چاروں صوبوں کی زنجیر بے نظیر بھٹو کی سیاست کا 30 سالہ سفر پاکستان کی سیاست کا ہر حوالے سے یادگار باب ہے -ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی صاحبزادی بے نظیر بھٹو دونوں ہی تاریخ ساز شخصیات تھیں-
پاکستان کی سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو نے 1993 میں پیانگ یانگ کے دورے کے بعد شمالی کوریا سے طویل فاصلے تک مار کرنے والی میزائل ٹیکنالوجی حاصل کی-
محترمہ بے نظیر بھٹو نے پاکستان کو جدید ترین پاکستان بنانے کے لیے جو کاوشیں کی جدید ترین ٹیکنالوجی انٹرنیٹ موبائل فون اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لیے جو کاوشیں کی وہ خراج تحسین کے لائق ہے-ان کی تفصیل نیچے موجود ہے
1993 SDNPK نے کراچی، لاہور اور اسلام آباد سے ڈائل اپ ای میل سروسز کا آغاز کیا۔
1995 Digicom نے 64 kbps کے براہ راست سیٹلائٹ SCPC بیک بون لنک کا استعمال کرتے ہوئے کراچی میں آن لائن ڈائل اپ سروسز کا آغاز کیا۔
1995 Paknet، جو کہ ریاستی ملکیت میں آنے والی ایک ذیلی کمپنی ہے، PTCL نے کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں ڈائل اپ ٹیکسٹ بیسڈ انٹرنیٹ سروسز شروع کیں۔
1996 پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) قائم ہوئی۔
1996 پاک نیٹ نے ڈائل اپ گرافکس پر مبنی انٹرنیٹ کی پیشکش شروع کی،
کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں رفتار 14.4 سے 28.8 kbps
1996 COMSATS نے کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں ISP کا آغاز کیا، رفتار 28.8 kbps
1996 ڈائل اپ انٹرنیٹ کی قیمت @ روپے۔ 100 فی گھنٹہ
انٹرنیٹ بین الاقوامی USENET نیوز گروپس کی شکل میں، پاکستان میں 1993 میں متعارف کرایا گیا تھا۔ تعلیم اور دیگر شعبوں سے متعلق۔ یہ اسٹور اور فارورڈ ای میل سروسز سروس فراہم کرنے والوں کے ذریعہ بائٹس سائز پر وصول کی گئیں۔ جیسے کراچی، لاہور اور پشاور۔
انٹرنیٹ 1993 میں UNDP کے فنڈ سے چلنے والے پروجیکٹ کے طور پر آیا جسے SDNPK بھی کہا جاتا ہے جسے ‘Sustainable Development Networking Program’ بھی کہا جاتا ہے، 1995 میں Digicom نے کراچی، لاہور اور اسلام آباد سے ایک آن لائن ڈائل اپ سروس شروع کی جس کی ڈاؤن لوڈ کی رفتار 64 تھی۔ کیپس
یہ وہی سال تھا جب ملک میں براڈ بینڈ کا تصور متعارف کرایا گیا تھا۔ اسی سال، پاک نیٹ، جو کہ سرکاری پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (PTCL) کا ذیلی ادارہ تھا، نے ملک کے تین بڑے شہروں میں اپنی ڈائل اپ ٹیکسٹ پر مبنی انٹرنیٹ خدمات پیش کیں۔
پی ٹی سی ایل کے بعد، پاکستان کے شہریوں کو پہلے نجی انٹرنیٹ سروس پرووائیڈرز (ISPs) کے طور پر COMSATS اور Cybernet جیسے ناموں سے متعارف کرایا گیا۔
موبائل ٹیلی کمیونیکیشن۔ Instaphone اور Paktel 1990 کے دوران پاکستان میں موبائل کمیونیکیشن ۔
1994 کے ٹیلی کمیونیکیشن آرڈیننس نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA)، پاکستان کا پہلا خودمختار ٹیلی کمیونیکیشن ریگولیٹر، اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (PTCL)، جو کہ ایک سرکاری اجارہ داری ہے، تشکیل دیا۔
1993 سے 1997 تک 5773 میگا واٹ بجلی پیداوار کر کے ضیا کی15 سال سے پیدا کی ہوہی لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کیا۔اورآئندہ کے لیے بھی لوڈ شیڈنگ کے خاتمہ کی بنیاد رکھی اور اگر نواز شریف ان منصوبوں کو نہ ختم کرتا تو پاکستان میں لوڈ شیڈنگ نہ ہوتی اس کے باوجود 2004 تک پاکستانیوں نے لوڈ شیڈنگ کی شکل نہیں دیکھی۔ بجلی کے نر خ بھی 5.7 سینٹ فی کلو واٹ پر ۔ آج ڈالر بلند ترین سطح پر 280 روپے اوسط پر ہے اس کے باوجود 15.96 روپے فی یونٹ پیداواری لاگت ہوتی جو بہت کم تھی ۔ بڑے منصوبے حبکو پاور پلانٹ 1300 میگا واٹ اور کیپکو پاور پلانٹ 1600 میگاواٹ اربوں ڈالر کی غیرملکی سرمایا کاری کی بدولت ۔1992 میں پاکستان میں کل بجلی کی پیداوار 9338 میگاواٹ جو 3 سالوں میں پیپلز پارٹی کی پاور پالیسی کی بدولت 1997 تک 5773 میگاواٹ اضافے کے ساتھ 15111 میگاواٹ تک بجلی کی پیداوار پہنچ گئ ۔
پاکستان کو جدید بنانے اور دنیا کے قریب صرف ایک کال کے فاصلے پر لانے محترمہ بے نظیر بھٹوکی جدید سوچ اور پالیسیوں کا قلیدی کردار تھا
SOURCE:NEPRA
PTA
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں