حج اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے، جو ہر صاحبِ استطاعت مسلمان مرد و عورت پر زندگی میں ایک بار فرض ہے۔ اس کی ادائیگی ایک روحانی، جسمانی، مالی اور سماجی انقلاب کا ذریعہ بنتی ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو انسان کو دنیا کی رنگینیوں سے نکال کر اللہ کی بارگاہ میں لے جاتا ہے، جہاں وہ صرف بندہ ہوتا ہے اور اس کا رب۔ مناسکِ حج وہ عملی اعمال ہیں جن کو سر انجام دے کر ایک مسلمان حاجی کہلاتا ہے اور جن کے بغیر حج مکمل نہیں ہوتا۔ ان مناسک کی بنیاد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت پر ہے جنہوں نے ہمیں “خُذُوا عَنِّی مَنَاسِکَکُمْ” یعنی “اپنے مناسک مجھ سے لے لو” فرما کر سکھایا۔
حج کی ابتدا ذوالحجہ کی آٹھ تاریخ سے ہوتی ہے، جسے یوم الترویہ کہتے ہیں۔ اس دن حاجی احرام باندھتے ہیں۔ مرد سفید چادر اور تہبند پہنتے ہیں جبکہ عورتیں عام سادہ لباس میں ہوتی ہیں۔ احرام کا مقصد دنیاوی رتبے، فرقوں اور حیثیتوں کو مٹا کر بندے کو محض عبدِ خالص بنانا ہے۔ احرام کی نیت کے ساتھ لبیک کی صدائیں شروع ہوتی ہیں: “لبیک اللھم لبیک، لبیک لا شریک لک لبیک، ان الحمد والنعمة لک والملک، لا شریک لک”۔ یہ اعلانِ بندگی دراصل حاجی کے دل کی پکار ہوتی ہے، جو اسے مکہ کی طرف لے جاتی ہے۔
احرام کے بعد حاجی منیٰ کی جانب روانہ ہوتے ہیں جہاں وہ رات گزارتے ہیں۔ منیٰ ایک علامت ہے اس خیمہ زندگی کی جہاں انسان کو قیام تو ہے، مگر قیام عارضی ہے۔ منیٰ میں نمازیں قصر کر کے ادا کی جاتی ہیں، اور اس قیام کا مقصد انسان کو صبر، سادگی اور اجتماعیت کا سبق دینا ہوتا ہے۔
نویں ذوالحجہ کو حاجی میدان عرفات کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔ یہ دن حج کا سب سے اہم دن ہوتا ہے۔ یہاں وقوفِ عرفہ فرض ہے۔ حاجی یہاں دوپہر سے غروب آفتاب تک قیام کرتا ہے۔ اسی میدان میں نبی کریم ﷺ نے اپنا مشہور خطبہ حجۃ الوداع دیا تھا۔ عرفات کا میدان ایک کھلی عدالت ہے جہاں انسان اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہے، آنسو بہاتا ہے، رب سے معافی مانگتا ہے اور توبہ کرتا ہے۔ یہاں کھڑا ہونا گویا قیامت کے دن میدانِ حشر میں کھڑے ہونے کی تمثیل ہے، جہاں نہ لباس کی قید ہوتی ہے نہ زبان کی، صرف دل کی پکار سنی جاتی ہے۔ دعاؤں، تلاوتوں، آنسوؤں اور ندامتوں سے یہ میدان بھر جاتا ہے۔ یہی وہ دن ہے جب اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ اپنے بندوں پر فخر کرتا ہے۔
عرفات سے غروبِ آفتاب کے بعد حاجی مزدلفہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔ وہاں پہنچ کر مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی ادا کی جاتی ہیں۔ حاجی وہاں کھلے آسمان کے نیچے رات گزارتے ہیں، اور کنکریاں چنتے ہیں جو اگلے دن جمرات پر پھینکی جاتی ہیں۔ مزدلفہ کا قیام انسان کو عاجزی، بے بسی اور اللہ پر مکمل انحصار کا درس دیتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان اپنے غرور کو کچل کر، زمین پر لیٹ کر اپنے رب سے قریب ہوتا ہے۔
دس ذوالحجہ کو حاجی واپس منیٰ آتے ہیں۔ اس دن تین بڑے اعمال ادا کیے جاتے ہیں: پہلا، جمرہ عقبہ یعنی بڑے شیطان کو کنکریاں مارنا۔ یہ علامت ہے اس وعدے کی کہ ہم شیطان کو اپنی زندگی سے نکال پھینکیں گے۔ دوسرا عمل قربانی ہے، جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کو زندہ کرتی ہے۔ یہ قربانی محض جانور ذبح کرنے تک محدود نہیں بلکہ یہ اپنی خواہشات، گناہوں، لالچ اور انانیت کی قربانی ہے۔ تیسرا عمل حلق یا قصر یعنی سر منڈوانا یا بال کٹوانا ہے، جو تجدیدِ طہارت اور نئے سفر کی علامت ہے۔
ان اعمال کے بعد حاجی مکہ مکرمہ واپس جا کر طوافِ زیارت ادا کرتے ہیں۔ یہ طواف حج کا رکن ہے، اور اس کے بغیر حج مکمل نہیں ہوتا۔ سات چکر خانہ کعبہ کے گرد لگائے جاتے ہیں، اور ہر چکر میں اللہ کی حمد، شکر، دعا، توبہ اور عشق کے جذبات ہوتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں دل، دماغ، جسم اور روح سب اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔
طواف کے بعد صفا اور مروہ کی سعی کی جاتی ہے، جو حضرت ہاجرہ کی عظیم قربانی کی یادگار ہے۔ جب وہ اپنے شیر خوار بیٹے حضرت اسماعیل کے لیے پانی کی تلاش میں دوڑیں تو اللہ نے ان کی سعی کو قیامت تک کے لیے امت کا حصہ بنا دیا۔ سعی ہمیں سکھاتی ہے کہ کوشش بندے کا کام ہے، نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
گیارہ اور بارہ ذوالحجہ کو حاجی منیٰ واپس آتے ہیں اور تینوں جمرات کو کنکریاں مارتے ہیں۔ بعض حاجی تیرہ تاریخ کو بھی رمی کرتے ہیں۔ یہ عمل ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ شیطان ہر لمحہ حملہ آور ہوتا ہے اور ہمیں ہر دن اس کے خلاف جدوجہد کرنی ہے۔ جمرات پر کنکریاں مارنا دراصل ہماری زندگی کے ان لمحوں کو ٹھکرانا ہے جہاں ہم شیطان کے وسوسوں کا شکار ہوئے تھے۔ یہ ہمارا عزم ہوتا ہے کہ اب ہم اس کی پیروی نہیں کریں گے۔
ان تمام مناسک کی ادائیگی کے بعد حاجی واپس مکہ آ کر طوافِ وداع کرتے ہیں، جو حج کا آخری عمل ہوتا ہے۔ اس طواف میں آنکھوں میں آنسو ہوتے ہیں اور دل میں ایک عجیب اداسی کہ اب ہم اس مقدس مقام کو چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان اپنے رب سے وعدہ کرتا ہے کہ یہاں سے جو کچھ سیکھا، اسے اپنی زندگی میں اپنائے گا۔
مناسکِ حج صرف ظاہری اعمال نہیں بلکہ یہ روح کی تربیت کا نظام ہیں۔ ہر عمل کے پیچھے ایک فلسفہ، ایک سبق اور ایک حکمت ہے۔ حاجی جب مناسکِ حج ادا کرتا ہے تو وہ دراصل ایک نئے انسان کی شکل اختیار کرتا ہے۔ وہ گناہوں سے پاک، دل سے نرم، سوچ سے بلند اور عمل سے صالح بن جاتا ہے۔ یہی حج کا اصل مقصد ہے، کہ انسان رب سے تعلق قائم کرے، اپنے نفس کو پاک کرے اور اپنی زندگی کو اللہ کے رنگ میں رنگ دے۔

اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو یہ عظیم فریضہ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے حج کو قبول فرمائے۔ آمین۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں