مہر کی تعریف ،مشروعیت، مقدار اور اقسام۔۔ ڈاکٹر محمد عادل

اسلام نے عورت کو جو مالی حقوق عطا کئے ہیں ،ان میں سے ایک مہر بھی ہے۔ ہمارے معاشرے میں مہر کے مقرر کرنے اور اس کی ادائیگی کے حوالے سے بہت سی کمزوریاں موجود ہیں۔ اگرچہ تفاسیر،کتب فقہ اور فتاوی میں مہر کے احکامات موجود ہیں، تاہم اس آرٹیکل میں ان احکامات کو عام فہم اور سہل انداز میں بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

اس آرٹیکل میں مہر کی تعریف، مشروعیت، اقسام اور مقدار کو ذکر کیا گیا ہے۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

مہرکی تعریف

مہر عورت کا حق مالی ہے کو خاوند کے ذمہ بوجہ عقد نکاح کے واجب ہوتا ہے اور مہر مسنون اور مہر محمدی اس مہرکو کہا جاتا ہے جو نبی کریم ﷺ سے عملاً ثابت ہو[1] ۔

مہر کی دوقسمیں ہیں: مہر معجل ، جو نکاح کے موقع پر ہی ادا کیا جائے۔ دوسرا مہر مؤجل ہے جس کو بعد ادا کرنے کا وعدہ کیا جائے ،چاہے وقت معین کیا جائے یا نہ کیا جائے[2] ۔

مہر کی مشروعیت قرآن کریم سے

سورۃ النساء آیت نمبر ۴ میں بیویوں کو ان کا مہر دینے کا حکم دیا گیا ہے:

“اور بیویوں کو خوش دلی کے ساتھ ان کا مہر ادا کرو”۔اسی طرح دیگر آیات کریمہ میں بھی مہر کی ادائیگی اور اس کے مختلف احکامات بیان کئے گئے ہیں۔ جس سے اس کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

سیرت  طیبہ اور احادیث مبارکہ سےمہر کی مشروعیت

رسول اللہ ﷺ نے خود متعدد نکاح فرمائے اور اسی  طرح اپنی بیٹیوں کے نکاح بھی کروائے۔ سورۃ الاحزاب کی آیت نمبر  ۵۰ میں آپ ﷺ کو بغیر مہر کے نکاح کی خصوصی اجازت دی گئی لیکن اس کے باوجود رسول اللہ ﷺ نے  مہر کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اور امت کو تعلیم دینے کے لئے تمام ازواج مطہرات سے   نکاح  کرتے وقت ان کے لئے مہر مقرر فرمایا ۔ رسول اللہ ﷺ کی نظر میں مہر کی ادائیگی کی اہمیت کا اندازہ  سیدہ عائشہؓ کے نکاح کے واقعہ سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ سیدہ عائشہ ؓ کا نکاح رسول اللہ کے ساتھ ہو چکا تھا ،لیکن رخصتی نہیں ہوئی تھی۔ اس دوران سیدنا ابو بکرصدیق ؓ خود رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور رخصتی میں تاخیر کی وجہ پوچھی تو آپﷺ نے مہر  کے لئے رقم نہ ہونےکا  عذر پیش کیا ۔سیدنا ابوبکرؓ نے عرض کیا کہ مجھ سے قرض لے لیں۔رسول اللہ ﷺ نے آپؓ سے قرض لے کر مہر ادا کیا، اس کے بعد  سیدہ عائشہ ؓ کی رخصتی ہوئی یعنی رسول اللہ ﷺ نےرخصتی میں اس وقت تک تاخیر کی جب تک مہر کی ادائیگی ممکن نہ ہو سکی تھی[3]۔           ٍ

رسول اللہ ﷺ نے اپنے ازواج کے لئے مہر مقرر کرتے مختلف مقداریں رکھی لیکن اکثر امہات المؤمنین کا نکاح ۵۰۰ درہم پر طے پایا، جیسے صحیح مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ  ابو سلمہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیبیوں کا مہر کیا تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ بارہ اوقیہ چاندی  جوکہ پانچ سو درہم ہوتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی بیویوں کے لیے یہ مہر تھا[4]۔

رسول اللہ ﷺ نے سیدہ فاطمہ ؓ کا مہر بھی پانچ سو درہم مقرر فرمایا[5]۔یہی وجہ ہے کہ اس مقدار کو مہر فاطمی اور مہر محمد ی کہا جاتا ہے۔آج کل کے حساب پانچ سو درہم تقریباً ڈیڑھ کلو چاندی بنتی ہے[6]۔دسمبر ۲۰۲۱ء کے حساب سے دیکھا جائے تو مہر فاطمی کی مقدار تقریباً دو لاکھ  پاکستانی روپے بنتے ہیں۔

مہر کے متعلق مشرکین کا طرزِ عمل

مشرکین عرب کے ہاں مہر کے متعلق تین قسم کا ظلم کیا جاتا تھا :

پہلا ظلم :  لڑکی کے اولیاء  لڑکی کے شوہر سے مہر  خود وصول کرکے اس پر قبضہ کر لیتے اور اس میں سے لڑکی کو کچھ نہ دیتے تھے، جو سراسر ظلم تھا[7]۔

دوسرا ظلم: بہت سے شوہر یہ سمجھ  کر کہ بیوی ان سے مجبور ہے اور ان کی مخالفت نہیں کر سکتی ،لہٰذا وہ بیوی پر دباؤ ڈال کر ان سے مہر معاف کرا لیتے[8] ۔

رسول اللہ ﷺ نے اپنے اقوال  اور اپنے عمل سے   مذکورہ بالا  دونوں برائیوں کی تردید فرمائی۔رسول اللہ ﷺ نے ایک حدیث مبارک میں ارشاد فرمایا : جس نے نکاح  کیا اور مہر مقرر کیا ، لیکن اس کے دل میں ہو کہ وہ مہر ادا نہیں کرے گا ،تو اللہ تعالیٰ کے یہاں و ہ زانی  شمار ہوگا[9]۔

ایک اور روایت یہ بات  مزید زور  دے کر کہی گئی: کہ  جس نے کسی عورت  سے کم یا زیادہ مہر پر نکاح کیا اور اس کے دل میں یہ ہے کہ وہ اسے اس کا مہر نہیں دے گا ،تو اس نے دھوکہ بازی کی ، اگر اس کا انتقال ہو اور  اس وقت  تک اس نے اس کا حق ادا نہیں کیا ، تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے ایک زانی  شخص کی حیثیت  سےاس کی ملاقات ہوگی[10]۔

تیسرا ظلم: مشرکین عرب پہلے تو مہر دیتے نہیں اور  اگر کسی کو مجبور ہوکر مہر دینا پڑ جاتا تو بہت تلخی کے ساتھ بادلِ ناخواستہ تاوان سمجھ کر دیتے[11]۔

رسول اللہ ﷺ نے  اس عمل کی بھی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: کسی شخص کے لئے دوسرے   کا مال اس وقت تک حلال نہیں  ، جب تک وہ اپنے دل کی خوشی سے اس کی اجازت نہ دے[12]۔ یہی وجہ ہے کہ فقہاء کے نزدیک  جب بیوی اپنی خوشی کی بجائے شوہر کے دباؤ میں آکر مہر معارف کرے تو یہ معافی معتبر نہیں ہوگی اور مہر کی ادائیگی شوہر کے ذمے واجب الادا رہے گی۔

مہر کی شرعی مقدار

مہر کی  کم سے کم مقدار کے متعلق حدیث مبارک میں  آیا ہے کہ   دس درہم سے کم مہر نہیں دیا جائے گا۔ موجودہ زمانے کے لحاظ سے اس کا تناسب نکالا جائےتو چونکہ ایک درہم 3.06 گرام چاندی کے برابر ہوتا ہے ،لہٰذا 30.6گرام چاندی  مہر کی کم سے کم مقدار مقرر کی جائے گی[13]۔ دسمبر ۲۰۲۱ء میں یہ مقدار تقریباً چار ہزار پاکستانی روپے بنتے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ ایک طرف اگر اکثر ازواج کا مہر پانچ سو درہم مقرر کیا تو دوسری طرف  ام حبیبہ ؓ کا مہر چار ہزار درہم مقرر کرکے صاحب حیثیت لوگوں کے لئے اپنی استطاعت کے مطابق زیادہ مہر مقرر کرنے کا جواز بتلا دیا۔لہٰذا زیادہ سے زیادہ مہر کےلئے کوئی مقدار مقرر نہیں لیکن  بہت زیادہ مہر مقرر کرنا مکروہ ممنوع ہے[14]۔مہر میں اعتدال سے متعلق  سیدہ عائشہ ؓ ایک حدیث  روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :  عورت کی برکت اس میں ہے کہ اس کے پیغامِ نکاح  اور مہر  کے معاملے میں آسانی سے کام لیا جائے [15]۔اسی طرح عقبی بن عامر روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بہترین مہر وہ ہے جسے ادا کرنا انتہائی آسان ہو[16]۔

مہر کی  مختلف  صورتیں

پہلی صورت: اگر نکاح کے وقت مہر مقرر کیا  جائے اور رخصتی کے بعد میاں بیوی کے درمیان خلوت صحیحہ ہو جائے، تو شوہر کے ذمے مکمل طے شدہ مہر  کی ادائیگی لازم ہو جائے گی۔

دوسری صورت: اگر نکاح کے وقت مہر مقرر نہ کیا  جائے، شوہر کے ذمے مہرِ مِثل کی ادائیگی لازم ہو جائے گی۔ عورت کے خاندان کی عورتوں  جیسے اس کی بہن ،چچازاد وغیرہ کا جو مہر مقرر کیا گیا ہو،وہ مہر مثل کہلاتا ہے۔

تیسری صورت : نکاح کے وقت مہر مقرر کیا جائے اور شوہر رخصتی سے پہلے وفات پاجائے تو  عورت کو  مکمل طے شدہ مہر ملے گا۔ جو  شوہر کی میراث میں سے  ادا کیا جائے گا[17]۔

چوتھی صورت :نکاح کے وقت مہر مقرر نہ کیا جائے اور شوہر رخصتی قبل وفات پاجائے ،تو عورت کو  مہر مثل ملے گا۔ جو شوہر کی میراث میں سے دیا جائے گا[18]۔

پانچویں صورت: نکاح کے وقت مہر مقرر کیا جائے اور رخصتی سے پہلے شوہر بیوی کو طلاق دیدے ، تو شوہر کے ذمے طے شدہ مہر کے نصف کی ادائیگی لازم ہوگی[19]۔ یہ حکم سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر ۲۳۷ میں مذکور ہے۔

چھٹی صورت: نکاح کے وقت مہر مقرر نہ کیا جائے اور رخصتی سے پہلے طلاق واقع ہوجائے تو شوہر کے ذمے مہر لازم نہ ہوگا، بلکہ ایک جوڑا کپڑے رخصتانہ دے گا[20]۔یہ حکم سورۃ البقرۃ آیت نمبر ۲۳۶ میں مذکور ہے۔

نتائج

  • نکاح کے وقت مہر کا مقرر کرنا حکم شرعی ہے اور رسول اللہ ﷺ نے اس کی ادائیگی کی بہت تاکید فرمائی ہے ۔
  • مہر کی ادائیگی میں اعتدال سے کام لیا جائے اور اتنا مہر مقرر کیا جائے جوآسانی سے ادا جا سکے۔
  • بیوی اپنی مکمل رضامندی سے مہر میں کمی بھی کر سکتی ہے اور مکمل معاف بھی کر سکتی ہے۔

حواشی وحوالہ جات

[1]              کتاب التعریفات،محمد زید مظاہری ندوی،صفحہ  ۴۱۷

[2]              کشاف اصطلاحات الفنون،صفحہ ۱۶۶۴

[3]              امہات المؤمنین مع بنات اربعہ  قدم بہ قدم،عبد اللہ فارانی ، صفحہ ۵۰

[4]              صحیح مسلم،مسلم بن حجاجؒ،حدیث نمبر: ۳۴۸۹

[5]              خواتین کے مسائل اور ان کا حل، مفتی ثناء اللہ محمود  ،صفحہ ۷۳

[6]              کتاب التعریفات،صفحہ  ۴۱۸

[7]              معارف القرآن، مفتی محمد شفیعؒ، جلد ۲ ، صفحہ ۲۹۷

[8]              ایضاًٍ

[9]              خواتین کے مالی حقوق شریعت اسلامی کی روشنی میں ، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ،صفحہ ۱۴۸

[10]             ایضاً

[11]             معارف القرآن، جلد ۲ ، صفحہ ۲۹۷

[12]             ایضاً ،جلد ۲ ،صفحہ ۲۹۹

[13]             خواتین کے مالی حقوق ،صفحہ ۴۴

[14]             کتاب التعریفات،صفحہ ۴۱۸

[15]             مسند احمد،احمد بن حنبل ، حدیث نمبر : ۲۴۴۷

[16]             سنن ابی داؤد، ابو داؤد سلیمان بن اشعث ، حدیث نمبر : ۲۱۱۷

[17]             بدائع الصنائع،علاء الدین کاسانی،جلد ۲ ، صفحہ ۲۷۴

[18]             سنن ابی داؤد،حدیث نمبر:۲۱۱۴

[19]             احکام القرآن، ابوبکر جصاص، جلد ۱ ، صفحہ ۵۱۹

Advertisements
julia rana solicitors london

[20]             ایضاً

  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

ڈاکٹر محمد عادل
تھیالوجی ٹیچر ،خیبر پختونخوا ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply