آٹزم اور دانشورانہ پسماندگی ہمارے معاشرے کے وہ موضوعات ہیں جن پر کھل کر بات کم ہی ہوتی ہے۔ پاکستان میں ان حالات سے متاثرہ بچوں اور بڑوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، لیکن آگہی نہ ہونے کے برابر ہے۔ آٹزم ایک ایسی حالت ہے جو دماغی نشوونما کو متاثر کرتی ہے۔ اس کے شکار افراد کو سماجی تعلقات بنانے، بات چیت کرنے اور رویوں میں لچک دکھانے میں مشکل پیش آتی ہے۔ کبھی کبھار یہ بچے غیر معمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں، مگر اکثر معاشرہ انہیں سمجھنے میں ناکام رہتا ہے۔
دانشورانہ پسماندگی کا معاملہ اس سے بھی پیچیدہ ہے۔ یہ ایسی حالت ہے جس میں سیکھنے کی صلاحیت، فیصلہ سازی اور روزمرہ کے کاموں میں دشواری ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں اسے اکثر “دماغی کمزوری” کہہ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ مگر یہ کوئی لاعلاج بیماری نہیں۔ مناسب تربیت، علاج اور توجہ سے ان افراد کی زندگی بہتر ہو سکتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں نہ تو خصوصی تعلیمی اداروں کی تعداد کافی ہے اور نہ ہی معاشرتی قبولیت۔
ہمارے معاشرے میں آٹزم یا دانشورانہ پسماندگی کو اکثر شرمندگی کا باعث سمجھا جاتا ہے۔ خاندان اپنے بچوں کو چھپاتے ہیں، کیونکہ “لوگ کیا کہیں گے” کا خوف غالب رہتا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف متاثرہ افراد کو تنہائی کی طرف دھکیلتا ہے بلکہ ان کے والدین پر بھی بوجھ ڈالتا ہے۔ ہمارے ہاں نفسیاتی امراض کو سمجھنے کی روایت ہی نہیں۔ ڈاکٹرز کی کمی، علاج کے مہنگے اخراجات اور معاشرتی دباؤ اسے مزید مشکل بنا دیتے ہیں۔
حکومت کو چاہیے کہ خصوصی بچوں کے لیے سکولز بنائے جائیں۔ والدین کو آگہی دی جائے کہ وہ اپنے بچوں کو قبول کریں۔ اساتذہ کو تربیت دی جائے کہ وہ ان بچوں کے ساتھ کیسے پیش آئیں۔ معاشرے کو سمجھنا ہوگا کہ یہ کوئی لعنت نہیں، ایک ایسی حالت ہے جسے سمجھ کر سنبھالا جا سکتا ہے۔ اگر ہم سب مل کر ان افراد کو قبول کریں، ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کریں، تو وہ بھی ہمارے معاشرے کا کارآمد حصہ بن سکتے ہیں۔ آٹزم اور دانشورانہ پسماندگی کوئی خاندان کا المیہ نہیں، بلکہ ایک چیلنج ہے جسے ہم سب کو مل کر حل کرنا ہے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں