ان دنوں کولہاپور کے چھترپتی شاہو جی مہاراج کے یومِ ولادت کے موقع پر مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ شاہو جی مہاراج کی اہمیت اس لیے نمایاں ہے کہ انہوں نے دلتوں اور کمزور طبقات کے درد کو نہ صرف محسوس کیا، بلکہ اپنی ریاست میں ایسے انقلابی فیصلے کیے جو اپنے وقت سے بہت آگے تھے۔ بعض دانشوروں اور سماجی کارکنوں کا ماننا ہے کہ انہوں نے ڈاکٹر بھیم راو امبیڈکر سے پہلے بہوجن تحریک کو تقویت دی اور امبیڈکر کی جدوجہد کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کی۔ موجودہ دور میں شاہو جی مہاراج کی معنویت مزید بڑھ گئی ہے، کیونکہ بھارتی سیاست میں ایسی قوتیں فعال ہیں جو تاریخ کے پہیے کو آگے بڑھانے کے بجائے پیچھے کی سمت گھمانا چاہتی ہیں۔ ان کی پیدائش ۲۶ جون ۱۸۷۴ کو کولہاپور میں ہوئی تھی۔ ان کا اصل نام یشونت راؤ گھاٹگے تھا۔ آنندی بائی، جو کولہاپور کے شواجی چہارم کی بیوہ تھیں، نے ۱۸۸۴ میں انہیں گود لیا، اور شاہو جی نے ۱۸۹۴ سے ریاست پر حکومت شروع کی۔ ان کا انتقال ۶ مئی ۱۹۲۲ کو ہوا، اور یوں وہ محض ۴۷ برس کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے، لیکن پسماندہ ذاتوں اور طبقات کے لیے ان کی خدمات ایک اَن مٹ نشان چھوڑ گئیں۔
شاہو جی مہاراج کی سب سے بڑی خدمات میں یہ بات نمایاں ہے کہ انہوں نے سماج میں ذات پات پر مبنی غیر مساوی نظام کو نہ صرف سمجھا، بلکہ اسے ختم کرنے اور محروم طبقات کو معاشی، تعلیمی اور سماجی انصاف فراہم کرنے کے لیے مؤثر پالیسیاں بھی وضع کیں۔ جب بادشاہ اور جاگیردار پرانے نظام کا دفاع کر رہے تھے اور انسانوں کو مساوی درجہ دینے سے انکار کر رہے تھے، اُس وقت شاہو جی انسانوں کی برابری کی بات کر رہے تھے اور اپنی ریاستی پالیسیوں اور ذاتی طرزِ زندگی دونوں کے ذریعے چھواچھوت کی روایت کی کھل کر مخالفت کر رہے تھے۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ امیر اور طاقتور لوگ محکوم طبقات کے دکھ درد کو نہیں سمجھتے، لیکن شاہو جی مہاراج کا معاملہ اس سے مختلف تھا۔ جب بہت سے قومی قائدین ہندو احیاء پر زور دے رہے تھے، اس وقت وہ مساوات اور اخوت کی بات کر رہے تھے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ مغربی دنیا میں رائج مساوات اور حریت پر مبنی خیالات سے بخوبی واقف تھے اور فلاحی ریاست، متناسب نمائندگی، اور سماجی انصاف کے نظریے پر یقین رکھتے تھے۔ جب وہ زندہ تھے، اُس وقت بھارت میں جمہوریت کا کوئی تصور موجود نہ تھا۔ ہر طرف اعلیٰ ذاتوں کی اجارہ داری قائم تھی، اونچ نیچ کا احساس شدید تھا، اور دلت و پسماندہ طبقات، جو سماجی، تعلیمی اور معاشی لحاظ سے بہت پیچھے تھے، ذات پات کے نظام کے تحت غیر انسانی سلوک کا شکار تھے۔ شاہو جی نے کم از کم اپنی عملداری میں، اور کسی حد تک کامیابی کے ساتھ، مساوات کی جدوجہد کی۔ ان کی پالیسیوں نے اچھوتوں کے لیے شہری آزادیوں کو فروغ دیا اور اسکولوں، کالجوں، اسپتالوں اور سرکاری دفاتر جیسے عوامی مقامات کے دروازے دلتوں اور دیگر محروم ذاتوں کے لیے کھول دیے۔ انہوں نے اسکالرشپ، ہاسٹلوں اور تعلیمی اداروں کے ذریعے دلتوں کو تعلیم دلوانے کی بھرپور کوشش کی، کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اعلیٰ ذاتوں نے تعلیم پر اجارہ داری قائم کر کے دلتوں اور مراٹھوں کو غلامی میں جکڑ رکھا ہے۔ وہ اتنے دور اندیش تھے کہ انہوں نے پسماندہ طبقات کے لیے متناسب نمائندگی کا مطالبہ کیا، کیونکہ وہ بخوبی جانتے تھے کہ اعلیٰ ذاتوں نے برطانوی اداروں پر تقریباً مکمل قبضہ جما رکھا ہے۔
جب شاہو جی مہاراج بخوبی سمجھتے تھے کہ محکوم طبقات کے مفادات کو صرف وہی لوگ صحیح طور پر سمجھ سکتے ہیں جو خود اُن طبقات سے تعلق رکھتے ہوں۔ وہ اس حقیقت سے بھی واقف تھے کہ ذات پات پر مبنی سماج میں اخوت کے بجائے مختلف ذاتوں کے درمیان تعصب اور اختلافات کی دیواریں حائل ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر امبیڈکر نے بعد میں جس متناسب اور مؤثر نمائندگی کی بات علمی سطح پر کی، اس کا عملی آغاز شاہو جی مہاراج نے اپنی ریاست میں کر دیا تھا۔ جیسے ہی انہوں نے ریاست کی باگ ڈور سنبھالی، پسماندہ ذاتوں کے لیے ۵۰ فی صد ریزرویشن کی پالیسی نافذ کر دی۔ شاہو جی مہاراج انگلینڈ کے دورے پر کنگ ایڈورڈ ہفتم کی تاج پوشی کی تقریب میں شرکت کے لیے گئے تھے۔ اس دورے کے دوران ہی انہوں نے اعلان کیا کہ سرکاری ملازمتوں میں پسماندہ ذاتوں کو ٪۵۰ ریزرویشن دیا جائے گا۔ یہ تاریخی ریزرویشن آرڈر ۲۶ جولائی ۱۹۰۲ کو جاری کیا گیا، جس میں انہوں نے واضح کیا کہ یہ پالیسی محروم طبقات، خصوصاً تعلیمی میدان میں، ترقی کے لیے معاون ہوگی۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ آزادی کی جدوجہد کے دوران ریزرویشن کے مطالبے کی اکثر اعلیٰ ذاتوں کے رہنماؤں نے مخالفت کی۔ اپنے تنگ نظر مفادات کے تحفظ کے لیے اعلیٰ ذاتوں کی قیادت نے یہ جھوٹا دعویٰ کیا کہ ریزرویشن کی پالیسی آزادی کی جدوجہد کو کمزور کر دے گی، کیونکہ اس سے ہندوستانیوں کے درمیان اتحاد کو نقصان پہنچے گا۔ تاہم، ڈاکٹر امبیڈکر، پریار اور دیگر سماجی انصاف کے علمبردار رہنماؤں کی قیادت میں چلنے والی تحریکوں نے ان دعوؤں کو بارہا مسترد کیا اور واضح کیا کہ جب تک محروم اور کمزور طبقات کو ان کے جائز حقوق نہیں دیے جائیں گے، اُس وقت تک آزادی محض اعلیٰ ذاتوں کی آمریت کا دوسرا نام بن کر رہ جائے گی۔ شاہو جی مہاراج نے ۲۰ویں صدی کے آغاز میں ریزرویشن کا اعلان کر کے ایک ایسی انقلابی پالیسی کو عملی شکل دی، جو بھارت میں کمزور طبقات کے لیے ریزرویشن کے نفاذ سے کئی دہائیاں پہلے عمل میں آ چکی تھی۔
ریزرویشن نافذ کرنے کے علاوہ، شاہو جی مہاراج نے ملک کے مختلف حصوں کا دورہ کیا اور دلت کانفرنسوں میں بھرپور شرکت کی۔ مثلاً مارچ ۱۹۲۰ میں، انہوں نے مانگاؤں میں منعقدہ ایک اجلاس سے خطاب کیا، جس کی صدارت ڈاکٹر بی آر امبیڈکر نے کی تھی۔ اس کے علاوہ وہ دلتوں کے گھروں اور ان کے چلائے ہوئے ڈھابوں پر عوامی دورے کرتے، وہاں کھانا کھاتے اور پانی پیتے تھے۔ ان اقدامات کے ذریعے وہ یہ واضح پیغام دینا چاہتے تھے کہ دلتوں کے ساتھ چھواچھوت کا برتاؤ نہیں ہونا چاہیے، اور انہیں بھی دوسرے انسانوں کی طرح برابر عزت و احترام دیا جانا چاہیے۔ پچھلے پیشوا راج میں دلتوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک عام تھا، لیکن شاہو جی مہاراج نے اس روایت کے خاتمے کے لیے بھرپور کوشش کی۔ انہوں نے یہاں تک حکم جاری کیا کہ ریاست کے ماتحت افسران دلتوں کے ساتھ انسانی سلوک روا رکھیں، اور اگر وہ ایسا کرنے کو تیار نہیں تو انہیں استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ شاہو جی مہاراج نے نہ صرف ڈاکٹر امبیڈکر کی تعلیم کے لیے مالی مدد فراہم کی، بلکہ انہیں سماجی انصاف کے مسئلے کو اُٹھانے کے لیے بھرپور حوصلہ افزائی بھی دی۔ انہوں نے ڈاکٹر امبیڈکر کی ادارت میں شائع ہونے والے رسالے “موک نائک” کی اشاعت کے لیے مالی معاونت بھی فراہم کی۔ یہ مبالغہ نہیں ہوگا اگر کہا جائے کہ شاہو جی مہاراج، جیوتی بائی پھُلے، سویتری بائی پھُلے اور ڈاکٹر امبیڈکر کی طرح دلتوں اور دیگر محروم طبقات کے حقوق کے لیے ایک عظیم رہنما اور پیش رو تھے۔ ہمیں ان کی زندگی اور خدمات پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ ان کی جدوجہد کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں