ارض مقدس یعنی فلسطین وہ سرزمین ہے جسے اللّٰہ تعالیٰ نے انبیاء کرام کیلئے منتخب فرمایا ۔یہ نہ صرف تاریخی اعتبار سے ایک مبارک خطہ ہے بلکہ روحانی اور دینی حوالے سے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔حضرت ابرہیم علیہ السلام سے لیکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک کیٔ جلیل القدر انبیاء اسی سرزمین سے وابستہ رہے۔مسلمانوں کیلئے یہ زمین صرف ایک تاریخی ورثہ نہیں بلکہ ایک دینی اور اعتقادی حق بھی ہے۔قبلہء اؤل ،مسجد اقصیٰ ،جو اس سرزمین پر واقع ہے ۔آج کے دور میں جب ارض مقدس پر مظالم،ناانصافیوں اور غاصبانہ قبضے کا سامنا ہے تو ضروری ہے کہ ہم اس موضوع کو نہ صرف تاریخ کی روشنی میں دیکھیں بلکہ اسلامی نقطہ نظر سے بھی اس کے حقائق کو سمجھیں ۔
معروف کتاب “ارض مقدس”محترم جناب ابوالحسن نعیم صاحب کی بہترین کاوش ہے ۔ارض مقدس کے بارے میں جاننا ہمیشہ سے میری ذاتی ترجیحات کا حصہ رہا ہے ۔اور اس خوبصورت کتاب کا مطالعہ میری ذاتی ترجیح ہے۔یہ کتاب 95 صفحات پر مشتمل ہے ۔ہر صفحہ میں ارض مقدس کے فضائل و برکات ،فتوحات اور اسلامی انقلابی فکر کو تحریر کیا گیا ہے ۔جہاں تک میرا ذاتی خیال ہے اس کتاب کا مطالعہ موجودہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے مصنف نے اہم فریضہ ادا کیا ہے ۔ویسے تو بیت المقدس کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو واضح ہےکہ یہ مقدس سرزمین انبیاء کرام کی میراث ہے ۔اور اس پر صرف مسلمانوں کا حق اول ہے۔مگر یکے بعد دیگرے ظالم و قابض یہودیوں اور صیہونی فوجیوں نے ارض مقدس پر اپنے جھوٹے دعوؤں کی بنیاد پر جو مظالم ڈھائے ہیں وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں ۔اس ظلم و تشدد کی زندہ جاوید مثال موجودہ بیت المقدس اور غزہ پٹی کے حالات ہیں جو 7 اکتوبر 2023سے آج تک ہوتے رہے ہیں اور آج غزہ پٹی کا نام ونشان ارض مقدس سے مٹ گیا ۔ان حالات میں ضروری تھا کہ عوام الناس کے ذہنوں میں ارض مقدس کے بارے میں ضروری ثبوت و دلائل پیش کیے جائیں کہ یہودی صرف ارض مقدس پر غاصبانہ قبضہ کیے ہوئے ہیں ۔اس کتاب “ارض مقدس”میں محترم مصنف نے نہ صرف ارض فلسطین کی کتاب اللّٰہ اور احادیث رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روشنی میں فضائل و برکات بیان کیے بلکہ وہ تمام دلائل و شواہد بھی واضح کیے جن سے یہ بات صاف ہے کہ بیت المقدس کے حق دار صرف مسلمان یعنی امت مسلمہ ہے۔یہودی و صیہونی غاصب اور قابض ہیں اور امت مسلمہ پر جہاد فرض ہے ۔مزید یہ کہ مصنف نے او آئی سی کے قیام کا بنیادی فریضہ بتایا کہ بیت المقدس کی حفاظت اور فلسطین کی آزادی اوآئی سی کے منشور کا حصہ ہے ۔مگر افسوس کہ اوآئی سی کے قیام کا مقصد صرف امت مسلمہ کے حکمرانوں کا ملنا ہے ۔عملی طور پر کچھ کرنا نہیں ۔اس کی واضح موجودہ صورت حال غزہ کی مکمل تباہی اور اسلامی ممالک میں گاہے بگاہے اسرائیل کی جارحیت ہے۔
مگر مصنف اس کتاب میں لکھتے ہیں کہ امت مسلمہ کی زمہ داری یہ ہے کہ عوام میں شخصی اور قومی شعور اجاگر کیا جائے ۔اس مقصد کیلئے مایوسی کی لہر کو جڑ سے ختم کیا جائے اور اللّٰہ تعالیٰ کی نصرت حاصل کی جائے ۔اس بات کو مصنف نے اسلامی تاریخی مثالوں سے واضح کیا ہے ۔
بہرحال اس کتاب کا مختصراً خلاصہ یہ ہے کہ مصنف نے جامع انداز اپناتے ہوئے لوگوں کے ذہنوں میں ابھرتے ہوئے سوالات کا بہت علمی اور تحقیقی جواب دیا جو کہ وقت کی اہم ضرورت ہے ۔
یہ کتاب “ارض مقدس”مسٔلہ فلسطین کو سمجھنے اور آگاہی پھیلانے میں بہت مددگار ہو گی۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں