عالمی سیاست کا دھارا اور پاکستان کی سمت / فیضان سجاد

دنیا اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے مابین کشیدگی، یوکرین و روس تنازعے کی سلگتی چنگاریاں، اور عالمی بلاکس میں نئی صف بندیاں ایک نیا جغرافیائی منظرنامہ تشکیل دے رہی ہیں۔ ایسے میں اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ پاکستان نواز بیانات کو سنجیدگی سے لیا جائے تو بظاہر یہ الفاظ شیرینی میں لپٹے نظر آتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ حلاوت کسی بہتر تعلقات کی نوید ہے یا کسی نئے طوفان کا پیش خیمہ
ٹرمپ کی سیاسی لغت میں نرمی ایک نایاب شے سمجھی جاتی ہے۔ ایسے میں اگر وہ پاکستان کے حق میں نرم گوئی اختیار کر رہے ہیں تو اس کے محرکات صرف خوش بیانی نہیں ہو سکتے۔ یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت ان دنوں امریکہ کے دورے پر ہے اور یہ دورہ ایسے وقت پر ہو رہا ہے جب دنیا ایک نئی سرد جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس تناظر میں یہ دورہ محض سفارتی نہیں بلکہ ایک Strategic موڑ قرار دیا جا سکتا ہے۔
پاکستان دراصل دو کشتیوں کا سوار ہے مگر اب سے طے کرنا ہے کہ کیا وہ امریکہ کے زیر قیادت مغربی بلاک کے ساتھ چلے یا چین کے زیر اثر مشرقی بلاک میں اپنی جگہ مستحکم کرے؟ دونوں راستوں میں فوائد بھی ہیں اور خطرات بھی۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات ماضی میں معاشی اور عسکری تعاون کا ذریعہ رہے، مگر چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات نے پاکستان کو انفراسٹرکچر، توانائی اور سرمایہ کاری کے میدان میں نئے امکانات دیے ہیں۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) اور سی پیک (CPEC) جیسے منصوبے صرف ترقی کے خواب نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی نظریاتی کشمکش کے عملی میدان بھی بن چکے ہیں۔
پاکستانی قوم کی ایک امتیازی خوبی یہ ہے کہ وہ “Blessing in Disguise” کے اصول کو خوب سمجھتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ سخت ترین عالمی حالات میں بھی پاکستان نے ایسے مواقع کشید کیے جو بظاہر ناممکن دکھائی دیتے تھے۔ چاہے وہ افغان جنگ ہو یا عالمی دہشتگردی کے خلاف جنگ، پاکستان نے اپنا کردار ہمیشہ ایک اہم کھلاڑی کے طور پر نبھایا ہے چاہے قیمت کچھ بھی ہو۔
موجودہ صورتحال میں پاکستان کو نہایت ہوشیاری، حکمت، اور بالغ نظری کے ساتھ عالمی بساط پر اپنی چالیں چلنا ہوں گی۔ نہ تو اندھا دھند کسی بلاک میں شامل ہونا دانشمندی ہے اور نہ ہی مکمل غیرجانبداری ممکن۔ اصل چیلنج یہی ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری، معیشت، اور قومی سلامتی کو اولین ترجیح دیتے ہوئے متوازن پالیسی اپنائے۔ ایک متحرک، خود اعتماد اور دور اندیش قیادت ہی اس ہنگامہ خیز دور میں ملک کو صحیح سمت میں لے جا سکتی ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ وقت صرف سفارتی چابک دستی کا نہیں بلکہ قومی مفاد پر مبنی Strategic Neutrality اختیار کرنے کا ہے ایک ایسی Neutrality جو نہ صرف خطرات کو کم کرے بلکہ مواقع کے در بھی وا کرے۔

Facebook Comments

فیضان سجاد
میں نیلم ویلی کشمیر سے تعلق رکھتا ہوں اور لندن میں رہتا ہوں، عالمی و مقامی کرنٹ افیئرز اور سیاسی منظر نامے پر تجزیہ کرتا ہوں اور ریشنلسٹ ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply