یہ وہ دنیا ہے جہاں نہ کوئی ہارن بجاتا ہے، نہ دھکم پیل کرتا ہے۔ ہر کوئی اپنی باری کا منتظر ہوتا ہے۔ لوگ ٹرین کے انتظار میں بھی قطار بناتے ہیں، ریستوران میں بھی، اور یہاں تک کہ کچرا پھینکنے میں بھی نظم اور صفائی کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی جیسے ممالک بلاشبہ ترقی کی معراج پر ہیں۔ یہاں سڑکیں صاف ستھری، پارک سرسبز، اسپتالوں میں نظم، دفاتر میں وقت کی پابندی اور عدالتوں میں انصاف کی سنجیدگی ہے۔ یہاں کا شہری نظام کسی بھی طالبعلم یا مشاہدہ کرنے والے کے لیے ایک سبق آموز تجربہ ہے۔
مگر اس چمکتی دنیا کے پیچھے ایک دھندلا اور اداس عکس بھی چھپا ہے، جسے جاننے کے لیے محض آنکھیں کھلی رکھنا کافی نہیں، بلکہ دل سے محسوس کرنا ضروری ہے۔
ایک روز میں سوانزی کی ایک مصروف سڑک پر چہل قدمی کر رہا تھا، جب میری نظر ایک ضعیف شخص پر پڑی۔ وہ ایک بینچ پر بیٹھا، اپنے کتے سے باتیں کر رہا تھا۔ میں قریب جا کر بیٹھ گیا، اور ہمت کر کے پوچھا، “کیا آپ کے بچے نہیں ہیں؟” وہ مسکرایا، ایک ایسی مسکراہٹ جو دکھ کی گہرائیوں سے نکلی تھی، اور بولا،”تھے، اب سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہیں۔ مجھے بس جارجی (کتے کا نام) نے نہیں چھوڑا۔”
ایسے مناظر یہاں عام ہیں۔ بظاہر خوشحال زندگی گزارنے والے ہزاروں لوگ تنہائی کا زہر پی رہے ہیں۔ ان کے ہاں خاندان کا وہ تصور جو ہمارے ہاں محبت، قربانی اور ایثار سے جُڑا ہے، اب ٹوٹ چکا ہے۔ والدین اولڈ ہاؤسز میں، بچے الگ، بھائی بہن ایک دوسرے سے بیگانہ۔
سوانزی یونیورسٹی میں میری ملاقات “الیسن” سے ہوئی۔ وہ میری کلاس فیلو تھی۔ ایک دن میں نے اسے کافی کے لیے مدعو کیا۔ دورانِ گفتگو اُس نے کہا،”میرا بچپن نانی کے گھر گزرا، کیونکہ ماں باپ الگ ہو چکے تھے۔ جب میں سات سال کی تھی، تو کورٹ میں جا کر خود فیصلہ کیا کہ ماں کے ساتھ رہوں گی۔ لیکن اب دونوں سے رابطہ بس سال میں ایک بار ہوتا ہے—کرسمس پر۔”
یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گئی۔ میں نے اس کی آنکھوں میں وہ دکھ دیکھا، جو شاید الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتا۔ یہ وہ نسل ہے جو ٹیکنالوجی کی دنیا میں پیدا ہوئی، مگر رشتوں کے لمس سے محروم رہی۔ یہاں انسانوں کی جگہ آہستہ آہستہ پالتو جانور اور مصنوعی ذہانت لے رہی ہے۔ گھروں میں بلیاں، کتے، خرگوش اور جدید ٹیکنالوجی کے روبوٹس موجود ہیں، جو تنہائی بانٹنے کا ذریعہ سمجھے جاتے ہیں۔ مگر کیا ایک روبوٹ ماں کی ممتا کی جگہ لے سکتا ہے؟ کیا ایک کتا باپ کے مشوروں کی کمی پوری کر سکتا ہے؟ یہاں کے معاشرے نے ان سوالات کے جواب شاید چھوڑ دیے ہیں۔
مگر انہی گلیوں میں، انہی اجنبی فضاؤں میں، جب میں جامع مسجد سوانزی جاتا ہوں، تو ایک عجیب سا سکون ملتا ہے۔ اذان کی آواز جیسے دل کو جھنجھوڑ دیتی ہے، اور جماعت میں کھڑے چہرے، چاہے وہ صومالیہ سے ہوں، پاکستان سے یا بنگلہ دیش سے، سب اپنے لگتے ہیں۔نماز کے بعد چائے پر جب ہم بیٹھتے ہیں، تو ماں کی گود، باپ کا سایہ، اور بہن بھائیوں کی ہنسی سب یاد آتے ہیں۔
میری ملاقات ایک اور پاکستانی طالبعلم، تیمور، سے ہوئی۔ وہ کہتا ہے:”یار، یہاں سب کچھ ہے، لیکن خوشی نہیں۔ جو سکون اماں کی چپلوں کی چاپ میں تھا، وہ یہاں کی خاموشی میں نہیں۔ جو مزہ ابا کے بےوجہ ڈانٹنے میں تھا، وہ یہاں کی آزادی میں نہیں۔”
یہ بات درست ہے کہ مغرب نے دنیا کو بہت کچھ سکھایا ہے: وقت کی قدر، قانون کی پاسداری، صفائی کا شعور، تحقیقی ذہن، اور نظام کی مضبوطی۔ مگر اگر ہم مشرق کی روحانی گہرائی، خاندانی وحدت، اور محبت بھرے رشتے بھول جائیں، تو ہماری کامیابی کھوکھلی ہو جائے گی۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں