میں بی اے پاس صحافی۔۔ذیشان چانڈیہ

موجودہ دور میں صحافت ایسا شعبہ بن گیا ہے کہ دو ٹکے کے لوگ بھی اس پر تنقید کرنے سے باز نہیں آتے۔ آزادی صحافت کی خاطر کئی صحافی شہید ہوئے اور اپنی زندگیاں قربان کر دیں۔ صحافت کو لوگ اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں مگر حال ہی میں سچ بولنے پر کئی صحافیوں کو پابندی کا نشانہ بنایا گیا، بہت سوں  کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی گئی اور یہاں تک  کہ صحافی دو ٹکے کے  اور بی اے پاس ہیں، تک کہا گیا۔

کہنے والے حضرات کون سے ہیں ذرا آپ بھی  جان لیجیے۔۔

سوشل میڈیا کے وہ لوگ جو کسی مخصوص جماعت سے تعلق رکھتے ہیں اور کچھ حد تک سوشل میڈیا پر  اثر و رسوخ  رکھتے ہیں۔ ان کی تعلیم کے بارے میں پوچھو تو ابھی تک بمشکل چار یا پانچ سمسٹر پاس کیے  ہوں گے وہ بھی میڈیکل کے شعبے میں یا زراعت کے شعبے میں اور کچھ تو انٹر پاس ہیں جنہوں نے آگے پڑھنا نہیں صرف سوشل میڈیا کے ذریعے تنقید کرنی ہے۔

اس کے علاوہ وہ لوگ ہیں جو سیاسی جماعتوں کے ووٹرز ہیں یا پیسے لے کر سوشل میڈیا پر ٹرینڈ چلاتے ہیں۔ ان سب کے تنقید کرنے کی وجہ بھی ملاحظہ فرمائیں۔

ہمارے ہاں مسئلہ ہے برداشت کرنے کا جو کہ کسی کہ پاس نہیں ہے۔ دوسروں کی رائے کو سن نہیں سکتے اور نہ اس کو سوچ سکتے ہیں۔ حقیقتاً یہ وہ لوگ ہیں جو چاہتے ہیں ان کی مرضی کے مطابق لکھا جائے ، ان کی مرضی کے مطابق سوچا جائے اور ان کی پسندیدہ سیاسی جماعت کے خلاف کچھ نہ لکھا جائے اور عوام کو کڑوا سچ نہ دکھایا جائے۔ ملک کے نامور صحافیوں کے خلاف سوشل میڈیا پر ایک محاذ  کھڑا کر دیا جاتا ہے کہ انہوں نے ان کی پارٹی یا ان کی پسندیدہ شخصیت کے خلاف کوئی بات کیوں کی  ہے۔

 انٹر پاس بندہ تنقید کررہا ہوتا ہے ،ایک بیس سالہ تجربہ رکھنے والے اور پی ایچ ڈی کرنے والے  صحافی پر، کہ یہ بی اے پاس صحافی ہے ۔ اس کے علاوہ ان تمام صحافیوں کو اس بات پر نشانہ بنانا کہ یہ لوگ لفافہ لیتے ہیں۔ صحافیوں کی جائیداد کی چھان بین کرنا ان کے رہن صحن کھانے پینے پر نظر رکھنا اب ان لوگوں کی ایک عادت بن چُکی ہے ۔ جبکہ ان کو احتساب اپنی  پسندیدہ شخصیات کا کرنا چاہیے  جو انہی کے پیسے سے سبسڈی لے رہے ہیں۔ ان کی پسند اور نا پسند حکومت کو بھی اچھی لگتی ہے اور آج اس وجہ سے کئی صحافی اپنی نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔

سابقہ حکومتوں کے دور میں جو صحافی اچھے تھے اب وہ  بی اے پاس بن گئے ہیں اور لفافہ لیتے ہیں بقول پڑھے لکھے نوجوانوں کے۔ انہوں نے ہر اس صحافی کو غدار، بی اے پاس اور لفافہ کہنا ہے جس نے ان کی پسندیدہ شخصیت کے بارے میں یا سیاسی جماعت کے بارے سچ لکھا ہو اور ان کو آئینہ دکھانے کی کوشش کی ہو۔ میں تو دو ٹکےکے کچھ لوگوں کو بھی جانتا ہوں جو تنقید اس بات پر کرتے ہیں کہ صحافیوں کو سائنس کا کیوں نہیں پتا، ان کو فلاں چیز کا کیوں نہیں پتا اور میں خود سامنا کر چکا ہوں ایسے جاہلوں کا۔

یہ سخت الفاظ اس لئے استعمال کر رہاہوں کہ صحافی تو برداشت کر لیتے ہیں ان کے دیے ہوئے القابات مگر دیکھنا یہ ہے کہ ان کا ردعمل کیا آتا ہے۔ اس سچ کو پڑھنے کے بعد بھی وہی گالیاں اور غلط القابات تو پھر ان کا اللہ ہی حافظ ہے۔ ان کے کہنے کے  مطابق مان بھی لیا جائے کہ صحافی بی اے پاس ہیں یا لفافہ لیتے ہیں تو گزارش ہے کہ بھائی لے آؤ  وہ ثبوت سب کے سامنے تاکہ عوام کو سچ پتا چلے۔

آپ کو جس ٹرک کی بتی کے  پیچھے لگا دیا جاتا ہے اسی کے پیچھے لگ جاتے ہو۔ اب میں کچھ ایسے صحافیوں کے نام لینا چاہوں گا جو ان کی پسند کی نذر ہو گئے ہیں ۔ رؤف کلاسرا، میر شکیل الرحمن ، مطیع اللہ جان اور حامد میر صاحب جیسے تمام معزز صحافی ان میں شامل ہیں ۔ یہ وہ شخصیات ہیں جنہوں نے صحافت کو پروان چڑھایا مگر خود ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنتے رہے۔ میں سلام پیش کرتا ہوں صحافت کے عظیم شعبے کو اور تمام صحافیوں کو جو دو چار لوگوں کی وجہ سے ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنتے آئے ہیں۔

Zeeshan Chandia
Zeeshan Chandia
Zeeshan Chandia is the student of IR from Muslim Youth University Islamabad Zeeshanchandia05@gmail.com

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *