میں ایک خود-غرض عورت ہوں، اسے میری شخصیت کہہ لیں یا عادت کہ میں اپنے متعلق بہت سوچتی ہوں۔ اس عادت نے فائدے بھی کئی دیے ہیں البتہ نقصانات کو بھی سہنا پڑا ہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ میں نے آج تک جو بھی پڑھا اور لکھا ہے وہ صرف اپنی بہتری کے لئے۔ مجھے کبھی بھی دنیا یا لوگوں کو بدلنے میں کوئی دلچسپی نہیں رہی،لیکن ضروری نہیں کہ سب میری طرح ہوں۔ میری شخصیت کے متضاد شخصیت بھی ضروری ہے جنہیں دنیا یا انسانیت کو بدلنے میں دلچسپی ہوتی ہے، یونہی دنیا میں توازن قائم ہوتا ہے۔ اس بار میں نے سوچوں کو قابو کرنے کے متعلق کچھ سیکھا ہے جو میں آپ کے ساتھ شیئر کرتی چلوں گی۔
میرے کلائنٹ مجھ سے اکثر پوچھتے ہیں کہ اپنی سوچوں کو کیسے قابو میں کیا جاسکتا ہے خاص کر بن بلائے خیالات (intrusive thoughts) جو پریشان کن اور اضطراب میں لے جانے والے ہوں۔ یہ شکایت عموماً ان لوگوں کی جانب سے زیادہ موصول ہوتی ہے جنہیں او-سی-ڈی (Obsessive Compulsive Disorder) ہوتا ہے۔
ہم اکثر ایسے کلائنٹ کو مختلف تھراپی تجویز کرتے ہیں لیکن پھر بھی انکی شکایت رہتی ہے کہ ”انٹروسیو تھاٹس“ آتے ہیں، سوچیں آتی ہیں، انکو کیسے روکیں؟
او-سی-ڈی ہو یا کوئی بھی نفسیاتی بیماری، یا رویہ، یہ سب علامات ہوتی ہیں انکی گہرائی میں کافی کچھ دبا ہوتا ہے جو نفسیاتی بیماریوں اور رویوں کی وجہ بنتا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ زندگی میں کسی بھی مرحلہ پر آپ کو تلخ تجربات اور حالات سے گزرنا پڑا ہو جسے دماغ سمجھنے سے قاصر ہو، تب پھر اوور تھنکنگ (overthinking)، انزائٹی، لت یا پھر کسی رویہ کو بار بار دھرا کر دماغ ان تلخ تجربات اور حالات کو ضابطے (regulate) میں لانے کی کوشش کرتا ہے کیونکہ آپ نے اس صدمہ یا تلخ تجربے کو سمجھ کے اس سے منسلک منفی تجربات کو پراسس نہیں کیا، اکثر لوگ نظر جادو ٹونا پر اس لیے بھی یقین رکھتے ہیں کیونکہ انکے دماغ کے پاس وہ انفارمیشن اور ڈیٹا ہی نہیں جس سے وہ اپنے مسائل اور حالات کو سمجھ سکیں، جب منطق نہیں تو دماغ کہتا ہے نظر لگ گئی ہے یا پھر کوئی پراسرار جادو ہے کیونکہ دماغ کو ہر حال میں آپ کو جواب دے کر مطمئن کرنا ہے(ایسی باتیں لکھ کرسمجھانا بہت مشکل ہوتا ہے لیکن میں کوشش کرتی ہوں کہ آسان الفاظ میں بتا سکوں)۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیاسوچیں قابو کی جاسکتی ہیں؟ کیا یہ ممکن ہے؟ کیا کوئی میڈیٹیشن اس میں مدد کرسکتی ہے؟
میں نے بذاتِ خود بھی اپنی سوچوں کو قابو کرنے کے لیے کوئی میڈیٹیشن اور سائنسی و روحانی تکنیک نہیں چھوڑی، سب کو آزمایا ہے۔ میڈیٹیشن تو میں کافی عرصے سے کرتی آرہی ہوں لیکن منفی سوچیں آج تک آتی ہیں اور میڈیٹیشن کا یہ دعویٰ کہ ہم ”زیرو اسٹیٹ“ پر پہنچ جاتے ہیں یہ ابھی تک ممکن نہ ہوسکا میرے لیے۔
ایسا اس لیے ممکن نہیں ہوسکا کیونکہ ”زیرو اسٹیٹ“ میں جانا ممکن ہی نہیں، جو چیز ممکن ہی نہیں وہ بھلا کیسے حاصل ہو؟ یہ محض ہماری فینٹسی ہے کہ ہماری ساری منفی سوچیں گھل جائیں اور ہمارا ذہن خاموش ہوجائے۔ ذہن کبھی خاموش نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی مراقبہ بھی آپ کے ذہن کو خاموش نہیں کرسکتا۔ البتہ اس بات پر غور کرنا ضروری ہے کہ آپ کس قسم کا مواد سنتے اور دیکھتے ہیں، کیونکہ اسکا آپ کے ذہن پر اثر ہوتا ہے۔ پورن ،منفی سیاسی خبریں دیکھنے والے اور کتابیں پڑھنے والے ذہن میں یقیناً فرق ہوتا ہے۔
”ادویتا ویدانتا“ نام کا ایک فلسفہ ہے جو میڈیٹیشن یا کسی بھی روحانی پریکٹس کو نہیں مانتا بلکہ سقراط کے فلسفے کی طرح محض خود کو جاننے کی تلقین کرتا ہے۔ کیونکہ ویدانتا کے فلسفہ کے مطابق آپ اپنے ذہن کو قابو نہیں کرسکتے، آپ صرف ایک مبصر کی مانند خود-دریافت (self-inquiry) کرتے ہیں بنا کسی ججمنٹ کے، کیونکہ کچھ اچھا اور برا نہیں ہے، یہ آپ کی انا ہے جس کی مرضی سے معاملات طے ہوں تو اسے اچھا لگتا ہے مگر جیسے ہی حالات مرضی کے مطابق نہ ہوں تب برا محسوس ہوتا ہے، جبکہ درحقیقت کائنات کی رو سے دیکھیں تو آپ کی انا کو تسکین پہنچانے سے کائنات کو کوئی دلچسپی نہیں، جو بھی آپ کے ذہن میں آرہا ہے آپ اس کا خاموشی کے ساتھ مشاہدہ کرسکتے ہیں، وہ اچھا ہے یا برا، غلط ہے یا صحیح اسے محض رجسٹر کیجیے بلکل ویسے جیسے ٹی-وی کی اسکرین ہوتی ہے جہاں یہ نہیں ہوتا کہ ٹی-وی کو کوئی چینل پسند آئے اور وہ اس پر منجمند ہوجائے کہ مجھے تو اسی چینل کو چلانا ہے، چاہیے دیکھنے والے کو کچھ اور ہی کیوں نہ دیکھنا ہو۔ آپ کے ذہن میں سوال آئے گا کہ ٹی-وی اور انسان میں کوئی فرق نہیں کیا؟ بلکل فرق ہے، جذبات انا اور شعور کا، لیکن یہ فرق بھی آپ کے آگے کائنات کے قوانین کو جھکاتا نہیں، کائنات کے قوانین ہوں یا آپ کے جذبات، سب اپنی مرضی سے ایک سسٹم کے تحت کام کرتے ہیں اور اس کا مقصد آپ کی کبھی ناختم ہونے والی خواہشات کو عملی جامع پہنانا نہیں ہے، آپ ہیں یا نہیں، آپ تھے یا نہیں اس سے کائنات کے نظام پر ذرا برابر فرق نہیں پڑتا، ایسا ماننا ہے ادویتا ویدانتا کے فلسفے کا۔
آپ کا جسم اور ذہن دونوں ہی آپ کے قابو میں نہیں، آپ محض انکا خیال رکھ سکتے ہیں اور اس سے زیادہ انسان کے قابو میں کچھ بھی نہیں، کیونکہ اکثر کچھ لوگوں نے سگریٹ کو زندگی بھر ہاتھ تک نہیں لگایا ہوتا اور انہیں کینسر ہوجاتا ہے کیونکہ ہم اپنے جسم کو کنٹرول نہیں کرتے۔ کوئی ایسی پریکٹس موجود نہیں جو آپ کا ذہن یا سوچیں قابو کرسکے۔
تو اسکا یہ مطلب ہے کہ آپ بنا کسی پرواہ کے سگریٹ پینا شروع کردیں کہ کوئی فرق نہیں پڑتا؟
ہرگز نہیں! آپ اپنی صحت کا خیال رکھیں بنا نتیجہ پر اپنی نظریں جمائے کہ آپ کو کبھی کوئی بیماری نہیں لگے گی۔ یا پھر آپ کچھ ایسا کررہے ہیں جو بہت عظیم ہے، آپ نے اپنے ”عمل“ سے ”انا“ اور ”عظیم“ ہونے کے احساس کو الگ کردینا ہے، بقول ادویتا ویدانتا کے فلسفے کے۔
اب واپس سوچوں پر آتے ہیں کہ انکا کیا حل نکالا جاسکتا ہے؟
آپ محض خاموشی سے اپنی سوچوں کا مشاہدہ کرنا سیکھیں بنا یہ امید رکھے کہ ایک دن ایسا آئے گا جب آپ کا ذہن منفی یا برے خیالات کو سوچنا چھوڑ دے گا، یہ ہر گز ممکن نہیں۔ میڈیٹیشن کرنا اچھا ہے آپ چہل قدمی کرکے یا میڈیٹیشن کے ذریعے اپنے ذہن کو بھرپور ”آوارہ گردی“ کا موقع فراہم کرسکتے ہیں اور یہ اسکا پسندیدہ مشغلہ ہے، پروڈکٹوٹی (productivity) کا ایک اہم اصول ”ذہن کو آوارہ گردی“ کرنے دینا بھی ہے جہاں سے منفرد اور تخلیقی خیالات جنم لے سکتے ہیں۔ ذہن کا کام ہی سوچنا ہے، بس اسکی ہر سوچ کو سچ نہیں ماننا ہوتا۔
ذہن کوئی بے فضول کا آلہ نہیں جسے آپ نے خاموش کروانا ہے، بلکہ یہ رب العالمین کی جانب سے انسان کو ایک منفرد تحفہ ہے، ہمارا جسم بیشک دنیا میں قید رہنے پر پابند ہے لیکن ذہن کی کوئی حد نہیں۔ یہ ایک بہتر آلہ بھی ثابت ہوسکتا ہے ہمیں بتانے کے لیے کہ ہمارے اندر کی دنیا میں کیا جذبات چل رہے ہیں۔ ذہن ہمیں عدم یقینی کی صورتِ حال سے جھونجھ رہی دنیا میں اس بات کی امید دلاتا ہے کہ ’کل بہتر ہوگا‘، ’اچھے کل ‘ کی فینٹسی انسانوں کو اس لامحدود کائنات میں زندگی کا مقصد فراہم کرتی ہے، اسے اچھا مواد دینا اور اسکے ذریعے خود کو پرامید رکھنا جینے کا مقصد دے سکتا ہے۔
انسان بہت بےبس مخلوق ہے، دنیا پر حکومت کرنی ہے لیکن اپنے ذہن اور جسم پر ذرہ بھی اختیار نہیں۔ اس لیے یہ امید رکھنا کہ کسی دن دماغ میں ایک پرسکون خاموشی کا عالم راج کرے گا، ایسا صرف تب ممکن ہوتا ہے جب آپ کے دل کے بند ہونے کے تین منٹ بعد دماغ میں موجود سرکٹ ایک دھماکے سے بند ہوجاتے ہیں، تبھی ذہن بھی خاموش ہوجاتا ہے اور اس حالت کو موت کہتے ہیں۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں