صرف حقیقی تعلیم ہی انسان کو غصے، انتقام اور منفی جذبات پر قابو پانا سکھا سکتی ہے جبکہ رَٹّا سسٹم صرف دھونس، دباؤ اور عدم برداشت کے کلچر کو جنم دیتا ہے۔۔۔۔وحید مراد
رَٹّا سسٹم صرف تعلیمی تباہی نہیں بلکہ یہ ایک سماجی المیہ ہے جو فرد کی شخصیت سے لے کر معاشرے کی اجتماعی سوچ تک کو جکڑ لیتا ہے۔ یہ نظام تخلیقی سوچ، تنقیدی فہم، برداشت اور جذباتی توازن کو کچل کر ایک ایسی نسل تیار کرتا ہے جو یا تو اندھی تقلید کرتی ہے یا جذبات کے دھارے میں بہہ کر خطرناک حد تک چلی جاتی ہے۔
ثناء یوسف کے دل دہلا دینے والے قتل نے ہمارے معاشرے میں موجود تشدد، انتقام اور غیر متوازن جذبات کی شدت کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا۔ یہ صرف ایک افسوسناک واقعہ نہیں بلکہ ایک نظام کی ناکامی کا ثبوت ہے ۔ایک ایسا نظام جو انسان کو سوچنے، سمجھنے، سننے اور برداشت کرنے کے بجائے صرف رٹنے، نمبر لینے اور جیتنے کی دوڑ میں لگا دیتا ہے۔ جس معاشرے میں بچہ سوال کرنے سے ڈرے، اختلاف رائے کو گستاخی سمجھا جائے اور کامیابی صرف ڈگری اور گریڈ سے ناپی جائے وہاں انتقام، ضد اور جذباتی عدم توازن عام بات بن جاتی ہے۔
جب ایک بچہ تعلیم کا آغاز کرتا ہے تو فطری طور پر اس کے اندر سوالات، مشاہدے اور دریافت کی پیاس موجود ہوتی ہے مگر ہمارا تعلیمی نظام اس پیاس کو بجھانے کے بجائے اسے “خاموش ہو جاؤ اور یاد کرو” کی راہ پر ڈال دیتا ہے۔ نتیجتاً بچہ جذباتی طور پر ناآسودہ، ذہنی طور پر بوجھ تلے دبا ہوا اور سماجی طور پر غیر حساس انسان بن جاتا ہے۔
جب والدین بچوں پر صرف مارکس اور ڈگریوں کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں، مہنگے اسکولز اور کوچنگ سینٹرز کی بھاری فیسیں ادا کرتے ہیں حتیٰ کہ امتحانات میں نقل کروانے تک کی کوشش کرتے ہیں تو وہ نہ چاہتے ہوئے بھی ایک ایسی نسل تیار کرتے ہیں جو حقیقی علم کے بجائے صرف کامیابی کی نقلی شکل کو سچ ماننے لگتی ہے۔ ایسے بچے نہ جذبات پر قابو پانے کا ہنر سیکھتے ہیں نہ اختلاف رائے سننے کا ظرف رکھتے ہیں۔
یہی بچے جب بڑے ہو کر پولیس، میڈیا یا دیگر اداروں میں پہنچتے ہیں تو ان کے فیصلے ذاتی تعصب، ناپختہ سوچ اور جذباتی عدم توازن پر مبنی ہوتے ہیں۔ پولیس مظلوم کی مدد کے بجائے اثرورسوخ کی بنیاد پر کام کرتی ہے، میڈیا سنجیدہ گفتگو کے بجائے سنسنی پھیلاتا ہے اور پورا معاشرہ ایک بے حس تماشائی بن جاتا ہے۔ یہ سب اسی رَٹّا سسٹم کی پیداوار ہیں جو شخصیت سازی کے بجائے رینکنگ، نمبر اور ظاہری کامیابی کے پیچھے بھاگنے والا نظام ہے۔
میڈیا کے کردار کو بھی اسی پس منظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ جب صحافیوں کی تعلیم بھی اسی غیر تخلیقی، غیر تنقیدی اور نقالی نظام سے ہو تو وہ عوام کو صرف سنسنی، جذباتی فریم اور تفرقہ بازی کی غذا فراہم کرتے ہیں۔ سنجیدہ گفتگو، دلیل اور انسانی ہمدردی جیسے عناصر میڈیا کوریج سے غائب ہو چکے ہیں۔آج اگر کوئی ظلم ہوتا ہے، زیادتی ہوتی ہے یا کسی کو قتل کر دیا جاتا ہے تو سارا معاشرہ خاموش تماشائی بن کر رہ جاتا ہے۔
یہ سارا عمل دراصل ایک گہرے تعلیمی اور سماجی بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔ جب تعلیم کا مقصد انسان سازی کے بجائے صرف امتحان پاس کرانا بن جائے تو معاشرہ جذباتی معذوری کا شکار ہو جاتا ہے۔ اختلاف کو دشمنی، تنقید کو توہین اور مزاح کو حملہ سمجھا جانے لگتا ہے۔ یہی وہ خطرناک کیفیت ہے جو کسی بھی معاشرے کو انتشار، جرم اور بے حسی کے گڑھے میں دھکیل دیتی ہے۔
اگر ہم واقعی ایک مہذب، متوازن اور پرامن معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں رَٹّا سسٹم کے خاتمے کی طرف سنجیدگی سے قدم بڑھانا ہوگا۔ ایسا نظام تعلیم رائج کرنا ہوگا جو سوالات کو خوش آمدید کہے، جذبات کو سنبھالنے کی تربیت دے اور بچوں کو انسان بنانے پر توجہ دے۔ جب تک ہم تعلیم کو شخصیت سازی، اخلاقی تربیت اور سماجی شعور کی بنیاد نہیں بنائیں گے اس وقت تک جرم، تشدد، اور نفرت کی جڑیں اور گہری ہوتی جائیں گی۔
رَٹّا سسٹم نہ صرف ذہنی غلامی ہے بلکہ یہ وہ زنجیر ہے جس نے ہمارے معاشرے کو جذباتی توازن، انسانی احترام اور سماجی ہمدردی سے محروم کر دیا ہے۔ اس زنجیر کو توڑنا ناگزیر ہے کیونکہ صرف اسی سے ایک بہتر، باشعور اور پرامن مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں