قومیت پر فخر کرنے کی نفسیات/ندا اسحاق

انسانی ذہن کی ایک بہت ہی خوبصورت لیکن بیک وقت خطرناک بات ہے کہ یہ آپ کو حقیقت، دکھ اور درد سے بچانے کے لیے کئی جھوٹے قصے کہانیاں اور تصورات کو نہ صرف بنانے بلکہ اس پر ’یقین ‘ کروانے کی طاقت بھی رکھتا ہے۔ کیونکہ آپ کا ذہن نہیں چاہتا کہ آپ درد اور تکلیف سے گزریں تبھی بہت سے لوگ حقیقت سے بھاگتے ہیں۔ حقیقت کا سامنا کرنے کے لیے ہمیں اپنے دماغ کا منطق والا حصہ استعمال کرنا پڑتا ہے اور خود کو پریکٹس کروانی پڑتی ہے سچ کو دیکھنے کی اور یہ عمل ہمارے لیے فطری نہیں۔

کچھ روز پہلے میری ایک کلائنٹ جو کہ سید فیملی سے ہیں، نے ایک بہت اچھی بات کہی کہ انہیں اس بات سے اعتراض ہوتا ہے جب لوگ اپنی زبان، ذات یا مسلک پر فخر کرتے ہیں، برتر سمجھتے ہیں، جبکہ انکا یہ ماننا ہے کہ فخر اس بات یا کام پر ہونا چاہیے جسے حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کی ہو، نہ کہ وہ جو آپ کو بنا آپ کی رضا کے مل گیا ہو۔ آپ کے والدین، ذات، ملک، ثقافت، زبان اس میں سے کچھ بھی آپ خودنہیں چنتے اس لیے اس پر فخر کرنے کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔

لیکن کیوں کچھ لوگ اپنی زبان، ذات یا فرقے پر بہت فخر کرتے ہیں؟

جیسا کہ میں نے کہا کہ انسان کا ذہن بہت مہارت سے حقیقت کو نظر انداز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تبھی آپ کی زندگی میں اگر کچھ حقائق بہت کڑوے ہوں تو اس سے پیدا ہونے والی کڑواہٹ کا رخ ذہن بہت باریکی سے ان معاملات کی جانب کردیتا ہے جنکا آپ کی زندگی کی حقیقت سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ جیسا کہ دوسروں کی زبان اور ثقافت کو کمتر جبکہ اپنی ثقافت کو برتر سمجھنا۔ یا پھر اپنی ثقافت کو برتر سمجھنا بنا کسی کی ثقافت کو کمتر سمجھتے ہوئے یا پھر کسی سیاسی نظریہ کے ساتھ جذباتی طور پر جڑ جانا۔

مثال کے طور پر آپ کی زندگی میں مسائل ہیں، خالی پن ہے، والدین کو ہمیشہ جھگڑتے دیکھا، گھر میں کوئی آپ پر توجہ نہیں دیتا، مالی حالات بھی کچھ بہتر نہیں، مستقبل بھی تاریک نظر آتا ہے، ایسے میں جب ایک انسان کے پاس اپنے مسائل کی سمجھ، ذہنی وضاحت (mental clarity) اور انکا حل نہ ہو تو اپنی محدود سمجھ اور ذہن کے پاس موجود ڈیٹا کی بنیاد پر وہ اپنی سوچ کسی بھی نظریہ کی جانب موڑ لیتا ہے جیسا کہ ”میری زبان برتر ہے، یا فلاں نظریہ ہی سب مسائل کی جڑ ہے، فلاں قوم سے تعلق رکھنے والے ہمارے دشمن ہیں وغیرہ وغیرہ“۔

ذہن نہیں چاہتا یا پھر زیادہ تر ذہن کے پاس وہ صلاحیت اور ڈیٹا ہی نہیں ہوتا جس کی مدد سے وہ آپ کو حقیقت دیکھنے، سمجھنے اور قبول کرنے میں مدد کرسکے، یہی وجہ ہے کہ لوگ کتابیں پڑھ کر، مشورہ کرکے، وڈیوز دیکھ کر ذہن کو ڈیٹا دیتے ہیں تاکہ اپنے مسائل کو سمجھ سکیں۔ میرے ایک استاد جو ایک بہت ہی عام فیملی سے آتے ہیں، اور تب وہ بہت شدت پسند تھے اپنی زبان اور قومیت کو لے کر۔لیکن انہوں نے اپنی زندگی میں کافی کچھ حاصل کیا، جب وہ اس مقام پر پہنچے جہاں انہیں مختلف حقیقتیں دیکھنے کو ملیں، کئی لوگوں سے ملے تو ان کے الفاظ تھے کہ طاقت کا حصول، بزنس اور منافع کے وقت کوئی قومیت یا زبان نہیں ہوتی۔

دنیا کی کوئی ثقافت یا زبان کسی پر برتر نہیں، البتہ ہر زبان اور ثقافت میں جتنا صحت مندانہ اور آزادانہ سوچ کو اپنایا جائے گا اتنا ہی اس ثقافت سے منسلک قوم ترقی کرتی ہے اور اسی سے انکی ذہانت اور دانشوری بھی وجود میں آتی ہے۔ لیکن ہر ثقافت سارے مرض کی دوا نہیں ہوسکتی، خامیاں ہر چیز میں ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر ہمارے یہاں میمن قوم بزنس پر توجہ دیتی ہے اس حساب سے انہوں نے بزنس کا جو کلچر بنایا ہے وہ بہت بہتر ہے لیکن ضروری نہیں کہ انکے بچوں میں دانشوری یا تخلیقی صلاحتیں بھی ہوں۔ بلکل اسی طرح ہندو مذہب میں برہمن ذات سے تعلق رکھنے والوں کا طرزِ زندگی بہت منفرد ہوتا ہے باقی ذاتوں کی نسبت، ان میں ذہانت، نظم و ضبط، موسیقی، پڑھنے لکھنے کی صلاحیت اور دانشوری پائی جاتی ہے جو انہیں نسل در نسل اپنے آباء واجداد سے ملی، لیکن ضروری نہیں کہ وہ بزنس کو سمجھ پائیں۔ اونچی ذاتیں ہوں یا ثقافت، جس قسم کی عادات، رویے، سوچ، طرزِ زندگی کو کوئی ثقافت ترجیح دیتی ہے ویسے اس قوم کے لوگ بننے لگتے ہیں۔

نیوروسائنسدان اور سائیکالوجسٹ لیزا فلڈ مین بیرٹ اپنی تحقیق کی بنیاد پر کہتی ہیں کہ ”جذبات“ کے اظہار کا تعلق ثقافت سے بھی ہوتا ہے۔ ہر ثقافت میں غصے کی شدت اور اس کے اظہار میں باقاعدہ فرق دیکھا جاسکتا ہے۔

زبان اور ثقافت کا انتخاب آپ خود نہیں کرتے، اس لیے ان سے جذباتی لگاؤ لگانے کی بجائے اس بات پر غور کریں کہ آپ کی ثقافت آپ کو کہاں محدود کررہی ہے اور کہاں آپ کو فائدہ حاصل ہوا کیونکہ کچھ عادات آپ کو آپ کے معاشرے سے ملی ہونگی۔ مثال کے طور پر اسلام مذہب میں شراب کو حرام قرار دیا گیا ہے، ہمارے پاکستانی معاشرے میں بھی اسکو بری نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ عیسائی معاشرے اور لبرل انڈیا میں شراب کی لت کتنی فیملیز کا سکون اور مستقبل برباد کردیتی ہے، ہمارے یہاں لوگ بیشک چھپ چھپا کر پیتے ہونگے، لیکن کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو مذہب پر ایمان اور اس سے لگاؤ کی بنیاد پر اسکو ہاتھ تک نہیں لگاتے اور اسکی لت لگنے سے بچ جاتے ہیں۔

بلکل ایسے ہی کسی ثقافت کے کئی اصول و ضوابط جو صحت مندانہ ہوں وہ نسل در نسل منتقل ہوکر اکثر فائدہ دے جاتے ہیں۔ ثقافت ملک، قوم اور آپ کے اپنے گھر کی بھی ہوتی ہے، آپ کو تینوں لیول پر غور کرنا چاہیے کہ کس لیول پر آپ ایسے اصولوں پر عمل پیرا ہیں جسکا موجودہ وقت اور جدید دنیا سے کوئی سروکار نہیں۔

julia rana solicitors

فخر کرنا ہے تو کسی ایسی بات پر کیجیے جسے حاصل کرنے کے لیے آپ نے جدوجہد کی ہو، نہ کہ آپ کے قوم اور زبان جس کو چننے کا اختیار آپ کے پاس تھا ہی نہیں۔ اور اپنے غصے کی تہہ میں دبے خوف کا سامنا کیجیے نہ کہ اس کا رخ اپنی یا کسی قوم و زبان کی جانب کرکے اپنے مسائل سے اپنا دھیان ہٹائیے.

Facebook Comments

ندا اسحاق
سائیکو تھیراپسٹ ،مصنفہ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply