پاکستان میں موجود اطالوی سفارتی عملہ بھی شاید یہ لرزہ خیز خبر پڑھ چکا ہوگا کہ اٹلی پلٹ ایک باپ نے ، اپنی بیوی کے ساتھ مل کر اپنی دو جوان بیٹیوں کو قتل کر دیا۔ ہاں، وہی بیٹیاں جو کبھی اس کے سینے سے لپٹ کر نیند میں کھو جاتی تھیں، وہی بچیاں جن کے رونے پر وہ بے چین ہو جایا کرتا تھا، آج اسی باپ نے اپنے ہی ہاتھوں اُن کے خواب ہمیشہ کے لیے ختم کر دیے۔
بائیس سالہ بڑی بیٹی نے صرف اتنا کیا کہ اپنی مرضی سے کورٹ میرج کر لی۔ اور بس یہی “جرم” اس کی جان لے گیا۔ چھوٹی بہن بھی اسی “سزا” کی حقدار ٹھہری، شاید اس لیے کہ وہ اس گھر کی بیٹی تھی جہاں بیٹی کا سانس بھی باپ کی مرضی سے چلنا چاہیے۔
یہ قتل کوئی جذباتی دھچکا نہیں تھا، یہ تو پوری تیاری کے ساتھ سوچا سمجھا منصوبہ تھا۔ پہلے ملزم باپ نے بنک سے بارہ لاکھ روپے نکلوائے، بیوی کو ساتھ لیا اور گھر سے نکل گیا جیسے کہ کوئی عام دن ہو، جیسے کوئی خوشی کی خریداری ہونے جا رہی ہو۔ لیکن گھر میں رہ جانے والی ان دو معصوم بیٹیوں کو شاید اندازہ بھی نہ ہو سکا کہ اُن کی زندگی کا آخری دن ہے، کہ وہ اس بے رحم دنیا کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہنے والی ہیں۔
پھر کہانی میں ایک اور ستم، باپ نے خود ہی مدعی بن کر پولیس کو بتایا کہ ڈاکو گھر میں گھسے، رقم لوٹی اور بیٹیوں کو قتل کر گئے۔ مگر پولیس نے جب سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے تفتیش کی، تو گاؤں میں اُس دن کسی ڈاکے کا کوئی ثبوت نہ ملا، نہ شور، نہ کوئی گواہ، نہ کوئی نشان۔ آخرکار پیسہ، یوروز سمیت سب کچھ برآمد ہو گیا، اور حقیقت بے نقاب ہو گئی۔
افسوس صد افسوس اُس سماج پر جہاں آج بھی “عزت” کا معیار بیٹی کی مرضی سے شادی ہے۔ جہاں بیٹیاں اپنی پسند سے جینے کی کوشش کریں تو اُن کی سانسوں کا حق چھین لیا جاتا ہے۔ اٹلی جیسے انسانی حقوق کے علمبردار معاشرے میں رہنے کے باوجود اگر کسی کا ضمیر اتنا مردہ ہو جائے کہ وہ بیٹی کی مسکراہٹ میں “ذلت” اور اُس کی آزادی میں “بدنامی” دیکھے، تو پھر ہم کس زمانے کے لوگ ہیں؟
باپ کا دعویٰ تھا کہ وہ چھوٹی بیٹی کا ایف ایس سی کا نتیجہ آنے پر اُس کی فرمائش پر تحفہ خریدنے گیا تھا۔ لیکن جس دکان کا وہ نام لے رہا تھا وہاں اُس کی کوئی سی سی ٹی وی ریکارڈنگ موجود نہیں۔ کیونکہ وہ تحفہ نہیں، شاید اپنی ہی بیٹی کے لیے موت خریدنے گیا تھا۔
۔۔۔ بابل ہوگیا تیرا کلیجہ ٹھنڈا۔۔۔
اب بچ گئی تیری عزت؟
اب کوئی نہیں مانگے گا تم سے کسی امتحان میں کامیابی کا تحفہ۔
اب کوئی بیٹی تمہارے سامنے اپنے خوابوں کی بات نہیں کرے گی۔
تم جیت گئے۔۔۔ اور انسانیت ہار گئی۔
اٹلی میں موجود دو لاکھ پاکستانی اس بات پر نالاں ہیں کہ اطالوی سفارت خانہ اسلام آباد میں ویزہ اپوائنٹمنٹس میں تاخیر کیوں کرتا ہے۔
میری دلی دعا ہے کہ یہ خبر کسی اطالوی سفیر تک نہ پہنچی ہو۔
میری تمنا ہے کہ اٹلی کے کسی چینل پر یہ خبر نہ چلے۔
لیکن کیا آج کے گلوبل ویلج میں یہ ممکن ہے؟
نہیں۔۔۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں