عید الضحیٰ کا چاند دیکھتے ہی قربانی کے جانور کی تلاش آج بھی ایک بڑا مسئلہ ہے ۔اس گرمی میں شہر سے باہر مویشی منڈیوں کا رخ کرنا اور جانور کا انتخاب پھر رقم کا طے کرنا بڑا مشکل کام ہوتا ہے ۔سب سے اہم مسئلہ رقم کی ادائیگی ہوتا ہے جو جانور کا مالک اور بیوپاری کیش کی صورت میں لینا چاہتا ہے ۔جبکہ اس رش کے دوران کیش ساتھ رکھنا بڑا مشکل اور رسک ہوتا ہے ۔ دوسری جانب جانور کے معیار ،وزن ،وغیرہ کا تعین کرنا بھی ہر آدمی کا کام نہیں ہوتا ۔گو اسٹیٹ بنک آف پاکستان اور ہمارے بینکوں نے بذریعہ راست کیو ار کوڈ ،اے ٹی ایم کارڈ ادائیگی اور ٹرانسفر کی سہولت فراہم کی ہے لیکن پھر بھی ترجیح نقد رقم کو ہی دی جاتی ہے کیونکہ جانور کے مالکان ان پڑھ ہوتے ہیں اور ان جدید طریقوں سے خوفزدہ رہتے ہیں ۔جانور خریدنے کے بعد دوسرا مرحلہ قصائی کی تلاش ہوتا ہے ۔جن کا وقت پر دستیاب ہونا بڑا مشکل ہوتا ہے اور ان کا معاوضہ بھی آسمان سے باتیں کر رہا ہوتا ہے ۔ لوگ سارے سارے دن ان کی آمد کے منتظر رہتے ہیں ۔دیہاتوں اور قصبوں میں تو آج بھی پرانے روائتی طریقوں سے قربانی کا فریضہ ادا ہوتا ہے ۔البتہ بڑے بڑے شہروں میں ڈیجیٹل قربانی کا تصور زور پکڑتا جا رہا ہے اور لوگ گھر بیٹھے اپنی قربانی کا فریضہ بڑے احسن طریقے سے ادا کر رہے ہیں ۔اور انہیں قربانی کے ثواب کے ساتھ بروقت گوشت بھی مہیا ہو جاتا ہے ۔دوسری جانب وہ آلائشوں کی صفائی اور قصائی کے انتظار اور نخروں جیسے مسائل سے بھی بچ جاتے ہیں ۔
عید الضحیٰ ایک اسلامی تہوار ہی نہیں بلکہ ہمارے ایمان ،اطاعت ،ایثار اور قربانی کا مظہر ہو تا ہے۔یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم سنت ہے جو ہر سال ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ہم اپنی سب سے عزیز شے کو خدا کے راہ میں قربان کر دینے کا حوصلہ اور جذبہ رکھیں ۔لیکن اس سنت کی ادائیگی کا طریقہ وقت کے ساتھ ساتھ انسانی ضروریات اور مشکلات کے مدنظر بہت بدلتا جا رہا ہے ۔آج ہم اور ہماری دنیا ایک ایسے ڈیجیٹل دور میں داخل ہو گئے ہیں جہاں اسے شاید اب ” ڈیجیٹل قربانی ” کہا جاسکتا ہے ۔کہیں آن لائن قربانی کے جانور سوشل میڈیا کے ذریعے منتخب کئے جارہے ہیں ،اور کہیں جانور کی ویڈیو ،تصاویر اور رسید واٹس ایپ پر مل رہی ہے ۔کہیں آپ کے ایک آرڈر پر قربانی کرکے گوشت آپ کے گھر پہنچا دیا جاتا ہےیا تقسیم کردیا جاتا ہے ۔بہت سے لوگ اب نہ جانور خریدنے منڈی جاتے ہیں ،نہ اسے باندھنے اور خوراک کا انتظام کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے ۔نہ خود ذبح کرتے ہیں ،نہ گوشت کے حصے بنا کر تقسیم کرتے ہیں ۔بس چند کلک کرنے سے یہ سب کچھ ہو جاتا ہے اور آپکی قربانی مکمل ہو جاتی ہے ۔یہ سب بلاشبہ سہولت ،وقت کی بچت اور شفافیت کا عکس ہے ۔بےشک ڈیجیٹل قربانی ایک جدید تصور ہے جس میں روائتی قربانی کو ٹیکنالوجی کے زریعے انجام دیا جاتا ہے یہ طریقہ کار خاص طور پر ان لوگوں کے لیے مفید ہے جو مالی طور پر قربانی کر تو سکتے ہیں لیکن عملی طور پر جانور خریدنا ،ذبح کرنا اور گوشت تقسیم کرنا مشکل ہوتا ہے ۔ڈیجیٹل قربانی کا آغاز آن لائن آرڈر سے شروع ہوتا ہے پہلے کسی معتبر ،قابل اعتماد ادارے یا تنظیم کا انتخاب اور یہ طے کرنا ہوتا ہے کہ وہ ادارہ قربانی خود تقسیم کرے گا یا پھر قربانی کا گوشت آپ کو دے گا جو سوشل میڈیا پر جانور کی تصویر ، مکمل تفصیل اور قیمت دیکھ کر کیا جاتا ہے ۔بعض مخصوص ادارے قربانی کی رقم لےکر ادارے ء فلاحی کاموں کے لیے بھی خرچ کر لیتے ہیں ۔پھر آن لائن ہی قیمت کی ادائیگی گھر بیٹھے بذریعہ موبائل والٹ یا کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ سے اداروں کو کردی جاتی ہے۔ادارہ گوشت غریبوں ،یتیموں اور ضرورت مندوں میں تقسیم خود ہی کردیتا ہے یا پھر قربانی کا گوشت آپ کو گھر پر ہی فراہم کردیا جاتا ہے ۔بعض ادارے اور مشن قربانی کا ڈیجیٹل سرٹیفکیٹ بھی جاری کرتے ہیں جس میں قربانی کی تصویر یا ویڈیو بھی شامل ہوتی ہے ۔ملک بھر کے مختلف سماجی ،فلاحی اور مذہبی ادارے یہ نیک کام کرتے ہیں ۔بہت سے لوگ ان اداروں کو قربانی کی رقم عطیہ بھی کردیتے ہیں ۔ڈیجیٹل قربانی کا مقصد قربانی کے روحانی مقاصد کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ جوڑنا ہے لیکن اس کے لیے کوشش ہونی چاہیے کہ یہ کام عین شرعی شرائط اور سنت کے مطابق انجام ہو ۔نیت کی صحت ،جانور کا شرعی معیار اور ذبح کادرست طریقہ کار اور تقسیم کا درست ہونا ضروری ہوتا ہے ۔
لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا کہ اس سہولت کی قیمت ہم نے کس چیز سے ادا کی ہے ؟ کیا ہم نے قربانی کی اصل روح کو کہیں پیچھے تو نہیں چھوڑ دیا ؟ کیا سنت ابراہیمی صرف ایک ٹرانزیکشن بن کر رہ گئی ہے ؟ یہ ڈیجیٹل عید اور قربانی روایت ،روحانیت اور ٹیکنالوجی کا امتزاج ہونے کے ساتھ ساتھ کیا قربانی کی روح اور فلسفے کو بھی اجاگر کر رہی ہے ؟ کیا ہمارے بچوں کی خوشیاں اس کی وجہ سے پامال تو نہیں ہو رہی ہیں ؟ کیا ہمسایوں اور محلے داروں کی باہمی محبت میں کمی تو نہیں آرہی ہے ؟ببعض لوگوں کا خیال ہے کہ قربانی اپنے ہاتھ سے ہی کرنا عین ثواب اور سنت ہے ۔جبکہ بعض لوگ ڈیجیٹل قربانی کو دھوکہ اور فراڈ بھی سمجھتے ہیں ۔بعض لوگ شرعی پہلو کو مدنظر رکھتے ہوۓ گوشت کی تقسیم اپنی مرضی اور منشا سے کرنا پسند کرتے ہیں ۔وہ اپنی قربانی کی کھالیں اپنی اپنی مسجد ،مدرسے یا من پسند اداروں کو دینا چاہتے ہیں ۔

عید قربان کی اصل روح شراکت ،صبر ،خلوص اور ایثار ہوتی ہے ۔جب لوگ پورے سال ایک جانور کو پالتے اور اس سے محبت کرتے ہیں ۔جب بچے قربانی کے جانور کی کئی دنوں تک خدمت کرکے اس سے مانوس ہو جاتے ہیں اور یہ جانور پورے گھر کا پیارا ہو جاتا ہے ۔تو پھر پورا محلہ اس جانور کی جدائی کے احساس سے آنسو بہاتا اور مل کر اسے ذبح کرتا ہے ۔گوشت بانٹتے ہوۓ قربانی کے احکامات کا مکمل خیال رکھا جاتا ہے ۔جو باہمی محبتوں کو فروغ دیتا ہے ۔وہ روایات وہ منظر آج دھندلاتے جارہے ہیں ۔ڈیجیٹل نظام میں شفافیت تو ہو سکتی ہے لیکن اس مین وہ تعلق اورتجربہ کہاں ہے جو قربانی کا حقیقی پیغام دیتا ہے ۔یہ بھی درست ہےکہ شہروں میں جگہ کی کمی ،وقت کا فقدان ،اور صفائی کے مسائل درپیش ہوتے ہیں جن کے پیش نظر ڈیجیٹل قربانی ایک مناسب حل نظر آتا ہے ۔لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہمیں اس سہولت کے ساتھ ساتھ روحانیت اورشعور کو بھی زندہ رکھنا ہوگا ۔بچوں کو قربانی کی کہانی بتانی ہوگی انہیں جانور سے مانوس کرنا اور پھر اللہ کے لیے قربان کرنا سکھانا ہوگا ۔ انہیں یہ باور کرانا ہوگا کہ قربانی صرف گوشت کاٹنے یا کھانے یا بانٹنے کا نام ہی نہیں ہے بلکہ یہ دل کے اندر ایک تبدیلی ، جذبہ قربانی اور صبر و استقامت کا نام ہے ۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہےکہ ہم اور ہمارے بچے صرف عید کا تہوار منارہے ہیں یا عید اور قربانی کےاصل فلسفے کو سمجھ بھی رہے ہیں ؟
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں