چترال کی مقتول لڑکی اور زندہ سوال/سخاوت حسین

گزشتہ شام ایک روح فرسا خبر دل کو جیسے چیر گئی۔ ایک ایسی وادی، جہاں محبت کا بسیرا ہوتا ہے۔ جہاں یادوں کے دیپ جلتے ہیں۔ جہاں کی مٹی محبت کو کشید کرتی ہے۔ جہاں عشق کی تھاپ پر وفا کا رقص ہوتا ہے  جہاں کی خوب صورتی لمحے بھر کو منجمد کردیتی ہے۔  خاموشی پہرا دیتی ہے، وہاں سے تعلق رکھنے والی ایک معصوم   صورت سترہ سالہ لڑکی کو    زندگی سے محروم کردیا گیا ۔ سترہ برس کی وہ لڑکی، جس نے ابھی خواب دیکھنے سیکھے تھے، جو تتلیوں کے پیچھے بھاگتی، اور ماں کے آنچل میں چھپ کر مسکراتی تھی، اچانک ایک ایسی بحث کا موضوع بن گئی، جس کا شاید کبھی اسے علم بھی نہیں تھا۔

اس لڑکی نے شاید ابھی محبت کے مفہوم کو سمجھا بھی نہ تھا۔ اسے زندگی کی سختیاں جاننے کا وقت بھی  نہیں ملا تھا،   جس نے  ابھی زندگی کے دریا پر اپنوں کی اپنائیت اور خلوص کی ناؤ لے کر پار جانا تھا کہ تبھی کلہاڑی تھامے کچھ سائے نمودار ہوئے اور اس کا  راستہ کاٹ دیا گیا۔ اسے زندگی کے ساحل پر موت کے پانی سے نہلا دیا گیا۔ سوال یہ نہیں کہ اس کا قصور کیا تھا؟سوال یہ ہے کہ کسی کو یہ اختیار کس نے دیا کہ وہ دوسرے انسان کی زندگی کا فیصلہ کرے؟ اسے زندگی سے محروم کرے۔ ذاتی اختلافات یا کسی بھی قسم کے اختلاف پر کسی کو زندگی سے محروم کرنا اور ایک جیتے جاگتے روشن چہرے کو مرحوم کرنا کیا کسی طور درست ہے۔  کیا اس عمل کی کوئی بھی وضاحت دی جاسکتی ہے؟

ہم نے زمانے کے ساتھ بہت کچھ سیکھا  ٹیکنالوجی، تعلیم، ترقی سب میں آگے جاچکے ہیں مگر کیا ہماری سوچ نے بھی  اسی رفتار سے ترقی کی ہے؟ شاید نہیں۔ آج بھی جب ایسا واقعہ پیش آتا ہے تو بہت سی آوازیں اسے “روایت” کا حصہ کہہ کر خاموش ہو جاتی ہیں۔ کچھ تو خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ “سبق مل گیا”، “ٹک ٹاکر کے ساتھ اچھا ہوا”، “مارنے والے نے اچھا کیا” اور کچھ سوچتے ہیں کہ “ایسا ہی ہونا چاہیے تھا” یعنی ان کے حساب سے یہ قتل سو فی صد درست ہوا ہے اور تقریباً ایسے جملے سوشل میڈیا پر بکثرت ہی نظر آئیں گے۔ جب کہ باقی لوگ لبوں پر “قفل” سجا کر خاموش تماشائی بن جاتے ہیں اور یہی لمحہ سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔  جب انسانیت دکھانے کے  وقت خاموشی، دلیل کی جگہ جذبات اور انصاف کی جگہ ذاتی سوچ  ہر جگہ حکمرانی کرنے لگے۔

اختلاف ہمیشہ ہوگا۔ صدیوں سے ہوتا آیا ہے۔ انسان جب سے ہے اسے دوسرے انسان سے اختلاف ہوگا۔ نظریوں سے ، رہنے کے طریقے سے ، جینے کے انداز سے ، سوچنے کے طریقے  اور فکر  سے ، جب تک آخری انسان ہے یہ اختلاف ہوگا۔ اختلاف کی بنا پر مکالمے جنم لیتے ہیں۔ مباحثوں کے دور سجتے ہیں۔ اختلافات کی بنا پر تشدد کمزور لوگوں کا شیوہ رہا ہے۔ جہاں دلیل کی بجائے بندوق تھامے اذہان منڈلانے لگیں وہاں پھر فکریں ناپید ہوجاتی ہیں۔  لوگوں کے نظریات، ان کی سوچ، ان کے انداز، زندگی گزارنے کا ڈھنگ غرض سب الگ ہو سکتے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہم کسی کی سانس روک دیں، کسی کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیں۔ اگر ہمیں اختلاف ہے  تو راستہ بدلیں، بات کریں، خاموش ہو جائیں۔ دور ہٹ جائیں مگر خدا کے لیے، جان نہ لیں۔ جان لینے کا حق کسی کو بھی  نہیں ہے۔

julia rana solicitors

چترال کی خوب صورت وادی سے تعلق رکھنے والی لڑکی کی مسکراہٹ دیکھتا ہوں تو دل چیر جاتا ہے۔ بھلا وہ ہاتھ کیسے نہیں کانپے ہوں گے، وہ وجود کسے بے قرار نہیں ہوا ہوگا جس نے اس شہزادی کے گھر میں صف ماتم بچھایا ہوگا۔ ماں باپ سے زیادہ لڑکی کے سگے بنے ان قاتلوں کو معاشرہ کیا نفرت کی سزا اسی طرح دے گا؟ ان سے بھی کیا اسی طرح لاتعلقی اختیار کی جائے گی جیسے ایک لڑکی کو ٹک ٹاکراور وی لاگر کہہ کر کی جاتی ہے؟ اسے بھی انصاف کے کٹہرے میں اسی طرح کھڑا کیا جائے گا۔ اگرچہ اس موت سے  کسی کا کچھ نہیں بگڑے گا صرف اس کے ماں باپ جینا بھول جائیں گے۔ ان کی آنکھوں میں اس کی تصویر ہمیشہ رہے گی ، مسکراتی تصویر، سوال کرتی تصویر، معاشرے کی برداشت کا عکس دکھاتی تصویر اور ہم سب اسی طرح خاموش سوالی ہوں گے۔ جانے کب تک۔۔۔۔پتا نہیں کب تک!

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply