• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • چڑیلوں کا شکار – انسانی تاریخ کا خوفناک باب/ تحریر و تدوین: محمد شاہ زیب صدیقی

چڑیلوں کا شکار – انسانی تاریخ کا خوفناک باب/ تحریر و تدوین: محمد شاہ زیب صدیقی

پندرہویں صدی عیسوی تک یورپی معاشرے پہ چرچ کی گرفت اتنی شدید تھی کہ وہاں کسی نے کچھ بھی لٹریچر چھاپنا ہوتا تو اُسے کیتھولک چرچ سے باقاعدہ اجازت لینی پڑتی تھی لیکن پھر پرنٹنگ پریس کا انقلابی دور آیا۔ پرنٹنگ مشینوں کے آنے سے کوئی بھی ،کہیں بھی ،کسی بھی وقت بنا اجازت کے کچھ بھی چھاپ سکتا تھا۔ اس دوران انسانی معاشرے میں انفارمیشن کی مقدار میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ اس کا اندازہ ایسے لگائیے کہ انسا ن نے اپنے ظہور سے لے کر پندرہویں صدی عیسوی تک (یعنی ہزاروں سال کے عرصے میں ) ایک کروڑ 10 لاکھ کتابوں کی نقول تیار کریں جبکہ پرنٹنگ پریس کے آنے کے بعد 1454ء سے لے کر 1500ء تک (صرف 46 سالوں میں) ایک کروڑ بیس لاکھ کتابوں کی نقول تیار کی گئیں ۔پرنٹنگ پریس کو اسی خاطر تاریخ انسانی کی اہم ترین ایجادات میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ اس نے انسانی معاشرے کی سمت ہی تبدیل کردی اور سائنسی انقلاب کی راہ ہموار کی (اگر پرنٹنگ پریس نہ ہوتا تو گیلیلیو اور کاپرنیکس کے لئے اپنے سائنسی خیالات کو دُنیا تک پہنچانا ناممکن ہوتا) ۔
یورپی معاشرے میں آزادانہ انفارمیشن کے عام ہونے کا جہاں یہ فائدہ ہوا کہ وہ ایک مخصوص گروہ (چرچ) کی گرفت سے نکل گیا تو وہیں یہ نقصان بھی ہوا کہ اب ہر کوئی الٹے سیدھے خیالات کا حامل شخص اپنے منفی خیالات کی ترویج کرنے میں آزاد ہوگیا یعنی معاشرے پر موجود چیک اینڈ بیلنس کا خاتمہ ہوا (ہم موجودہ دور میں سوشل میڈیا کے انقلاب کے بعد یہ مشکلات اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں)۔پرنٹنگ پریس کے باعث معاشرے میں فیک نیوز اور سازشی نظریات کا طوفان برپا ہوا، جس کی ایک مشہور مثال “جادوگروں کا سازشی نظریہ” ہے، جس کی وجہ سے یورپ میں ہزاروں افراد کی جان گئی۔
دُنیا میں جادوگر اور چڑیلوں کے متعلق ہر معاشرے اور علاقے میں مختلف روایات مشہور رہی ہیں اور ہر معاشرے کا ان سے نپٹنے کا طریقہ بھی مختلف رہا ہے، مثلاً بہت سے معاشرے سمجھتے تھے کہ چڑیلیں مُردوں اور رُوحوں سے باتیں کرتی ہیں، مستقبل کی پیشن گوئی کرتی ہیں، کچھ کے ہاں چڑیلوں کو بیماریاں پھیلانے والی مخلوق کہا جاتا تھا،کچھ معاشرے ایسے بھی تھے جو سمجھتے تھے کہ رات کے اندھیرے میں چڑیلیں ان کے جانور چُرا لیتی ہیں یا ان کے گھر سے دودھ اور کھانا چُرا لیتی ہیں، کچھ کے نزدیک چڑیلیں صرف خواتین ہوتی تھیں جبکہ کچھ معاشروں میں سمجھا جاتا تھا کہ چڑیل /جادوگر مَرد بھی ہوسکتے ہیں۔ کچھ معاشرے چڑیلوں کا احترام بھی کرتے تھے۔ پندرہویں صدی تک یورپ میں چڑیلوں/جادوگروں کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی تھی ، چرچ بھی چڑیل جیسی مخلوق کو محض افسانہ قرار دیتے تھے اور کسی کو چڑیل قرار دے کر اسے مارنے کی شدید حوصلہ شکنی کرتے تھے لیکن پھر 1420ء کی دہائی میں پادریوں کے ایک گروہ نے قدیم نظریات کو یکجا کرتے ہوئے ایک نیا نظریہ دیا جس میں چڑیلوں کو شیطان کا آلہ کار بتاتے ہوئے، معاشرے میں نہ صرف تباہی کا ذمہ دار قرار دیا بلکہ چڑیلوں/جادوگروں پر مسیحیت کے مقابلے میں نیا مذہب بنانے کا بھی الزام دھر دیا۔ اس نظریے میں بتایا گیا کہ چڑیلیں اندھیری رات میں ایک مقام پر جمع ہوکر شیطان کی عبادت کرتی ہیں، بچوں کو قتل کرکے اُنکا گوشت کھاتی ہیں اور رقص کرتے ہوئے ایسے منتر پڑھتی ہیں جو طوفان، تباہیاں اور بیماریاں لے کر آتے ہیں۔
اس نظریے کے تحت 1428ء سے 1436ء کے درمیان 200 کے قریب “جادوگر” مرد اورعورتوں کو چُن چُن کر قتل کیا گیا۔ سن 1485ء میں ہنری کریمر نامی راہب نے بہت سے مرد و خواتین کو جادوگری کے الزام میں قید کرلیا ، اس ضمن میں جب لوکل چرچ کو معلوم پڑا تو نہ صرف ان افراد کو رہا کروایا گیا بلکہ کریمر کو شہر (الپائن ریجن) سے بے دخل بھی کیا گیا ۔ جس کے دو سال بعد کریمر نے 1487 ءمیں Malleus Maleficarum (جادوگروں کے خلاف ہتھوڑا) کے نام سے ایک کتاب لکھی اور پڑنٹنگ پریس کی مدد سے اس کی کاپیاں بانٹیں۔ اس میں اس نے جادوگروں کو ڈھونڈنے اور ان کو ہولناک سزائیں دینے کی ترکیبیں بتائیں۔ اس کتاب کے بقول کو کسی کے جادوگر ثابت ہوجانے کے بعد اس کی سزا صرف موت ہی ہوگی۔ اس کتاب میں اس نے کچھ فرضی واقعات کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ کیسے جادوگر صرف عورت ہی ہوسکتی ہے ۔ اس کتاب کو چرچ کی جانب سے اگرچہ شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا لیکن یہ اپنے دور کی سب سے زیادہ بِکنے والی کتاب (best seller book) بنی، اگلی چند دہائیوں تک نہ صرف اس کے درجنوں ایڈیشنز شائع ہوئے بلکہ اس کا مختلف زبانوں میں ترجمہ بھی ہوا۔ یہاں تک کہ پانچ سو سال گزر جانے کے باوجود موجودہ دور کےکچھ سازشی نظریات (جیسا کہQAnon وغیرہ) کی بنیاد بھی یہی کتاب ہے۔
بہرحال پرنٹنگ پریس نے کریمر کی خونی مہم کو بڑھاوا دینے میں اہم کردار ادا کیا ،ا س سازشی نظریے سے اہم حکومتی شخصیات بھی نہ بچ پائیں مثلاً پندرہویں صدی میں ایک فرانسیسی جج نے انکشاف کیا کہ صرف فرانس میں ہی اس وقت تین لاکھ چڑیلیں موجود ہیں جب کہ پورے یورپ میں ان کی تعداد 18 لاکھ تک ہے(اس وقت پورے یورپ کی آبادی ہی سات کروڑ تھی)۔اس طرح کے بےسروپا دعووں نے یورپ میں خوف کی فضاء پیدا کی۔اس دوران پچاس ہزار معصوم افراد کو جادوگر قرار دے کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، ان پچاس ہزار میں نہ صر ف زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھےبلکہ عمر کی بھی کوئی قید نہیں تھی مثلاً جادوگری کے الزام میں سب سے کم عمر جس بچے کو مارا گیا اس کی عمر صرف پانچ سال تھی۔ یورپی لوگ انتہائی معمولی سی بات پر یا پھر ذاتی و سیاسی اختلاف پر بھی ایک دوسرے کو جادوگر قرار دے دیتے تھے۔معاشرے میں جادوگروں کو سزائیں سنانے کے لئے کریمر کی مذکورہ کتاب کو حتمی مقام حاصل تھا مثلاً اگر کوئی انسان تسلیم کرلیتا کہ وہ جادوگر اور شیطان کا چیلا ہے تو اس کو قتل کردیا جاتا اور ا سکی دولت/جائیداد الزام لگانے والے، سزا سنانے والے اور تفتیش کرنے والوں کے مابین بانٹ دی جاتی اور اگر کوئی “جادوگر” اپنے پر لگے الزامات تسلیم کرنے سے انکار کرتا تو اس کی اِس حرکت کو “شیطانی ضد” قرار دیا جاتا ، اس کی پاداش میں اس کی انگلیاں توڑ دی جاتیں، اس کی آنکھوں کے سامنے اس کی چمڑی کو گرم چھُریوں سے کاٹا جاتا اورپھر اس کے گوشت کو کھینچ کر اتارا جاتا اگر گوشت نہ اتر پاتا تو جسم کے اس حصے کو اُبلے پانی میں ڈبو دیا جاتا ۔ اس سزا کو زیادہ تر “جادوگر” نہ سہہ پاتے اور جلد و بدیر اپنے “جرم” کا اقرار کرلیتے جس کے بعد انہیں سزائے موت دے دی جاتی۔
اس تاریک دور کی ہولناکی کا اندازہ ایسے لگائیں کہ سن 1600ء میں جرمنی کے شہر میونخ کی انتظامیہ نے پیپن ہائمر نامی ایک فیملی کو جادوگری کے الزام میں پکڑا۔ اس فیملی میں ماں باپ اور ان کے تین بچے تھے، جن میں سب سے چھوٹے بچے ہینسل کی عمر دس سال تھی (اس واقعے کی تفصیلات آج بھی میونخ انتظامیہ کے ریکارڈ میں درج ہیں)، جب تحقیقات کا آغاز ہوا تو ہینسل کو سفاکانہ طریقے سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تاکہ وہ اپنی والدہ کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن کر اس کو “چڑیل” قرار دے دے، پیپن ہائمرفیملی اس شدید تشدد کو سہہ نہ سکی اور بالآخر انہوں نے متعدد جرائم کا اقرار کیا جس میں نہ صرف 265 لوگوں کا قتل عام شامل تھا بلکہ 14 مختلف طوفانوں کی بھی انہوں نے ذمہ داری قبول کی۔ اس جرم کی پاداش میں اس فیملی کے تمام افراد کو سزائے موت سنا دی گئی، مرنے سے پہلے گرم سُلاخوں سے ان کی چمڑی ادھیڑی گئی، ماں باپ کے نازک اعضاء کو کاٹا گیا،جس کے بعد ان سب کو زندہ جلا دیا گیا۔ دس سالہ ننھے ہینسل کو یہ سب دیکھنے پر مجبور کیا گیا، چار ماہ بعد ہینسل کو بھی سزائے موت دی گئی۔ سن 1625ء سے 1631ء کے دوران چھ سالوں میں بیمبرنگ شہر میں 900 افراد کو جادوگری کے الزام میں قتل کیا گیا (اس شہر کی کُل آبادی ہی 12000 تھی)، اسی طرح ورز برگ میں 1200 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا (اس شہر کی کُل آبادی 11500 تھی)۔
جادوگروں کے شکار(وِچ ہنٹنگ witch hunting) میں معاملہ صرف جادوگر کے خاتمے تک محدود نہیں ہوتا تھا بلکہ جادوگر کو ٹھکانے لگانے کے بعد اس کے سہولت کاروں کو ڈھونڈا جاتا تھا اور پیچھے رہ جانے دوستوں رشتہ داروں کو سہولت کاری کی بھینٹ بھی چڑھا دیا جاتا تھا۔ معاملہ اس حد تک سنگین ہوچکا تھا کہ کوئی عہدہ داریا پادری اس پاگل پن کے خلاف بولتا تو اس کو بھی جادوگروں کا سہولت کار قرار دے کر گرفتار کیا جاتا اور تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا مثلاً 1453ء میں (جب یہ پاگل پن اپنے شروعاتی دور میں تھا)تب ایڈلین نامی ایک فرانسیسی محقق نے باقاعدہ علی الاعلان کہنا شروع کیا کہ کوئی چڑیل یا جادوگر نہیں ہوتا نہ ہی کوئی انسان اڑ کر شیطان سے جاکر ملتا ہے اور معاہد ہ کرتا ہے۔ اس جرم کی پاداش میں ایڈلین کو قید کرکے تشدد کیا گیا ، جس کے بعد ایڈلین نے نہ صرف یہ تسلیم کیا کہ وہ خود اڑنے والے جھاڑو پر بیٹھ کر شیطان سے ملنے آسمانوں میں گیا ہے بلکہ اس نے یہ بھی اقرار کیا کہ اس نے شیطان سے معاہدہ بھی کیا ہے اور شیطان کے ہی کہنے پر اس نے جادوگروں کو بچانے کے لئے مہم چلائی تھی، اسکی خوش قسمتی تھی کہ اس کا جج تھوڑا نرم مزاج نکلا اور اس نے سزائے موت دینے کی بجائے عمر قید پر اکتفا کیا۔ چڑیلوں کے شکار کی مہم (witch hunt)غلط انفارمیشن کے معاشرے میں پھیلنے کی ایک خوفناک مثال ہے۔ چڑیل یا جادوگر اگرچہ آبجیکٹو ریالٹی (اصل حقیقت) نہیں تھے لیکن ان کو انٹرسبجیکٹو ریالٹی (مصنوعی حقیقت) بنا دیا گیا (جیسے کرنسی کی اصل میں کوئی حیثیت نہیں ہے ، یہ محض ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے لیکن مجموعی طور پر معاشرے کے تسلیم کرنے کی وجہ سے کرنسی ایک انٹرسبجیکٹو ریالٹی بن چکی ہے – اگر آپ آبجیکٹو ریالٹی اور انٹرسبجیکٹو ریالٹی کے مابین تفصیلی فرق جاننا چاہتے ہیں تو مضمون کے آخر میں پوسٹ کا لنک موجود ہے جہاں کچھ ماہ قبل یہ سب تفصیلی ڈسکس کیا تھا )۔
جادوگر/چڑیل کو انٹرسبجیکٹو ریالٹی بنانے میں حکومت، وکلاء، تفتیشی اداروں اور پرنٹنگ پریس نے پورا پورا کردار ادا کیا، یہاں تک کہ پرنٹنگ پریس میں چھاپا گیا کہ چڑیل کیسی ہوتی ہے، ان کی اقسام کیا ہیں، تفتیش کے دوران ان کا برتاؤ کیسا ہوتا ہے، ان کو نہ صرف کیسے ایکسپوز کیا جاسکتا ہے بلکہ یہ بھی بتایا گیا کہ ان کو روکنا کیسے ہے۔ چڑیلوں اور جادوگروں کو ڈھونڈنے والے “وِچ ہنٹر” باقاعدہ اپنی سروسز حکومت اور انتظامیہ کو مہنگے داموں بیچتے تھے۔چڑیلوں /جادوگروں سے ہونے والی لمبی لمبی تفتیشوں کو باقاعدہ ریکارڈ کا حصہ بنا کر پبلش کیا جاتا تھا تاکہ چڑیلوں کے متعلق ہماری دستیاب معلومات اپ ڈیٹ رہیں۔ وِچ ہنٹر زبیٹھ کر باقاعدہ بحثیں کرتے کریمر کی کتب اور دستیاب دیگر لٹریچر پر تبادلہ خیال کیاجاتا تاکہ اس میں سے نئے معنی نئے زاویے تلاش کیے جاسکیں۔ اس سارے شورو غل میں یورپ کو معلوم ہی نہ پڑا کہ وہ کب چرچ کے کنٹرول سے نکل کر “وچ ہنٹرز” کے کنٹرول میں چلا گیا، یورپ صدی سے زائد تک عملاً ان کا غلام رہا۔اس سارے عرصے میں ڈس انفارمیشن کا سیلاب بہتا رہا، جس نے “وچ ہنٹر” کمیونٹی کو مضبوط سے مضبوط تر کیا، یہ الگ بات تھی کہ ان کی کتابوں اور دعووں میں رتی برابر سچائی نہ تھی لیکن انہوں نے ایک ایسی انٹرسبجیکٹو ریالٹی کو جنم دے دیا تھا جس میں صرف پورے معاشرے کو یہ وہم ہونا شروع ہوگیا تھاکہ وہ ایک ایسی دنیا کاحصہ ہیں جس کو شیطان کنٹرول کرنے والا ہےا ور اس سے نجات ضروری ہے۔وقت گزرتا رہا اور پھر سترہویں صدی کا زمانہ آیا جس میں چند افراد کو احساس ہونا شروع ہوا کہ یہ جوکچھ ہورہا ہے یا ہوچکا ہے، یہ انتہائی غلط ہے لیکن مسئلہ وہی تھا کہ اس سب کو اب غلط کیسے ثابت کیا جائے۔ جس دوران یورپ کا پرنٹنگ پریس اسطرح کی بے سرو پا کتابیں دھڑادھر چھاپ رہا تھا اسی دوران کوپرنیکس کی کتاب بھی پرنٹنگ پریس میں چھپ رہی تھی مگر کسی نے اس پر دھیان تک نہیں دیا ، کاپر نیکس کی کتاب کی 22 سال میں صرف چار سو کاپیاں ہی فروخت ہوسکیں اور یہ ورسٹ سیلر (سب سے بُری کتاب) قرار پائی(بعد میں یہی کتاب سائنسی انقلاب کی بنیاد بنی اور زمین کو کائنات کے مرکز سے نکال کر سورج کو اس کا مرکز قرار دیا گیا یعنی نظام شمسی کے ماڈل کی بنیاد یہی کتاب تھی)۔
انسانی تاریخ میں خوف اور جہالت کے امتزاج نے کئی ایسے ادوار پیدا کیے ہیں جہاں عقل بے معنی ہو کر رہ جاتی ہے۔ آج جب ہم مُڑ کر اس دور میں جھانکتے ہیں تو خود کو انسان کہتے ہوئے شرم محسوس کرتے ہیں۔ یہ کہنے میں ہمیں کوئی عار محسوس نہیں کرنی چاہیے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری پاگل پن کو بھی مستقبل میں اسی تاریک دور میں گردانا جائے گا، جس پر ہماری طرح کے ہی “تہذیب یافتہ انسان” بالکل اسی طرح افسوس کریں گے جیسے آج ہم وچ ہنٹنگ کا پڑھ کر افسوس کرتے ہیں۔ ہر قتل عام بعد ظالم اپنے کئے پر پچھتاتا ضرور ہے مگر تب تک وہ خون کی انہدوناک ندیاں بہا چکا ہوتا ہے۔ بہرحال اس ساری تاریخ سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر معاشرے کو آزاد چھوڑ دیا جائے تو ضروری نہیں کہ وہ صحیح سمت میں چلنا شروع کردے، انفارمیشن کا طوفان معاشرے میں تباہی کو بھی جنم دے سکتا ہے (جیسا کہ آجکل سوشل میڈیا کے دور میں ہورہا ہے کہ بہت سے ممالک میں فیک نیوز کے باعث بےچینی اور بدامنی نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں)۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں انسانی معاشرے کو ایسے آزاد اداروں کی ضرورت رہی ہے جو غلط انفارمیشن کا رد کرتے ہوئے صحیح معلومات کو عام کرسکیں، یورپ نے اپنی تاریخ سے سیکھتے ہوئے یونیورسٹیوں کی طرز پر ایسے ادارے بنائے جو معاشرے میں صحیح انفارمیشن کا پھیلاؤ جاری رکھ سکیں اور غلط انفارمیشن کو روک سکیں۔ یہی یونیورسٹیاں /ادارے بعدازاں سائنسی انقلاب کی بنیاد بنے اور یورپ کو ترقی کی راہ پر لے گئے۔
نوٹ: اس مضمون کے بیشتر حصوں کو لکھنے کےلئے یوول نوح ہراری کی کتاب “نیکسز” سے مدد لی گئی ہے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply