” الصرام” سعودی سماجی ڈرامہ/منصور ندیم

 عرب حساوی تہذیبی زندگی کا اک فنکارانہ مطالعہ
یہ الحساوی زندگی کے زرعی ورثے کا اک نیا وژن اور قدیم روایات کو زندہ کرنے کی کوشش کرتا سماجی اسٹیج ڈرامہ ہے، جو اک نئے زاویئے سے مقامی کہانی کا فنکارانہ مطالعہ اور سعودی تھیٹر کی صلاحیتوں کا اظہار ہے۔ اس تھیٹر ڈرامے میں مقامی ورثے کو ایک عصری فنکارانہ تجربے میں تبدیل اور اسے علامتوں میں زندہ تھیٹر کے تناظر میں ماضی کا منظر نامہ پیش کیا گیا ہے، جو فن کے زریعے لوگوں کو ان کی جڑوں سے جوڑنے کا ایک ذریعہ بنتا ہے۔ یہ ماضی کو دہرانے اس پر غور کرنے اور اسے نئے معانی کے ساتھ زندہ کرنے کا بھی اظہار ہے، ڈرامہ “الصرام” کھجور کی کٹائی کے عمل کا ثقافتی اظہار ہے، “الصرام” یہاں کی حساوی معاشرے کی کھجوروں کی کٹائی کے موسم کی “اصطلاح” ہے۔ “الصرام” سے مراد کھجوروں کی کٹائی کرنا ہے۔ یہ موسم گرما کے آخر سے شروع ہوکر تقریباً ڈھائی ماہ تک رہتا ہے۔ جس میں کھجور کے جھنڈوں کو کاٹا جاتا ہے۔ کٹائی کا عمل کہانی کا ایک اہم واقعہ ہے، جو الاحساء کے علاقے کے بھرپور رسوم و رواج اور روایات کو دکھاتا ہے، ڈرامے میں فصل کی کٹائی کے موسم میں کسانوں کو درپیش چند چیلنج کو پیش کرنا ہے ۔
الحساء میں ماضی میں کھجور کے باغات یا درختوں کے مالکان اپنے پڑوسیوں اور رشتہ داروں کے لئے بھی کھجور کے بہت سے درخت مختص کرتے تھے۔ اس زمانے میں اسے “مخرفہ” کہا جاتا تھا۔ الحساء میں شیعہ کمیونٹی اور مقامی بدو قوائل زمانوں سے آباد ہیں، بدو قبائل کھجور کے درختوں کے سائے میں رہتے تھے، ان کی کھجوریں کھاتے تھے، اور فصل میں سے اپنا حصہ لیتے تھے۔ بعض علاقوں میں انہیں “المقازن” (موسم گرما کی فصل کاٹنے والے) بھی کہا جاتا تھا۔ فصل کی کٹائی کا موسم بذات خود ایک پیشہ اور ہر وہاں کے لوگوں کے لیے ذریعہ معاش بھی تھا۔ الصرام کا موسم حساوی زندگی کا اہم موقع تھا، جب مزدوروں کی اجرت بڑھ جاتی تھی، ماضی میں رشتے دار اور پڑوسی فصل کو جمع کرنے میں مدد کرتے تھے، درختوں کی صفائی کرنا خیال رکھنا جب تک فروخت یا کھانے کے لیے تیار نہ ہو جائے۔
ماضی میں، “الصرام” ایک خاص خوشی کا تہوار بھی تھا، جب خواتین سمیت پورا خاندان اجرت والے کسانوں کے ساتھ کٹائی کے عمل میں حصہ لیتا تھا۔ ویسے آج سعودی میں معاشی تبدیلی کے بعد سے یہ صرف مردوں تک ہی محدود ہے، کچھ عرصہ پہلے تک مقامی خواتین مردوں کے برابر زرعی زندگی میں بھی فرائض سرانجام دیتی تھیں، لیکن اب شہری زندگی اور سرکاری اور نجی شعبے کی ملازمتوں میں خواتین کی آمد نے مردوں کے مقابلے میں اس پیشے میں حصہ لینے کے امکانات کم کر دیے ہیں۔ عید کے دنوں میں جب میں الحساء میں ہی تھا، انہی دنوں تھیٹر اور پرفارمنگ آرٹس کے “اسٹار” پروگرام کے طور پر الاحساء میں کلچر اینڈ آرٹس ایسوسی ایشن کے اسٹیج پر یہ ڈرامہ چل رہا تھا۔ الحساء کے نخلستانوں میں اب تو کھجوروں کے کئی باغات فارم ہاؤسز اور بہترین قسم کے Resorts میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ مگر آج بھی روایتی رنگ بہرحال زندہ ہیں۔
“الصرام” ڈرامہ الحساء کے مقامی ماحول سے متاثر کہانی پر مبنی ہے، جس میں الحساء اور سعودی نفسیات میں کھجور کے درخت کو بطور شناخت اور تاریخ کی توسیع کی علامت کے طور پر دکھایا گیا۔ اس میں معاشرے کے متنوع طبقات کی نمائندگی کرنے والے متعدد کرداروں کو پیش کرتا ہے اور روایتی لوک داستانوں سے متاثر اور جدید فنکارانہ وژن سے متاثر ایک پلاٹ کے اندر ثقافتی اور سماجی مسائل کو دکھاتا ہے۔ ڈرامے میں سماجی انصاف کی ضرورت اور مزدوروں کے استحصال کے خاتمے پر روشنی ڈالی گئی ہے، اس میں کسان سلمان کا کردار دکھایا گیا ہے، جو محنت، لگن اور وفاداری کی قدر کی عکاسی کرتا ہے، یہاں تک کہ جب انصاف مکمل بھی نہ ہو۔ اس کے برعکس، اس میں دوسرا مرکزی بوحماد کا کردار طاقت اور استحصال کو مجسم کرتا ہے۔ یہ ڈرامہ روایتی عناصر اور وراثت سے بھرا ہوا ہے، جس میں لوک گیت اور مقامی تہوار کے مناظر شامل ہیں، جو قدیم روایات کو زندہ کرتے ہیں، نیز گاؤں کی زندگی اور فصل کی کٹائی جیسی زرعی سرگرمیاں شامل ہیں۔
یہ ڈرامہ الاحساء خطے کی منفرد کہانیوں کو مجسم کرتا ہے، ورثے اور ثقافت کو یکجا کرتے ہیں، قافتی علامتوں کو ایک زندہ زبان میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہے، اسے دیکھنا غیر ملکیوں کے لئے الحساء کی تہذیب کا بہترین بیان ہے، جو آج کے عہد کے لوگوں کے لئے قدیم سعودی عرب۔ کے خطہ الحساء سے جوڑتا ہے، وراثتی مصنوعات صرف ایسی چیزیں نہیں ہوتی، جو بنائی اور فروخت کی جاتی ہیں، بلکہ یہ شناخت کی عکاسی کرتی ہیں، ایک ایسا پل جو لوگوں کو ان کے مقام سے، ماضی کو ان کے مستقبل کے خوابوں سے جوڑتا ہے۔ یہ ڈرامہ مقامی داستان کا ثبوت ہے۔ ہر فصل کے موسم کے ساتھ، اس تعلق کی ایک زندہ مثال دیکھتے ہیں، جہاں تاریخیں یادداشت کے ساتھ جڑی ہوتی ہیں، ورثے کے ساتھ کام کرتی ہیں۔ ڈرامہ “الصرام” مقامی کہانی کو ایک نئے زاویے سے دوبارہ تجدید ہے، ایک وسیع تر وژن کے اندر جو سعودی تھیٹر کی صلاحیتوں کو بااختیار بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ ڈرامہ عبدالعزیز السمائل کا تحریر کردہ اور سلطان النوا کی ہدایت کاری اور قاسم الشافعی نے اسے پروڈیوس کیا، اس ڈرامے میں مقامی سعودی اداکاروں جن میں عبداللہ الترکی، علی الشوفی، زکریا النجیدی، ناہید السلیم، مونا عبدالرحمن، عبداللہ الشمری ہیں۔ اس ڈرامے نے سنہء 1997 میں جنادریہ نیشنل فیسٹیول فار ہیریٹیج اینڈ کلچر میں بہترین اسکرپٹ کا ایوارڈ جیتا تھا۔
تحریر : منصور ندیم
نوٹ :
1- یہ ڈرامہ الحساء کے قدیم نخلستانوں کی تہذیبی زندگی بیان کرتا ہے، سعودی عرب میں آج بھی الحساء میں زراعت بہترین ہوتی ہے، کیونکہ میں بیسیوں بار الحساء جا چکا ہوں میرے لیے تو یہ بھی حیران کن ہے کہ وہاں پر ماضی میں صحراؤں میں اتنا بہترین مصنوعی نہری نظام بنایا گیا تھا۔ آج بھی الحساء میں قدیم روایتی انداز کی زراعت کے ساتھ ساتھ جدید زراعت موجود ہونے کے ساتھ ساتھ صرف زراعت کھجوروں تک محدود نہیں بلکہ گندم، چاول، مختلف پھل و سبزیاں شامل ہیں۔
2- سعودی عرب نے کئی ڈرامے یا فلموں کا ارتکاز کہانی کے ساتھ ساتھ اپنے خطے کے مقامی پیشوں، ہنرمندی اور خصوصا روایت و ثقافت پر بھی کیا ہے۔
مورخہ 17 جون سنہء٫ 2025
۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply