الیکٹرانک بہن اور بیٹی/یاسر جواد

مجھے یاد ہے کہ ایک دور میں فیس بُک پر آنے والے لوگ ASL یعنی ایج، سیکس، لوکیشن پوچھا کرتے تھے کیونکہ mIRC اور یاہو کے چیٹ رومز کے پروردہ تھے جہاں شناخت کے بغیر صرف الفاظ کی بنیاد پر تعلق ڈھونڈے جاتے۔ اُن دنوں میں یہ بھی سننے میں آتا کہ فلاں چیٹ کرنے والوں کی شناسائی ہوئی اور شادی کر لی۔ یہی سلسلہ فیس بُک پر بھی جاری رہا، مگر پچھلے چھے سات سالوں میں تقریباً ختم ہو گیا۔ اب یہ سٹاکنگ کے لیے بہترین ہے۔ رشتے یہاں اب بھی بنتے ہوں گے، لیکن ہر طرح کے۔
یہ درست کہ مرد حضرات عورتوں یا لڑکیوں کے ساتھ رشتے بنانے کی کوشش میں رہتے ہیں چاہے گلی محلے میں ہوں یا پھر سوشل میڈیا پر۔ لیکن یہ رشتے صرف ایک ہی قسم کے تو نہیں! یہ بھی تو عین ممکن ہے کہ آپ کو ایک بہن یا بیٹی جیسی دوست مل جائے! اِس میں توہین والی کوئی بات نہیں۔ مجھے ذاتی طور پر کئی دوستوں کے علاوہ ایک بہن سمیرا ملی ہے (اللہ اُسے ذہنی صحت دے)، بڑی اچھی خالہ بینا ملی، اور کل ایک اور بہت سلجھی ہوئی لڑکی نے بھی خود کو ’’بیٹی جیسا‘‘ کہا۔ یقیناً یہ رشتے فالتو یا توہین نہیں، بلکہ عزت افزائی ہیں۔ یہ بتاتے ہیں کہ خواتین آپ سے خطرہ محسوس نہیں کرتیں، اور اعتبار کرنا چاہتی ہیں۔
رشتے اور خاندان واحد ایسی چیز ہیں جن میں ہم یورپ سے آگے ہیں۔ میری ہنگری میں مقیم بیٹی بتاتی ہے کہ اُس کی ہنگریئن کلاس فیلوز یہ سن کر حیران ہوتی ہیں کہ وہ ماں باپ سے پیسے لیتی ہے۔ اُنھیں اپنے ماں اور باپ کی شناخت بھی پوری طرح نہیں ہے۔ کچھ صورتوں میں تو والدین نے جاکر عدالت میں درخواست دی کہ بچہ اب 18 سال کا ہو گیا ہے تو اُسے گھر سے نکالا جائے۔ ہمارے لبرل حضرات اپنے ازل سے غیر تکمیل شدہ سیکسی چسکوں کے چکر میں ہر قسم کی آزادی چاہتے مگر اپنی بیوی، بہو یا بیٹی کو پردے میں ہی رکھتے ہیں۔ اُن کی رگِ محبت پرائی ’’روشن خیال‘‘ خواتین پر ہی پھڑکتی ہے جس میں کوئی مضائقہ نہیں، مگر یہ دُہرا معیار ہے۔
بلاشبہ خاندان جبر کا ایک ادارہ ہے، یہ غیر جمہوری پن کی نرسری بھی ہے، یہ آپ کو کچل کر بھی رکھ دیتا ہے۔ لیکن انسانی معاشرے کی اکائی بھی ہے۔ اگر آپ ہم دردی یا ہم احساسی کا اطلاق اپنے قریب ترین لوگوں یعنی بچوں پر نہیں کر سکتے تو پھر انسان دوست کیسے بنیں گے؟ یہ میرے لیے ایک سوال ہے۔ اور سوال یہ بھی ہے کہ کیا ہم گوشت خوری اور بکرے ذبح کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے انسانوں اور عورتوں کو بھی گوشت ہی تو نہیں سمجھ رہے؟ چند دن پہلے بھی کچھ حضرات اسرائیل کی جنگ کے نتیجے میں ایران کی عورتوں کو چھوٹ ملنے کی اُمید میں بغلیں بجا رہے تھے۔ حالانکہ یہ چھوٹ سماجی عمل کے نتیجے میں ملتی ہے۔ اسرائیلی حملے جیسے واقعات بنیاد پرستی میں اضافہ کرتے ہیں۔

Facebook Comments

یاسر جواد
Encyclopedist, Translator, Author, Editor, Compiler.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply