کرنٹ اکاؤنٹ ایک غیر سودی دھوکا/اختر شہاب

کرنٹ اکاؤنٹ کی شرعی حیثیت اور سود سے متعلق ایک جائزہ
آج کل بینکوں نے مختلف کرنٹ اکاؤنٹ کھاتے کھلوانے کے لیے اشتہار بازی شروع کی ہوئی ہے ۔کوئی زبردست کرنٹ اکاؤنٹ ہے تو کوئی اچھا ا،ور ان کے ساتھ وہ بے شمار فوائد کا بھی ذکر کرتے ہیں ۔اس کے پیچھے حقیقت کیا ہے آئیے اس کا جائزہ لیتے ہیں ۔

کرنٹ اکاؤنٹ کا وجود میرے خیال میں اس وقت آیا ہوگا، جب بینکوں سے زیادہ  پیسہ نکالنا مشکل ہوا کرتا تھا اور بینک زیادہ    پیسے نکالنے کے  لیے سٹیٹ  بینک کے محتاج ہوا کرتے تھے اور پیسوں کی ادائیگی کے لیے دو سے تین دن لیا کرتے تھے۔  زیادہ پیسوں کے لیے تو ہفتہ بھر بھی درکار ہوتا تھا۔جس کی وجہ سے کاروباری حضرات کو سخت پریشانی ہوتی تھی ۔ اس پر بینکوں نے انہیں ایک سہولت پیش کی کہ اگر وہ سود نہ لیں تو بینک ، کرنٹ اکاؤنٹ کی صورت میں اپنے پاس پیسہ رکھنے اور فوری طور پر جتنا چاہے واپس دینے کو تیار ہیں۔  یوں “کرنٹ اکاؤنٹ” کا  اجراء ہوا۔

اس زمانے میں سودی یا غیر سودی اکاؤنٹ کا کوئی ذکر نہیں ہوا کرتا تھا یعنی اوّل تو بینک اکاؤنٹ ہر ایرے غیرے کے بجائے چند خاص الخاص افراد کھلوایا کرتے تھے۔ ان میں بھی زیادہ تر بزنس مین تھے جن کی دلچسپی اپنے منافع میں تھی۔ اس لیے انہیں سودی یا غیر سودی اکاؤنٹ کی اتنی زیادہ پرواہ نہیں تھی۔ اب جبکہ کچھ عرصہ سے بینک اکا ؤنٹ کھلوانا ہر خاص و عام کی مجبوری بن گیا تو پھر سودی اور غیر سودی کا سوال شدت سے پیدا ہوااور اس کے لئے غیر سودی اکاؤنٹ کھولے گئے لیکن بے شمار سادہ لوح مسلمان، جو سود سے نفرت کرتے ہیں، انہوں نے غیر سودی اکاؤنٹ کھلوانے کے بجائے کرنٹ اکاؤنٹ کھلوانے کو ترجیح دی۔ ان کا  خیال ہے کہ اس میں نا  صرف پیسہ محفوظ رہے گا بلکہ وہ اس طرح سود سے  بھی محفوظ رہ سکتے ہیں۔

کرنٹ اکاؤنٹ میں پیسہ رکھنے اور اس پر سود لینے یا نہ لینے کی حقیقت کیا ہے ؟آئیے اس کا جائزہ لیتے ہیں۔
کرنٹ اکاؤنٹ ایک ایسا بینک اکاؤنٹ ہے جو روزمرہ لین دین، ادائیگیوں، اور فنڈز کی منتقلی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس میں رقم کی حفاظت اور آسانی سے رسائی کو ترجیح دی جاتی ہے۔ جبکہ سیونگ اکاؤنٹ میں سود کی ادائیگی ہوتی ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ میں رقم رکھوانے پر اکاؤنٹ ہولڈر کو سود نہیں ملتا، اور نہ ہی اس کے لیے کوئی سودی معاہدہ طے ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شرعی نقطہ نظر سے اسے سیونگ اکاؤنٹ سے کم تر خطرہ سمجھا جاتا ہے ۔

اگرچہ بینک کرنٹ اکاؤنٹ کی رقم کو سودی قرضوں یا سرمایہ کاری میں استعمال کر سکتا ہے، لیکن اکاؤنٹ ہولڈر کا اس عمل میں براہِ راست تعاون نہیں ہوتا، کیونکہ اس کا مقصد صرف رقم کی حفاظت اور لین دین کی سہولت ہوتا ہے۔

بینک کو کرنٹ اکاؤنٹ کھولنے سے بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔کرنٹ اکاؤنٹس عام طور پر مفت نہیں ہوتے۔ عام طور پر بینک کرنٹ اکاؤنٹ کھولنے، ٹرانزیکشنز، چیک بک جاری کرنے، یا اوور ڈرافٹ کی سہولت جیسے معاملات پر فیس وصول کرتا ہے۔ یہ بینک کے لیے مستقل آمدنی کا ذریعہ بنتا ہے۔ زیادہ تر کرنٹ اکاؤنٹس میں کم از کم بیلنس رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ بینک اس رقم کو قرضوں یا سرمایہ کاری میں استعمال کرکے منافع کماتا ہے۔

بینک اکثر کرنٹ اکاؤنٹ ہولڈرز کو اوور ڈرافٹ کی سہولت دیتے ہیں، جس پر اونچی شرح سود وصول کی جاتی ہے۔ یہ بینک کے لیے ایک بڑا منافع بخش ذریعہ ہے۔زیادہ سے زیادہ کرنٹ اکاؤنٹس بینک کے صارفین کی بنیاد بڑھاتے ہیں، جس سے بینک کی مارکیٹ میں ساکھ اور حصہ داری (Market share) بڑھتی ہے۔کاروباری اکاؤنٹس کی ٹرانزیکشنز سے بینک کو قیمتی ڈیٹا ملتا ہے، جسے وہ مارکیٹ کی ضروریات سمجھنے یا نئی مصنوعات تیار کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ ان فوائد کی وجہ سے بینک کرنٹ اکاؤنٹس کو فروغ دینے کے لیے خصوصی آفرز یا سہولیات پیش کرتے ہیں۔

اسلامی بینکنگ میں کرنٹ اکاؤنٹ مکمل طور پر غیر سودی (ربا سے پاک)ہے۔ اسلامی بینکنگ کے اصولوں کے مطابق، کرنٹ اکاؤنٹس “قرضِ حسن” کی بنیاد پر چلائے جاتے ہیں، جس میں سود کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ اکاؤنٹ ہولڈر اپنی رقم بینک کو بطور امانت (Amanah) رکھتا ہے، اور بینک اسے شرعی اصولوں کے مطابق استعمال کرتا ہے۔اسلامی بینک عام طور پر کرنٹ اکاؤنٹس پر منافع نہیں دیتے، کیونکہ یہ رقم “قرض” کی حیثیت سے ہوتی ہے۔ البتہ، اگر اکاؤنٹ “منافع بانٹنے والا” ہو (جیسے بچت اکاؤنٹ)، تو وہاں پر شراکت (Mudarabah) کے اصول پر منافع تقسیم کیا جاتا ہے۔اسلامی بینک بھی اکاؤنٹ سے وابستہ خدمات پر فیس وصول کر سکتے ہیں۔اسلامی بینک کرنٹ اکاؤنٹس کو شرعی بورڈ کی نگرانی میں چلاتے ہیں، تاکہ تمام لین دین ربا، غرر (غیر یقینی)، اور جوا سے پاک ہوں۔

کرنٹ اکاؤنٹ کھولنا صرف اُس صورت میں جائز ہے جب کوئی متبادل طریقہ دستیاب نہ ہو، مثلاً تجارتی لین دین، بین الاقوامی ٹرانزیکشنز، یا رقم کی حفاظت کی شدید ضرورت۔ بلا ضرورت اکاؤنٹ کھولنا شرعاً ناجائز ہے ۔اگر آپ کا مقصد سود سے مکمل پرہیز ہے، تو اسلامی بینک کے کرنٹ اکاؤنٹ کو ترجیح دیں، لیکن اس بات کو یقینی بنائیں کہ بینک شرعی کمپلائنس سرٹیفکیٹ رکھتا ہو۔

جامعہ بنوریہ اور دیگر اسلامی اداروں کے مطابق، کرنٹ اکاؤنٹ کی اجازت صرف انتہائی ضرورت کے تحت دی جاتی ہے، اور بہتر یہ ہے کہ اس سے بھی اجتناب کیا جائے ۔ کرنٹ اکاؤنٹ کو شرعاً جزوی طور پر قابلِ قبول سمجھا جاتا ہے، لیکن یہ اجازت “ضرورت” اور “بلا اختیار تعاون” کی شرطوں کے ساتھ مشروط ہے۔ اس کے برعکس، سیونگ اکاؤنٹ قطعی حرام ہے۔ لہٰذا، احتیاط اور شرعی رہنمائی کو ترجیح دینا ہی بہترین راستہ ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ فرد کے پیسے کے مندرجہ بالا استعمال کی وجہ عام بینک کرنٹ اکاؤنٹس کو فروغ دینے کے لیے خصوصی آفرز یا سہولیات پیش کرتے ہیں۔ یعنی بینک آپ کو مفت چیک بک اور مفت کریڈٹ کارڈ وغیرہ  کی سہولیات پیش کرتا ہے۔بینک اپنی طرف سے کسی کو کچھ فائدہ پہنچائیں یہ سوچنا بھی محال ہے۔۔کیونکہ یہ تو اس بنئے سے بھی کئی درجہ بدتر ہوتے ہیں جس سے اگر آپ سال بھر سودا لیں تو وہ آپ سے ادھار بھی کر لیتا ہے۔ جبکہ آپ اپنا اکاؤنٹ کئی دہائیوں تک کسی بینک میں رکھیں تو بینک آپ کو ایک دھیلا بھی ادھار نہیں دے گا ۔ ہاں بڑے مگرمچھوں کو جو اَربوں روپے قرضے ہضم کر جاتے ہیں بنک بڑی خوشی سے ادھار دیتا ہے۔

julia rana solicitors

یاد رکھیں! بینک کرنٹ اکاؤنٹ والوں کو یہ تمام سہولیات “اپنی طرف سے ہرگز مفت میں فراہم نہیں کرتا۔” یہ سہولیات وہ آپ کے پیسے سے کما کر آپ کو ہی لوٹا دیتا ہے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہوا کہ  آپ بینک سے جو سہولیات  لے  رہے ہیں وہ بھی سود کے زمرے میں آئیں گی ۔ اور اس کے علاوہ بینک آپ کے پیسوں سے جو کاروبار کر کے منافع کما رہا ہے وہ بھی سود ہوا۔ جو اگرچہ آپ نہیں لے رہے لیکن بینک اسے اپنے سودی کاروبار استعمال کر کے سودی منافع کما رہا ہے۔۔یوں سود نہ لینے کے باوجود مراعات لے کر بالواسطہ طور پر اپ بھی سودی کاروبار میں حصہ لینے کے گنہگار بن رہے ہیں۔
ہے کوئی اس کا جواب دینے والا۔؟

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply