میزبانِ رسول حضرت ابوایوب انصاریؓ/ڈاکٹر اظہر وحید

آج یہ فقیر استنبول میں ہے۔ بیٹے اور بہو سے ملاقات کے لیے دو ہفتوں کی سیر طے تھی۔ بیٹا عبدالرحیم اعوان استنبول سے تقریباً تین سو کلومیٹر مغرب کی جانب ترکی کے ساحلی شہر چناکلے میں مقیم ہے۔ پہلے سے طے تھا کہ ہم سب سے پہلے استنبول میں میزبانِ رسول حضرت ابوایوب انصاریؓ کی خدمتِ اقدس میں حاضری دیں گے اور پھر کہیں اور جائیں گے۔ چنانچہ یوں ہوا کہ ہماری سیاحت کا آغاز زیارت سے ہوا۔ سیاحت اور زیارت میں فرق ملحوظ رہے۔ سیاحت سنگ و خشت کی عمارات کی ہوتی ہے، زیارت جیتے جاگتے انسان کی ہوتی ہے۔ جن کے لیے شاہدین زندہ ہیں، ان کے مزارات پر حاضری زیارت کہلائے گی۔ جن کی فہم میں مر گئے، ان کے لیے اِن مزارات کی سیر محض سیاحت ہے۔ آنکھیں چہرے کی زیارت کرتی ہیں۔ اگر دل کی آنکھ کھلی رہے تو چہرے کا ظاہر میں نظر آنا ضروری نہیں۔ ’’ذرا گردن جھکائی دیکھ لی‘‘ کے مصداق وہ آج بھی زیارت سے مشرف ہوتے ہیں۔ کسی بھی سیر کو نکلتے ہوئے اپنے دل کی حالت نگاہ میں رکھنی چاہیے۔ اگر دل حالتِ غفلت میں ہے تو عین ممکن ہے حرمین شریفین کی حاضری سیاحت میں شمار ہو۔ حدیث سند رہے: لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا جب حج امراء کے لیے ایک سیاحت بن جائے گا، متوسط طبقے کے لیے ایک تجارت، علماء کے لیے ایک ریا، اور غرباء کے لیے بھیک کا ذریعہ بن جائے گا‘‘۔ گویا غافل کے لیے عبادت بھی ایک حجاب بن جاتی ہے۔ اسی لیے بزرگوں کا قول، مندرج کشف المحجوب، ہے: ’’علماء (علمائے ربانیین، عارفین) کے لیے نیند بھی عبادت ہے اور اور جہلاء کے لیے بیداری بھی معصیت ہے‘‘۔ مراد یہ ہے کہ عالم حالتِ نوم و منام میں بھی مکشوفات سے بہرہ ور ہوتا ہے اور اس کی معرفت میں ترقی ہوتی رہتی ہے، جبکہ جاہل اپنی بد علمی کی بنا پر عبادت کے طور پر بھی جو کام کرتا ہے، وہ معرفت کی بجائے معصیت پر منتج ہوتا ہے۔
معذرت، کہ فقیر کے ہاں واقعات سے نکل نظریات کی طرف مائل ہونے کی عادت پرانی ہے، واپس زمان و مکان کی طرف چلتے ہیں۔ ہم بتا رہے تھے کہ استنبول کی سیاحت میں ہمارا پہلا پڑاؤ حضرت ابوایوب انصاریؓ کے مزارِ اقدس کی زیارت پر ہوا۔ ترک لوگ بڑے فخر سے ذکر کرتے ہیں کہ ہمیں سعادت حاصل ہے کہ ہم آج کل میزبانِ رسول کی میزبانی کر رہے ہیں۔ ماننا پڑے گا، یہ لوگ بہت اچھے میزبان ہیں۔ یہاں اس مزارِ اقدس کے اردگرد بہت سا علاقہ انہوں نے ایک کمپلیکس کے طور پر بنا دیا ہے، یہاں تک کہ اس علاقے کے انتظام انصرام کے لیے انہوں نے حضرت ابوایوبؓ کے نام پر ایک بلدیہ (کارپوریشن) تشکیل دیدی ہے۔ یہ لوگ باادب لوگ ہیں۔ باادب بانصیب کے مصداق، تاریخ ان پر بہت
مہربان رہی ہے۔ از رہِ ادب یہ حضرت ابو ایوب انصاریؓ کو ’’سلطان ایوب‘‘ کہتے ہیں … اپنا سلطان، اپنا بادشاہ مانتے ہیں۔ ان کے مزار کے باہر ایک سنگِ مرمر میں ان کا تعارف یوں لکھا ہے: ’’استنبول کا معنوی فاتح سلطان ایوب‘‘۔ اگرچہ قسطنطنیہ ’’فاتح سلطان محمد‘‘ کے ہاتھوں 1453 میں فتح ہوا تھا، لیکن یہاں کے رہنے والے مانتے ہیں کہ اصل فاتح حضرت ابو ایوب انصاریؓ ہی ہیں۔ سلطنت عثمانیہ میں بادشاہوں کی تاجپوشی یہاں مزارِ اقدس پر ہوا کرتی جو اس عقیدت کی ترجمانی کرتی کہ ہمارے اصل بادشاہ حضرت ابوایوب انصاریؓ ہیں، تخت پر حکمران یہ بادشاہ اُنؓ کے ترجمان ہیں۔ سلطنتِ عثمانیہ کو خلافتِ عثمانیہ کہنا کس حد تک روا ہے، یہ ایک الگ بحث ہے، اور یہ کالمی صفحات اس بحث کے متحمل نہیں۔ یہاں فقط عقیدت کی بات ہو رہی ہے، حقیقت کی نہیں۔
یہاں پہنچ کر انکشاف ہوا کہ تاریخ جس شخصیت کو ’’ابوایوب انصاریؓ‘‘ کے نام سے جانتی ہے، ان کا اصل نام خالد بن زید ہے، ابوایوب ان کی کنیت ہے۔ انصارِ مدینہ کے قبیلہ ’’خزرج‘‘ کی شاخ ’’نجار‘‘ کہلاتی ہے، جو خزرج کے اشراف ہیں۔ یہاں نصب ایک عربی عبارت کا کتبہ بتاتا ہے کہ قبل از اسلام معروف عربی شاعر امراؤ القیس بھی اسی قبیلے سے تھا۔ یہ بنونجار ہیں جن کی بچیوں نے قبا کے مقامِ استقبال پر معروف قصیدہ ’’طلع البدر علینا‘‘ گایا اور اپنے قبیلے کا نام ہمیشہ کے لیے محفوظ کرا دیا۔ اس قصیدے کا ایک مصرع یوں ہے ’’ہم بنو نجار کی بیٹیاں ہیں‘‘۔
بنو نجار کی بیٹیاں ہوں یا بیٹے، محبتِ رسولؐ اور شجاعت و کردار میں اپنی مثال آپ ہیں۔ تاریخ کے اوراق گواہی دیتے ہیں۔ جب رسولِﷺ مدینہ منورہ میں تشریف لائے … اور آپؐ کے قدموں کی تاثیر سے یثرب (بیمارستان) کل عالم کے لیے شفا خانہ بنا … تو انصار میں سے ہر گھرانہ تمنائی تھا کہ آپؐ ان کے ہاں قیام فرمائیں۔ آپؐ نے یہ فیصلہ خدا پر چھوڑ دیا۔ فرمایا: میری یہ اونٹنی مامور من اللہ ہے، یہ جہاں ٹھہر جائے گی، وہی جگہ اللہ کی طرف سے میری جائے قیام ہو گی۔ مامور من اللہ، اللہ کے حکم سے مامور کو پہچانتا ہے۔ چنانچہ آپؐ کی سواری (قصویٰ) حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے گھر کے سامنے بیٹھ گئی۔ خوش بختی گھر میں داخل میں ہو گئی۔ ابتدا میں رسولِ کریمؐ نے پہلی منزل پر قیام فرمایا، کہ لوگوں نے ملاقات کے لیے حاضر ہونا ہے۔ ایک روایت کے مطابق حضرت ابو ایوب انصاریؓ کو سات ماہ تک میزبانی کا شرف حاصل رہا۔ سردیوں کے دن تھے، ایک مرتبہ اوپر کی منزل پر ایک پانی کا گھڑا ٹوٹ گیا۔ چھت پر پانی پھیل گیا۔ خوف غالب آیا کہ ایسا نہ ہو کہیں چھت سے پانی ٹپک پڑے اور سرکارِ دو عالمؐ مخل ہوں۔ چنانچہ اس خوف سے … سب بڑا خوف، محبت میں پایا جاتا ہے… محبوب کے ناراض ہونے کا خوف، سب سے بڑا خوف ہوتا ہے … خوفِ خدا کو اسی تناظر میں سمجھا جا سکتا ہے … میزبانِ رسول نے اپنی زوجہ امِ حسنؓ کے ہمراہ فوراً گھر میں موجود لحاف سے پانی کو سمیٹ لیا … لحاف پانی میں بھیگ گیا اور خالدؓ محبت میں۔ اسی طرح ایک مرتبہ خیال مانع ہوا کہ ہم چھت پر ہیں اور اللہ کے محبوبؐ نیچے تشریف فرما ہیں، یہ بے ادبی معلوم ہوتی ہے … ساری رات یہ میاں بیوی چھت کے کنارے پر لگ کر کھڑے ہو گئے۔ رسولِ کریمؐ نے ازاں بعد خود اوپر کی منزل پر رہائش اختیار کر لی اور میزبانوں کو نیچے بلا کر راحت دی۔ حضرت خالد بن زید خزرجیؓ کی شجاعت بھی سرمایہ اسلام ہے۔ ہر جہاد میں شامل تھے۔ جنگِ صفین اور خوارج کے خلاف جنگ میں حضرت علیؓ کے ہمراہ تھے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے کوفہ منتقل ہونے کے دوران میں آپؓ کو مدینہ میں اپنا نائب مقرر کیا۔ ایک مرتبہ آپؓ کو معلوم ہوا کہ مصر میں ایک شخص ہے جو رسولِ کریمؐ کی ایک ایسی حدیث بیان کرتا ہے جو پہلے بیان نہیں ہوئی۔ اس حدیث کی سماعت کے لیے مصر کا سفر کیا۔ انتہائی بڑھاپے میں بھی قسطنطنیہ کے خلاف لڑنے والی اسلامی فوج میں شامل ہوئے۔ لڑائی میں جب آپؓ پر ضعف ِ مرگ طاری ہوا تو پوچھا گیا کہ ہم آپؓ کی کیا خدمت کریں۔ فرمایا: میری چارپائی کو سواری پر لاد کر دشمن کی زمین کے اندر جہاں تک لے جا سکتے ہو، لے جاؤ، جہاں دم توڑ دوں، وہاں دفن کر دینا۔ چنانچہ قسطنطنیہ کے قلعے کی دیوار تک لے جایا گیا، اور وہیں آپؓ کو وصیت کے مطابق دفن کر دیا گیا۔ اہلِ شہر آپؓ کے مزار کے توسل سے بارش کی دعا کیا کرتے تھے، جو بارگہ اجابت میں قبول ہوتی۔
آج اس فقیر کو بارگہِ میزبانِ رسول میں حاضری کا اذن نصیب ہوا۔ یہ کالم احاطہ مزار میں بیٹھ کر مکمل کیا جا رہا ہے۔ ابھی ظہر کی اذان مسجد کے میناروں سے بلند ہوئی ہے۔ قسطنطنیہ (استنبول) کی مسجدوں سے بلند ہوتی ہوئی اذان کی آواز یہ بتا رہی کہ استنبول کے معنوی سلطان حضرت ابو ایوب انصاریؐ کی پیش قدمی سے یہ علاقہ ان کی فتح میں شامل ہو چکا ہے۔ تربت کے سامنے ایک ادھ کھلا دروازہ ہے۔ چشمِ تصور میں یہ قلمکار دیکھتا ہے کہ میزبان دربان بھی ہوتا ہے۔ ہر سائل کے لیے سب سے پہلے گھر کا میزبان ہی دروازہ کھولتا ہے۔ آج بھی ایک سائل دروازے پر کھڑا ہے، حضور … آپؓ سلطان ہیں، اپنے مہمان سے اس سائل کی سفارش فرما دیں، یہ ادھ کھلا دروازہ پورا کھول دیں۔ آپؓ کے ہاں ٹھہرنے والے مہمان تو عرش کے مہمان بھی ہیں … آپؓ سلطان ہیں، وہ سلطانِ زمانہﷺ ہیں۔ آپؓ کے ایک حرفِ سفارش سے میری صدیوں اور نسلوں کا بھلا ہو جائے گا۔ آپؓ سے دست بستہ گزارش ہے … کریمؐ کے میزبان بھی کریم ہوتے ہیں … کرم کی درخواست ہے۔ قبول فرما لیں!۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply