فضلائے مدارس عملی زندگی میں ناکام کیوں؟/سراجی تھلوی

مجھے شدّت سے احساس ہے ،کیونکہ میں اک مدرسے کا فارغ التحصیل ہوں لیکن ہنوز میرا  تعلیمی سفر جاری ہے۔یہاں ناکام لکھنے سے مُطلقاً  ہر جہت سے ناکامی مراد نہی ، بلکہ کچھ مخصوص پہلوؤں سے ہے۔
فضلائے مدارس کی معاشی زندگی کے بارے میں عوام سنجیدہ ہے نہ تنظمیں نہ انجمنیں نہ حکومتی اراکین۔
ہم میں سے ہر اک انفرادی طور پر اک سرسری جائزہ لیں تو اندازہ ہوگا۔کسی بھی مسلکی تخصیص کے بغیر مدارس کے فضلائے کرام کی عملی زندگی کو دیکھیں تو استثنائی موارد ،کچھ گنے چنے افراد کے علاوہ غالبا “اکثریت”کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔
مدارس میں 90 ٪ طالب علم کسی وژن کے بغیر حادثاتی طور پر یا احساساتی و جذباتی پہلو غالب ہو کر یا گھر والوں کی خواہش کو مدنظر رکھ کر آتے ہیں۔پھر اک سسٹم میں ڈھل کر فارغ ہوجاتے ہیں۔معدودے چند ہی تخلیقی و تجدیدی صلاحیتوں سے مالا مال ہو کر نکلتے ہیں۔
اس بنیاد پر جب عملی میدان میں قدم رکھتے ہیں تو قدم لڑکھڑانے لگتے ہیں۔نہ ڈگری کی کوئی ویلیو،نہ کوئی ہنر سے مزین ،نہ کوئی تخلیقی صلاحیتوں سے بھرپور۔
اب جو کچھ صلاحیت ہے وہ بھی غمِ روزگار سے مجبور کر انجمنوں ،تنظیموں ،مختلف مذھبی ٹھیکداروں کے ہاتھوں یرغمال ہوجاتے ہیں۔
اس کے نتائج نہایت بھیانک اور ناگفتہ بہ نکلتے ہیں۔
وہ کیسے؟
ہر مسلمان فرد چاہتا ہے کہ وہ دینی تعلیم سے مزین ہو لیکن جب خارج میں ،عملی میدان میں دینی تعلیم حاصل کرنے والوں کے حال زار دیکھتے ہیں تو کوئی بھی یہ نہیں چاہتا کہ انکے بچے دینی تعلیم حاصل کرکے عملی زندگی میں ناکام فرد کے طور پر زندگی کرے۔
یہ سب تفریق ہم نے ہی رکھی ہیں۔ورنہ اسلام میں “نظریہ تفریق بین دین و دنیا” ہے نہیں ۔اسلام نے کبھی دین کو دنیا سے جدا ذکر ہی نہیں کیا۔ بلکہ “الدنیا مزرعة الاخرة”دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔یعنی دنیا کو بطور اسباب استعمال کیے بغیر آخرت میں کامیابی چہ  معنی دارد۔
اک دینی علوم سے مزین شخص ہر لحاظ سے دوسروں کےلیے رول ماڈل”نمونہ عمل “ہونا چاہیے۔کیونکہ “العلماء ورثة الانبیاء ” کے مصداق ہونے کے ناطے اک مثالی معاشرے کی تعمیر و احیاء میں علما  کا کردار نہاہت اہم ہے۔
ایسے میں اگر فضلائے مدارس معاشی ،تخلیقی و تجدیدی پہلووں سے کمزور ہو تو ظاہر سی بات ہے اک مثالی معاشرے کی احیاء ممکن نہیں۔
پھر کوئی عالم ،فاضل کسی مدرسہ ،مسجد میں کسی عہدے پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں تو وہاں کے ذمہ داران اس لحاظ سےنہایت ہی بخیل ثابت ہوتے ہیں کہ 10 سے 15 ہزار کی  تنخواہ پر 24 گھنٹے کی ذمہ داری لگا کے عہدہ برآ ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔مستزاد اس پر منت واحسان کا بوجھ کہ ہم اس مولوی کو تنخواہ دیتے ہیں۔حالانکہ وہی لوگ لاکھوں میں تنخواہ اٹھا کر مہینے کی کارگزاری مشکل سے ہونے کا رونا روتے ہیں۔
مدارس کے حل و عقد کو سنجیدگی کے ساتھ ان مسئلوں پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے کہ مدارس سے فارغ ہونے والے علماء کرام معاشرے میں ایک باعزت، خودمختار،خود کفیل فرد کے طور پر زندگی گزارنے کےلیے فارغ ہونے سے پہلے ہم کیا کام کریں ۔جو مستقبل میں انکےلیے آسانی کا سبب ہو۔
چند امور جن کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔

دینی و دنیاوی تعلیم کی تفریق کو مٹانا۔جب تک اس تفریق کو نہیں مٹائیں گے۔تب تک اس مخدوش و مکدر پاکستانی نظام تعلیم میں فضلائے مدارس کے لیے  جگہ پانا نہایت ہی مشکل ہے۔
مختلف ورکشاب کا انعقاد جس میں مختلف شعبہ ہاے زندگی سے تعلق رکھنے والے ماہرین کو بلا کر گائیڈ کرنا۔
آج کل کے جدید تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے۔مختلف تکنیکی و فنی ہنر سکھانا۔
فری لانسنگ کے حوالے سے   معلومات دینا۔
اس کے علاوہ مختلف انٹرنیشنل یونیورسٹیز کے اندر داخلوں،اسکالرشپز ،کے حوالے سے ضروری ،ابتدائی معیار کے بارے آگاہی دینا۔
عملی زندگی میں پیش آنے والے مشکلات سے دور طالب علمی میں ہی آگاہی دینا۔
ہر ادارے کے اپنے مخصوص رول رگولیشنز ہوتے ہیں۔غالبٙٙا مدارس میں زیر تعلیم طلباء معاصر مسائل ،عالمی تبدیلیوں،معاشرتی ،معاشی ،ثقافتی لحاظ بدلتے حالات سے نابلد ہوتے ہیں۔
اس لیے عملی زندگی میں قدم رکھنے کے بعد اک احساس کمتری کا شکار نظر آتے ہیں۔
نتیجتاً  بہت سارے مقابلوں میں شرکت کرنے سے کتراتے ہیں۔
در حقیقت دوسرے تعلیمی اداروں کے مقابلے میں مدارس کے طلباء محنتی،قابل ،ہوشیار ،نظم و ضبط کے پابند ہوتے ہیں۔لیکن اپنے آپ پر اعتماد ،بھروسہ کی کمی دوسروں کے مقابل میں ابھر کے آنے کےلیے مانع ثابت ہوتا ہے۔
اسکے علاوہ کچھ ظاہری موانع بھی جن کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔

1: معاشرتی جبر

معاشرتی جبر اک ناقابل انکار ناسور ہے۔کسی بھی عذر شرعی ،علت و سبب کے بغیر قدغنیں اور بندشیں لگانا۔۔
اور مدارس سے فارغ کوئی فاضل بزنس کی طرف جاتا ہے۔اب وہ بزنس چھوٹے ،بڑے دونوں لیول پر ہوسکتے ہیں۔
ہمارا معاشرہ کبھی یہ چاہتا ہی نہیں کہ کوئی فاضل کاروباری دنیا میں قدم جمائے۔اگر سو میں سے ایک اس طرف آئے تو اس کےلیے ہزار باتیں کستے ہیں۔حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔
بہت سارے فضلاء اس معاشرتی جبر سے مجبور ہو کر بزنس کی طرف رُخ نہیں کرتے۔صرف امامت و خطابت سے گھر کا چولہا نہیں جلتا ۔پس سفید پوشی میں گھٹ گھٹ مرتے ہیں۔
حالانکہ پیامبر اکرم ص کی  احادیث میں تجارت کی تحسین ہوئی ہے۔بلکہ مستحب و مستحسن عمل ہے۔
تاریخ و سیر کا مطالعہ کریں تو بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ کتنے کبار اصحاب ،فقھاء و عارفین ذاتی کاروبار سے منسلک تھے۔بلکہ اپنے پیشے کے لحاظ سے معروف و مشہور تھے۔یہاں تک انکے نام کے ساتھ بھی وہ پیشہ بطور لقب معروف ہیں۔

2:خوش فہمی

غالباً فارغین مدارس کے اندر اک خوش فہمی پائی جاتی ہے کہ مدرسے کے 8،10دس سالوں میں ہم نے فقہ کی موشگافیوں سے لے کر ادب و زبان کی فنی باریکیوں تک ،منبر و محراب سے لے کر جبہ و دستار تک ،تقریر و تحریر سے لے کر دم درود تک میں دسترس حاصل کر لیے اب عملی زندگی میں ہم پر کامیابیوں کے ہزار در وا ہوں گے۔
لیکن جوں ہی عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں خوش فہمیوں کی شاندار عمارت دھڑم سے گر جاتی ہے۔

3:عوام الناس کے توقعات نابجا

عوام الناس یہ توقع رکھتے ہیں کہ جبہ و دستار ،مخصوص مذھبی و دینی حُلیے،پھٹے پرانے کپڑوں میں زندگی کرے۔کوئی کاروباری ،معاشی ،دیگر سرگرمیوں سے مکمل اجتناب کرے۔
ایسے میں کوئی فارغین مدارس ان میدانوں میں قدم جمانے کی کوشش کرے تو جینا دوبھر کر دیتے ہیں۔
کہنے کو بہت ساری باتیں ،دُکھ ،درد ،احساس،جذبات ہیں۔لیکن دامن قرطاس میں جگہ نہیں۔ہم سب کو مل کر ان خامیوں کی تدارک ،خوبیوں کو پرچار کرنے کی ضرورت ہے۔فارغین مدارس اس زمینی مخلوق سے ہٹ کر کوئی خلائی مخلوق نہیں ۔وہی گوشت وپوست کا مجموعہ ،وہی سینے میں دل ،وہی احساسات و جذبات کے حامل ہیں۔
اسی دُنیا میں جینے کےلیے اُن تمام اسباب کا حصول ضروری ہے۔ جو اک عام انسان کےلیے ضروری ہے۔

julia rana solicitors london

بات نکلے گی تو پھر دور تلک جاے گی۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply