان میں اقلیت تھے مگر مذہبی آواز اونچی رکھتے، لہٰذا ممتاز رہے۔ اب کی بار ملک کی اکثریت سنی بریلوی کو جذباتی طور پر یرغمال بنایا جا رہا ہے۔ انہیں اونچی آواز کا مزا چکھایا جا رہا ہے۔ آگ کے اس کھیل کو کھیلے جانے کی آزادی دینے کا مطلب طالبان سے کہیں زیادہ مضبوط غیرآئینی و غیر قانونی طاقت کو پنپنے کا موقع دینا ہے۔

مولانا خادم حسین رضوی کہہ چکے ہیں کہ انہیں فوج سے کوئی خطرہ نہیں کیونکہ وہ فوج کا مؤقف مضبوط کرنے کے لیے بیٹھے ہیں۔ ایسے میں ریاست بشمول تمام ادارے اگر آپسی چپقلش چھوڑ کر اس عفریت کو قابو کرنے کی کوشش نہ کریں تو آنے والی کم سے کم دو نسلوں کی بیچارگی ان کے ذمے ہوگی۔ ہمیں تمام سیاسی اختلافات چھوڑ کر اس مذہبی شدت پسند سوچ کو شکست دینی پڑے گی۔

بصورت دیگر ایک ایسا وقت قریب ہے جب ہم گاؤں والے بھی طالبان کو یاد کر کے کہا کریں گے “خدا اس کے باپ کو بخشے”۔

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *