ایک روپیہ صدقہ کئی زندگیوں کا سہارا/حسنین نثار

اسلام ایک ایسا مکمل ضابطہ حیات ہے جو انسان کو انفرادی، معاشرتی، اخلاقی، روحانی اور معاشی ہر پہلو سے راہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس دین میں ہر وہ کام پسندیدہ ہے جو کسی دوسرے انسان کے لیے بھلائی، سہولت، یا فائدہ کا سبب بنے۔ انہی عظیم کاموں میں ایک اہم ترین عمل “صدقات و خیرات” ہے، جو نہ صرف ایک دینی فریضہ ہے بلکہ ایک ایسا عمل بھی ہے جو کسی بھی معاشرے کی فلاح، خوشحالی اور اخوت و بھائی چارے کی بنیاد بن سکتا ہے۔
صدقات و خیرات کا مفہوم صرف اتنا نہیں کہ کسی غریب کو پیسے دے دیے جائیں بلکہ یہ ایک وسیع تر تصور ہے جو اپنے اندر ہمدردی، محبت، ایثار، قربانی اور سماجی انصاف جیسے اعلیٰ اوصاف کو سموئے ہوئے ہے۔ جب کوئی شخص اپنے مال میں سے کچھ حصہ اللہ کی رضا کے لیے دوسروں پر خرچ کرتا ہے تو وہ درحقیقت ایک ایسی بنیاد رکھتا ہے جس پر ایک مستحکم، ہمدرد، اور انسان دوست معاشرہ تعمیر ہو سکتا ہے۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق، مال اللہ کی امانت ہے، اور ہر صاحبِ استطاعت فرد پر لازم ہے کہ وہ اپنے مال کا ایک حصہ صدقہ و خیرات کے ذریعے ان لوگوں تک پہنچائے جو کسی مشکل، بیماری، تنگدستی یا بے سہارگی کا شکار ہوں۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر صدقہ و خیرات دینے والوں کی تعریف کی گئی ہے اور انہیں جنت کی خوشخبری سنائی گئی ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا کہ “صدقہ برائی کو بجھا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھاتا ہے۔” یہ قول صرف روحانی لحاظ سے نہیں بلکہ معاشرتی سطح پر بھی اپنی گہری معنویت رکھتا ہے۔
ایک ایسا معاشرہ جہاں صاحبِ ثروت لوگ دل کھول کر غرباء، مساکین، یتیموں، بیواؤں اور مجبوروں کی مدد کرتے ہوں، وہاں نہ صرف بھوک، بیماری اور بے گھری جیسے مسائل کم ہوتے ہیں بلکہ دلوں میں قربت، اعتماد اور اخوت بھی فروغ پاتی ہے۔ صدقات و خیرات نہ صرف معاشی توازن قائم کرتے ہیں بلکہ طبقات کے درمیان حائل خلیج کو بھی کم کرتے ہیں۔ ایک غریب جب دیکھتا ہے کہ معاشرے کے افراد اس کی مدد کو تیار ہیں، تو اس کے دل میں احساسِ محرومی اور نفرت کے بجائے امید اور محبت جنم لیتی ہے۔
صدقات کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ یہ دینے والے کے دل میں عاجزی اور شکر کا جذبہ پیدا کرتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ اس کے پاس ہے وہ سب اللہ کی عطا ہے اور جب وہ اسے دوسروں کے لیے خرچ کرتا ہے تو گویا وہ اپنے رب کا شکر ادا کر رہا ہوتا ہے۔ دوسری طرف، لینے والے کو بھی عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع ملتا ہے۔ اسلام میں صدقہ اس انداز میں دینے کی تلقین کی گئی ہے کہ لینے والے کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو، اور یہی رویہ ایک اعلیٰ اسلامی معاشرے کی بنیاد ہے۔
آج جب ہم دنیا کے مختلف معاشروں میں غربت، بے روزگاری، بھوک، اور بدامنی جیسے مسائل کو بڑھتا دیکھتے ہیں تو ہمیں سمجھ آتی ہے کہ اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ تقسیم کی غیر منصفانہ پالیسی ہے۔ اسلام کی سادگی اور معاشرتی مساوات پر مبنی معاشی نظام اگر دنیا بھر میں نافذ کیا جائے تو یہ بآسانی ان مسائل کا حل بن سکتا ہے۔ صدقات و خیرات صرف دولت مندوں پر بوجھ نہیں بلکہ معاشرے کے ہر فرد کو خیر کے کاموں میں حصہ لینے کی دعوت دیتے ہیں۔ کسی کی مسکراہٹ، کسی کو پانی پلانا، کسی کو راستہ دکھانا، ان سب کو بھی نبی ﷺ نے صدقہ قرار دیا ہے۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ صدقہ صرف فلاحی اداروں تک محدود نہ ہو بلکہ خاندان، محلے، اور اردگرد کے غریب رشتہ داروں یا ہمسایوں کو بھی اس میں شامل کیا جائے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ بہترین صدقہ وہ ہے جو اپنے قریبی رشتہ داروں پر کیا جائے۔ یہ عمل نہ صرف خاندانی رشتوں کو مضبوط کرتا ہے بلکہ معاشرے میں احساسِ یکجائی اور محبت کو بھی بڑھاتا ہے۔
صدقات و خیرات کا کردار کسی قوم کی ترقی میں اتنا ہی اہم ہے جتنا کسی حکومت کی پالیسیز۔ حکومت اگر چاہے بھی تو تمام مستحقین تک نہیں پہنچ سکتی، لیکن اگر ہر فرد یہ ذمہ داری محسوس کرے کہ اس کے اردگرد کوئی بھوکا نہ سوئے، کوئی بیمار دوا کے بغیر نہ مرے، کوئی یتیم تعلیم سے محروم نہ رہے، تو یہ معاشرہ دنیا کا مثالی معاشرہ بن سکتا ہے۔
مزید یہ کہ صدقات و خیرات صرف دنیاوی فلاح کے لیے نہیں بلکہ آخرت کی کامیابی کا بھی ذریعہ ہیں۔ یہ وہ عمل ہے جس کا اجر دنیا میں بھی ملتا ہے اور آخرت میں بھی۔ یہ برکت کا سبب بنتا ہے، مصیبتوں کی ڈھال بنتا ہے، اور زندگی میں سکون و اطمینان عطا کرتا ہے۔ جو لوگ دل کھول کر اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں دنیا میں بھی نوازتا ہے اور آخرت میں بھی ان کے لیے بہترین درجات رکھتا ہے۔
لہٰذا، ہمیں چاہیے کہ ہم نہ صرف خود صدقات و خیرات میں حصہ لیں بلکہ دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیں۔ اپنے بچوں کو اس کی تربیت دیں، معاشرے میں اس کا شعور پیدا کریں، اور اس عمل کو اپنا معمول بنائیں۔ یہی ایک ایسا راستہ ہے جو معاشرتی عدل، محبت، فلاح اور بھائی چارے کا ذریعہ بن سکتا ہے، اور ہمیں ایک مثالی اسلامی معاشرے کی طرف لے جا سکتا ہے جہاں ہر فرد دوسرے کا خیر خواہ ہو

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply