سوشل میڈیا صرف رابطے کا ذریعہ نہیں، بلکہ اس کے ہر پلیٹ فارم کی اپنی ایک زبان ہے، ہر ایپ کے اپنے الگ ایکسپریشنز ہیں، آپ انسٹاگرام کھولو تو لگتا ہے کہ جیسے ایک طلسمی دنیا میں قدم رنجہ فرما چکے ہیں، رنگوں کی بہار، روشنیوں کی چمک دمک، مہنگے کیفے، غیرملکی اسفار، زرق برق لباس، اور فلٹر شدہ چہروں کی گیلری آنکھوں کو خیرہ کئے دیتی ہے، یہ وہ جگہ ہے جہاں ہر چمکنے والی چیز سونا ہے، اور ہر لڑکی پیسہ چھاپنے کی مشین، یہاں درد کی گنجائش نہیں، غربت کی گونج نہیں، اور حاشیے کے لوگ صرف بیک گراؤنڈ کے دھندلے عکس ہوتے ہیں۔
اور پھر فیسبک پر آؤ، تو ماحول یکسر بدل جاتا ہے، یہاں زیادہ تر مسلمان موجود ہیں، اور ان کے مسائل بھی، مگر افسوس، یہ وہ مسائل جنہیں وہ خود پیدا کرتے ہیں، مسلکی جھگڑے، فرقہ واریت، فتوے، اور فکری تنگ نظری، جیسے یہیں ایک دوسرے کو کچل کر فتح کا جھنڈا گاڑ دیں گے، اپنے مسلک کا پرچم بلند کردیں گے، ان لڑائیوں کے ساتھ ساتھ عرب دنیا کی اپنی آپسی رسہ کشی، امت مسلمہ ہندیہ میں تفرقہ پیدا کرنے میں اس کا الگ ہی رول ہے۔
پھر آپ ایکس پر نظر دوڑائیں تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے جہنم کا در وا ہوگیا ہو، یہاں ہندوستانی مسلمانوں کی حقیقی صورتحال کا سامنا ہوتا ہے، وہ ہر دن کس درد اور کرب سے گزرتے ہیں ،اس کا احساس اسی پلیٹ فارم پر آ کر ہوتا ہے، یہاں سچ ہے، مگر زخموں کے ساتھ، یہاں لفظ بولتے ہیں مگر زہر میں بجھے ہوئے، یہاں خبریں صرف اطلاعات نہیں بلکہ چیخ ہوتی ہیں، ہر اسکرول جیسے دل پر ایک چوٹ ہو، کہیں کسی کا گھر گرایا جارہا ہوتا ہے، کہیں پوری کالونی سطح زمین کے برابر کردی گئی ہوتی ہے، کہیں کوئی مدرسہ توڑ دیا گیا ہوتا ہے، کہیں کسی کو لنچ کردیا گیا ہوتا ہے اور لوگوں کی ایک جماعت اس پر ہنس رہی ہوتی ہے، مزے لے رہی ہوتی ہے، کہتی ہے اس کٹوے کے ساتھ اچھا ہی ہوا۔
یہ تضاد محض پلیٹ فارم کا نہیں، ہمارے شعور کا بھی ہے، ہم صرف اپنی خوشیوں کے عکس میں جینا چاہتے ہیں تبھی تو غم دوراں مٹانے کے لئے انسٹا گرام کا سہارا لیتے ہیں، اور فیسبک کے ذریعہ اپنی فکری آوارگی کا بوجھ کم کرتے ہیں، اور ایکس کی خبروں کو جذباتی بیانیہ کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔
لیکن سچ وہ نہیں ہے جو ہم سننا نہیں چاہ رہے، دیکھنا نہیں چاہ رہے، حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان میں خصوصاً شمالی ہندوستان میں ہم اپنے دور کے سب سے مشکل وقت سے گزر رہے ہیں، اور اس کا ادراک آپ کو اسی وقت ہوسکتا ہے جب آپ صحیح پلیٹ فارم پر خبروں کو پڑھتے، سنتے اور ان کے صحیح غلط ہونے کے تجزیہ میں اچھا خاصہ وقت گزارتے ہیں۔

ہمارے کچھ بزرگ احباب اسے ایک مختصر دورانیہ سے تعبیر کرتے ہیں، لیکن وہ بھول جاتے ہیں کہ تاریخ کے پنوں میں ایک صدی محض ایک نمبر ہی ہے، “سو سال” تو اس وقت معلوم ہوتا ہے جب آپ اسے خود جیتے ہیں، درد کے ساتھ، خوف کے ساتھ اور اپنی شناخت کو کھو دینے کے احساس کے ساتھ۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں