کس کس غم کا نوحہ لکھیں /ڈاکٹر نوید خالد تارڑ

ذرا تصور کریں۔

آپ دریا کی طوفانوں کے بیچ ایک مٹی کے ٹیلے پہ کھڑے ہیں۔ ساتھ آپ کی فیملی ، آپ کے بچے بھی ہیں۔ دریا کی موجیں دھاڑ رہی ہیں ، بچے رو رہے ہیں۔ آپ بے بسی سے کبھی بچوں کی طرف دیکھتے ہیں ، کبھی دریا کی  بے رحم موجوں کی طرف۔

امید زندہ ہے کہ شائد کوئی مدد آ جائے ، شائد کوئی بچانے آ جائے۔ ہم کسی جنگل میں تو نہیں، انسانوں کی اک بستی میں رہتے ہیں۔ اس بستی کی ہر ہر چیز پہ ٹیکس دیتے ہیں، کھانے پینے سے لے کر پہننے اوڑھنے تک۔ کیا بستی کے رکھوالے ہمیں بچانے کی کوشش نہیں کر سکتے۔

وقت گزرتا جا رہا ہے ، دریا کا پانی بلند ہوتا جا رہا ہے۔ ٹیلے پہ جگہ کم ہوتی جا رہی ہے۔ دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہو رہی ہیں، بے چینی بڑھ رہی ہے۔ لیکن کوئی مدد کو نہیں آ رہا۔۔۔۔۔

منٹ گزرے ، گھنٹہ گزرا ، گھنٹے سے بھی زائد وقت گزر گیا۔ ٹیلے پہ جگہ کم ہوتی جا رہی ہے، بچنے کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی ، خدا سے دعائیں مانگ رہے ہیں لیکن دریا کا زور بڑھتا جا رہا ہے ، پانی بلند ہوتا جا رہا ہے۔

اور پھر دریا پہلے فرد کو نگلتا ہے، آپ اپنے سامنے اپنے گھر کے فرد کو پانی میں ڈوبتا دیکھ رہے ہیں۔ وہ پانی میں ہاتھ پاؤں مارتا ڈوب رہا ہے ، مر رہا ہے اور آپ کچھ نہیں کر سکتے۔

یا خدا کوئی مدد بھیج دے ، یا خدا کہیں سے کوئی تو میری مدد کو آئے۔۔۔۔۔
لیکن کوئی نہیں آتا۔ پھر دوسرا فرد دریا کی موجوں کی نذر ہوتا ہے، پھر تیسرا۔۔۔ دل کٹ رہا ہے ، آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں ، آپ کے اپنے مر رہے ہیں اور آپ بےبسی سے دیکھتے رہنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔ آپ کے بچے رو رہے ہیں، ڈر کے مارے کانپ رہے ہیں لیکن آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ دور کنارے پہ کھڑے لوگ امدادی ٹیموں کو فون کر رہے ہیں، ریسکیو والوں کو بلا رہے ہیں لیکن کوئی نہیں آ رہا اور آپ کے اپنوں کو دریا کھائے جا رہا ہے۔

چوتھا فرد ، پانچواں فرد ، چھٹا فرد سب ڈوبتے جا رہے ہیں۔ کوئی حکومتی ادارہ حرکت میں نہیں آ رہا ، کوئی غیبی مدد نہیں آ رہی۔ گھر کے بچے کھچے لوگوں کو بھی پانی کھینچ رہا ہے۔۔۔

ذرا تصور کریں۔۔۔ اس تکلیف کا ، اس کرب کا جس سے وہ سب گزرے ، اس انتظار کی تکلیف کا جو ان سب نے دریا کی لہروں میں ڈوبنے سے پہلے سہی۔ ذرا تصور کر لیں کہ وہ سب کس اذیت سے گزرے۔ پھر پکڑیں اس حکومت کو گریبان سے کہ ایسے حادثوں سے بچنے کے لیے کوئی انتظامات کیوں نہیں کیے جاتے۔ امداد کے لیے بار بار بلانے کے باوجود فوری طور پہ کوئی بچانے کی کوشش کیوں نہیں کی جاتی ، ریسکیو ٹیمیں حرکت میں آنے میں اتنا وقت کیوں لیتی ہیں۔ ان کا تو کام ہی ایمرجنسی میں فوری طور پہ مدد کے لیے بھاگنا ہے۔

اگر یہ تصور کر سکیں تو پھر اس بیچارے خاندان پہ تیر چلانا بند کر دیں کہ وہ دریا کے پاس گیا کیوں، اس نے حفاظتی اقدامات کیوں نہیں اختیار کیے۔ یقیناً ان سے غلطی ہوئی ، بیوقوفی ہوئی لیکن کیا یہ وقت ان پہ انگلی اٹھانے کا ہے؟ کیا ان کی غلطی کی اتنی بڑی سزا بنتی ہے؟
میدانی علاقوں میں رہنے والے کہاں جانتے ہوتے ہیں کہ پہاڑی دریاؤں میں کون سی احتیاطی تدابیر ضروری ہیں ۔ ان بیچاروں کو قصوروار قرار دینے کے بجائے حکومت کی نااہلی کا رونا روئیں، ان بیچاروں کا تو اتنا نقصان ہو چکا کہ جس کا ازالہ ہی نہیں ہو سکتا۔ وہ تو اپنی غلطی کا خمیازہ بھگت چکے ہیں۔ حکومت کی غلطی کا خمیازہ کون بھگتے گا؟ حکومت کی نا اہلی کی سزا کسے ملے گی؟

کسی کو نہیں کیونکہ سارا مسئلہ ترجیحات کا ہے۔ ہمارے وطن میں انسانی جان کبھی ترجیحات میں رہی ہی نہیں۔ اس لیے دس پندرہ کیا درجنوں لوگ بھی مر جائیں تو کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔

یہاں بس نامور شخصیات کو ترجیح دی جاتی ہے، ان کی پوجا کی جاتی ہے ، ان کو ملک کے خزانوں پہ اختیار دیا جاتا ہے۔ عام آدمی اپنے گھر والوں کے ساتھ ، بچوں کے ساتھ دریائی طوفان کے بیچ میں دو گھنٹے بے یارو مددگار کھڑا رہے تو بھی کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا اور وہیں سب ڈوب مریں تو بھی کسی کے کان پہ جوں تک نہیں رینگتی۔

ایسا حادثہ نہ تو پہلی بار ہوا ہے اور نہ آخری بار۔ اس میں کچھ بھی نیا نہیں، یہ سب تسلسل سے بار بار ہو رہا ہے ، لوگ ہر سال ایسے ہی حادثات میں مر جاتے ہیں۔ کوہستان میں چار بھائیوں کا ایسا ہی حادثہ کون سا پرانی بات ہے۔ اُس حادثے کے بعد کسی کا کوئی بیان آیا تھا شرمندگی سے بھرا ؟

اِس حادثے کے بعد بھی نہیں آئے گا۔ ہم عام لوگ بس گنتی کا عدد ہیں، دو چار کم زیادہ ہو بھی جائیں تو ملک کے ٹھیکیداروں کے لیے اس بات کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔ کل پنڈی میں چلتی گاڑی پہ کھمبے کے گرنے سے جو دو لوگ مر گئے ان کے لیے کوئی تحقیق ہوئی کیا؟ وہ کھمبے کس نے لگائے تھے اور ان کی مضبوطی یا عام انسان کو ان کے گرنے سے ہونے والے نقصان سے بچانا کس کا کام تھا؟

ہمارے وطن میں انسانی جان کی وقعت کیڑے مکوڑوں سے بڑھ کر ہے ہی نہیں۔ جب چاہے ان پہ پاؤں رکھ کر انھیں کچل دیا جائے۔ دہشت گردی میں مارے جائیں ، ٹارگٹ کلنگ ہو جائے، سیلاب میں بہہ جائیں یا دریا میں ڈوب مریں ، عہدوں والے مار دیں، کوئی اٹھا کر لے جائے یا کسی امیر صاحب کے سامنے نظر اٹھا کر بات ہی کر لیں، ان کا مقدر ذلت اور موت ہی ہے اور دکھ یہ ہے کہ ایسا ہونا کوئی انہونی بھی نہیں ، معمول کی بات ہے۔ یہاں ہمارے مرنے جینے سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اپنی جان بچانی ہے تو خود بچائیے ، اپنی جان جلانی ہے تو خود جلائیے۔۔۔

رسا چغتائی نے لکھا تھا:
کب نہ جانے ابل پڑے چشمہ
کب یہ صحرا مجھے بہا لے جائے

julia rana solicitors

میں غریب الدیار میرا کیا
موج لے جائے یا ہوا لے جائے

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply