لازمی تعلیم : بچوں پر لازم ہونی چاہیے یا ریاست پر؟-وحید مراد

جب ہم لازمی تعلیم کی بات کرتے ہیں تو بظاہر یہ ایک مہذب، مساوات پر مبنی اور ترقی پسند خیال معلوم ہوتا ہے۔ لیکن جیسے ہی ہم اس تصور کے تہہ میں جھانکتے ہیں کچھ بنیادی سوالات سر اُٹھاتے ہیں۔ اگر تعلیم واقعی انسانی فطرت کا حصہ ہے تو پھر اسے قانون، ضابطے اور جبر کے ذریعے نافذ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کیا کوئی فطری عمل جیسے سانس لینا، محسوس کرنا یا بولنا کبھی ریاستی حکم یا قانونی تعمیل کا محتاج ہوتا ہے؟ اگر علم ایک اندرونی جستجو ہے، ایک تخلیقی پیاس ہے تو پھر اسے زبردستی سکھانا، دراصل اس پیاس کو بجھانے کے بجائے دبا دینے کے مترادف نہیں؟ کیا یہ لازمیت خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ ہمارا تعلیمی نظام فطری تعلیم کے بجائے مصنوعی اطاعت پیدا کر رہا ہے؟
اصل مسئلہ تعلیم سے نہیں اس کی موجودہ شکل سے ہے۔ آج کی تعلیم ادارہ جاتی جبر کا نمونہ بن چکی ہے۔ یہ یکسانیت، بیزاری اور ذہنی دباؤ کے علاوہ کچھ نہیں ۔ یہ نہ آزادی دیتی ہے، نہ شوق جگاتی ہے، نہ تخلیق کو جِلا بخشتی ہے۔ جب بچے پر غیر فطری نصاب تھوپا جاتا ہے تو وہ محض نمبر حاصل کرنے کا ہنر سیکھتا ہے یا سیکھنے سے ہی کنارہ کش ہو جاتا ہے۔ تعلیم کو ہم نے کتابوں، گریڈز اور اسناد کی قید میں بند کر کے زندگی سے کاٹ دیا ہے۔
بچے فطرتاً متنوع ہوتے ہیں مگر ہمارا نظام سب کو ایک ہی سانچے میں ڈھالنا چاہتا ہے۔ جو بچے اس سانچے میں فٹ نہیں آتے انہیں ناکام سمجھا جاتا ہے حالانکہ وہ صرف “نظام سے غیر مربوط” ہوتے ہیں۔ جب تعلیم دباؤ، سزا اور جزا کے خوف سے دی جائے تو علم کا جذبہ مر جاتا ہے اور انسان اندر سے کھوکھلا ہو جاتا ہے۔ یہی نظام اور نصاب ایک خاص سیاسی و سماجی بیانیہ بھی مسلط کرتا ہے۔یہ تخلیق، اختلاف اور خودی کو کچلتا ہے تاکہ ایسے شہری تیار ہوں جو حکم مانیں، سوال نہ کریں، چلتے نظام کا پرزہ بنیں سوچنے والے انسان نہ بنیں۔
تعلیم کا مطلب صرف اسکول جانا، یونیفارم پہننا اور رٹا لگا کر امتحان دینا نہیں۔ تعلیم وہ ہے جو شعور جگائے، سوال اُٹھائے، خوبصورتی دکھائے اور انسان بنائے۔ اگر بچہ صرف نمبر حاصل کرنا سیکھ رہا ہے تو وہ علم نہیں مقابلہ سیکھ رہا ہے۔لیکن اگر تعلیم کو خوشی، جستجو اور ذاتی دلچسپی سے جوڑا جائے تو سیکھنا خود بخود حقیقی بن جاتا ہے۔ سیکھنے کا عمل تب ہی گہرا ہوتا ہے جب وہ بچے کے دل، ماحول اور خوابوں سے جُڑا ہو۔
ہمیں وہ تعلیم چاہیے جو صرف معلومات نہ دے بلکہ دلوں کو روشن کرے۔ جب تک سیکھنے کو ایک زندہ، انسانی تجربہ نہیں بنایا جائے گا تب تک ہم صرف اچھے ملازم پیدا کریں گے، اچھے انسان نہیں۔ لہٰذا لازمی تعلیم کے جبر سے نکل کر سیکھنے کو فطری، آزاد اور خوشگوار عمل بنانا ہوگا۔ ہمیں ایسا نظام چاہیے جو سیکھنے کا شوق پیدا کرے، سیکھنے کی مجبوری نہیں۔ یہی راستہ نئی نسل کو باشعور،بااخلاق، خودمختار اور ہنر مند بنا سکتا ہے۔
تعلیم کے حوالے سے اگر کوئی پہلو لازمی قرار دیا جا سکتا ہے تو اسے بچوں کے لیے نہیں بلکہ ریاست، حکومت اور والدین کے لیے لازمی ہونا چاہیے۔ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کے ہر بچے کے لیے یکساں، معیاری اور بامعنی تعلیم کے مواقع فراہم کرے۔ لازمی پن محض ایک نعرہ یا قانون نہ ہو بلکہ ایک سنجیدہ فلاحی منصوبہ ہو۔ ہمارے ہاں “لازمی تعلیم” کا تصور مغرب سے درآمد شدہ ہے جسے مقامی تناظر اور زمینی حقائق کو سمجھے بغیر لاگو کر دیا گیا۔ مغرب میں بھی یہ نظام ابتدا میں صنعتی انقلاب کے پس منظر میں ایک خاص طبقاتی نظم پیدا کرنے کے لیے متعارف ہوا تھا تاکہ لوگ مشینی نظام میں فٹ ہو سکیں، سوال نہ کریں اور نظام کے فرمانبردار کارکن بن سکیں۔ اس پس منظر کو سمجھے بغیر جب یہ ماڈل تھوپا گیا تو تعلیم محض ادارہ جاتی جبر، امتحانی مشینری اور بےروح ڈگریوں کا نظام بن کر رہ گئی۔
یہ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ ہر بچے کو مساوی تعلیمی مواقع فراہم کرے بغیر کسی تفریق کے۔ ایسا نہ ہو کہ شہر کے متمول طبقات کے بچوں کو جدید سہولیات، معیاری اساتذہ اور عالمی نصاب میسر ہو جبکہ دیہات یا غریب بستیوں کے بچے فرسودہ عمارتوں، ناکارہ کتب اور ناقابلِ فہم نصاب میں الجھ کر اپنی زندگیوں سے امید کھو بیٹھیں۔ ریاست پر لازم ہے کہ وہ تعلیم کو صرف ایک نصاب یا ادارہ نہ سمجھے بلکہ اسے انسانی ترقی، معاشی خودکفالت اور اخلاقی تربیت کا ذریعہ بنائے۔ ریاست پرلازم ہے کہ تعلیم کو جبراً نافذ کرنے کے بجائے نظام تعلیم کو اس قدر خوبصورت، سہل، معیاری اور دلچسپ بنائے کہ ہر بچہ خود بخود اس کی طرف متوجہ ہو۔
اسی طرح والدین کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق بچوں کے لیے بہتر خوراک، رہائش، لباس اور تعلیم کے مواقع فراہم کریں۔ لیکن اگر کوئی بچہ غربت کے باعث اپنے ماں باپ کا ہاتھ بٹانے پر مجبور ہے تو ایسے بچوں کو زبردستی اسکول بھیجنے سے بہتر یہ ہے کہ ان کے والدین کو معاشی طور پر بااختیار بنایا جائے تاکہ وہ بچوں سے مزدوری لینے کے بجائے انہیں تعلیم کی طرف متوجہ کر سکیں۔ تعلیم کی زبردستی نہیں، مواقع کی فراہمی اصل فلاح ہے۔
اسی طرح دیہات، قصبوں اور کھیتوں میں کام کرنے والے بچے جو محنت کش، ہنر مند اور فطرت کے قریب ہوتے ہیں، ان کے اس سیکھنے کے عمل کو بھی باضابطہ تعلیم سمجھا جائے۔ ان کے لیے تعلیم کا بندوبست وہیں کے ماحول کے مطابق ہونا چاہیے۔ تعلیم صرف نصاب، سبق اور بورڈ کے امتحان کا نام نہیں بلکہ ہنر، ذاتی تجربہ، اقدار اور فکری آزادی کا نام ہے۔ اگر کوئی بچہ کسی ہنر میں ماہر ہے، معاشی طور پر خود کفیل ہو رہا ہے اور سماجی آداب سیکھ رہا ہے تو وہ بھی تعلیم کے دائرے میں آتا ہے۔ اصل تعلیم وہی ہے جو کسی فرد کو باشعور، خودمختار اور بااخلاق انسان بنائے۔
تعلیم وہی لازمی ہونی چاہیے جو مساوات، ہنر، سوال، تحقیق اور شعور کو فروغ دے نہ کہ وہ جو محض کلاس رومز بھرے، رپورٹس بنائے اور ڈگریاں تقسیم کرے۔ لازمی تعلیم کا مطلب زبردستی اورادارہ جاتی بندش نہیں بلکہ خدمت اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ہمیں تعلیم کو بچوں کی فطری صلاحیتوں کے ارتقاء کا ذریعہ بنانا ہو گا جو ان کی زندگی میں روشنی، وسعت اور بیداری لائے ۔
تعلیم صرف الفاظ رٹنے اور درجات حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ خود کو بہتر بنانے اور معاشرے کے ساتھ بامعنی طور پر جُڑنے کا عمل ہے۔ ہمیں ایسے شہری درکار ہیں جو صرف ڈگری بردار نہ ہوں بلکہ حقیقتاً باشعور، ہمدرد، حالات کو سمجھنے والے، سوال اٹھانے والے اور مثبت تبدیلی لانے والے ہوں۔ جب تک تعلیم اس مقصد کی طرف واپس نہیں آتی ہم اسکولوں میں بچوں کی تعداد پوری کرتے رہیں گےلیکن بہتر انسان اور باشعور معاشرہ کبھی نہیں بنا سکیں گے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply