میرا نام عرفان مسیح ہے،میں لاہور کا رہائشی ہوں۔ عرفان میرا علامتی نام ہے، مجھے آپ جیوا مسیح، نیلسن مسیح، فلبیوس، آرتھر، اگسٹن، یا طاہر بھی سمجھ سکتے ہیں۔ میں لاہور کی بستی بابو مہر ٹاؤن میں رہتا ہوں۔
24 مئی 2025 کو آنے والی آندھی سے میرے گھر کی چھت گری، جس سے میری بیٹی موقع پر دم توڑ گئی۔بیوی شدید زخمی ہوئی ۔اسکے سر میں چوٹیں آئی، میں اسے جنرل ہسپتال لاہور لے گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسکے تین جگہ سے پھٹے سر میں ٹانکے لگائے، اور پلنگ خالی نہ ہونے کا کہہ کر ہمیں گھر بھیج دیا۔میں نے بچی دفنائی، اور بیوی کے علاج معالجے میں لگ گیا۔۔ اسی صدمے، غم، بے بسی کی کیفیت میں ، میں یا میرے رشتے دار اس حادثے یا قہر خداوندی کی اطلاع متعلقہ اداروں کو نہیں دے سکے، نہ میرے محلے داروں کو یہ توفیق ہوئی۔کچھ رشتے داروں نے میری بپتا اپنے ایک مسلمان یوٹیوبر دوست تک پہنچائی ،جو انکی یا انسان دوستی کے ناطے اسی دن میرے گھر پہنچ گیا۔ اور تب سے اب تک ہمارے ساتھ رابطے میں بھی ہے ۔اس نے میری کہانی سوشل میڈیا پر لانے کی بات کی۔لیکن مجھے لگا کہ میں نے بیٹی گنوا دی،بیوی زندگی موت کی کشمکش میں ہے، دوسری چھوٹی اور بڑی بیٹی پر یتیمی کی تلوار لٹک رہی ہے ۔ اب اس طرح تو عزت نفس بھی جائے گی۔۔ میں نے اے منع کردیا۔یہ مسلمان یوٹیوبر’ جو اَب مجھے یوٹیوبر سے زیادہ انسان دوست فرشتہ لگنے لگا ہے،نے مجھے بچوں کی طرح سمجھایا، ہم کسی سے کچھ مانگ نہیں رہے۔ ریاست کے کاغذوں میں دوسرے 17 آفت زدگان کی فہرست میں تمہارا بھی نام لکھوانا چاہتے ہیں۔ شاید کل ریاست اگر ان آفت زدگان کے لئے کچھ کرے تو تمہارے خاندان کے لئے بھی چھت بن جائے جو تمہارے جیسے بنیادیں کھودنے والے مزدور کے لئے دوبارہ بنانا مشکل بلکہ ناممکن لگتا ہے۔۔
یوں میں مان گیا، لیکِن مجھے لگا کہ یہ آندھی میری بیٹی کی بجائے مجھے کھا جاتی تو میں اس ذلت سے تو بچ جاتا۔ یوں میری کہانی سوشل میڈیا پر پہنچی۔ میرے ہمدردوں نے میری مذہبی شناخت پر نمائندگی حاصل کرنے والے 4 ایم پی اے ایز، 2 ایم این ایز، اور ایک سینٹر تک براہ راست اور میرے ووٹ سے ایم پی اے اور ایم این اے بننے والوں کے نمائندوں تک بلاواسطہ پہنچائی ۔لیکن میری جان کنی کی حالت میں بیوی کا علاج کروانا تو دور کی بات ،میرے ہمدردر میرا نام آفت زدگان کی فہرست میں بھی نہیں لکھوا سکے۔۔ پچھلے چار دن سے میں مایوس چکا ہوں ۔ میری بیوی قریب کی اشرفیہ کی بستی میں ایک گھر میں کپڑے وغیرہ استری کرنے جاتی تھی۔ آج اس باجی کو کہیں سے اطلاع ملی، اس نے ہمیں مہنگے ہسپتال پہنچایا ،اب مجھے اپنی بیوی کے بچنے کی کچھ امید ہے۔ لیکِن ان پانچ قیامت خیز دنوں اور آخری امید اس فرشتہ صفت خاتون کے رویے کے بعد مجھے اپنے انسان ہونے کے احساس کے ساتھ اپنی اجتماعی مسیحی اوقات کا بھی اندازہ ہوگیا ہے۔میں سینٹر، ایم این اے ایم پی اے بھی ہوسکتا ہوں۔ میں این جی اوز کا مالک بھی ہوسکتا ہوں۔۔ مجھ پر دن رات معجزے بھی برس سکتے ہیں۔میرے ووٹ سے دنیا کی ساتویں اٹیمی طاقت اور آبادی کے لحاظ سے پانچویں بڑی آبادی والی ریاست کا وزیراعظم بھی بن سکتا ہے۔لیکِن میری اجتماعی اوقات اتنی ہی ہے کہ میرا علاج وہ عورت ہی کروا سکتی ہے ،جن کے ہاں میری بیوی کام کرتی تھی۔ جہاں اس خاتون نے مُجھے امید کی کرن دی ہے وہیں اس واقعہ نے مجھے اجتماعی ذلت کا احساس بھی دیا ہے،میری اجتماعی اوقات ہے کیا ؟؟۔۔

میں اتنے بڑے ایوانوں میں بیٹھ کر ایک آفت کے حقیقی شکار خاندان کا نام آفت زدہ خاندانوں کی فہرست میں نہیں لکھوا سکتا ،تف ہے میری اجتماعی اوقات پر۔۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں