اللہ میاں کے گھر/شہناز احد

پاکستان میں اردو پڑھنے اور بولنے والوں کے لئے ا شرف شاد کانام اب کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ گزشتہ تین د ہائیوں کے دوران جہاں انھوں نے ناول نگاری کو ایک نئ جہت دی یعنی پاکستانی سیاست، صحافت،صدارت،وزارت سمیت عدالت جیسے موضوعات کو ناولوں کی شکل میں ڈھالا۔ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ان موضوعات سے جڑے کرداروں کو جو زبان دی اور جس انداز میں انھیں گھمایا پھرایا وہ کردار آج بھی بالکل گھڑی کی سوئ کی طرح یا تو آگے پیچھے گھوم رہے ہیں یا ساکت کھڑے ہیں۔
ناول نگاری کے ساتھ،ساتھ اشرف اندرون خانہ اور بھی کئ شوق رکھتے ہیں۔ جیسے شعر کہنا پھر مجموعہ بناکے چھاپنا،ایسے ہی ان کا ایک اور شوق افسانہ نگاری کا بھی ہے۔ ان کے افسانوں کاایک مجموعہ “ پیلی لکیر” کے نام سے کئ برسوں قبل چھپ بھی چکا ہے۔
اس بار ان کے مجموعہ کانام “ اللہ میاں کے گھر “ ہے۔ اشرف نے جب جلاوطن، صدر محترم ، وزیر اعظم اور جج صاحب جیسے ناول لکھے تو قاری کو لگتا تھاکہ جیسے وہ خود وزیر اعظم ہاؤس یا ایوان صدارت میں بیٹھے ہواور وہاں کی دیواروں، راہ داریوں کو بولتے دیکھ رہا ہو۔
افسانوں کی اس کتاب میں ان کا افسانہ جو کہ کتاب کا عنوان بھی ہے۔ “ اللہ میاں کے گھر ! پاکستانی سیاستدانوں،حکمرانوں،سیاست کے مہروں اور ان طبقات سے جڑے شاعروں، ادیبوں ،دانشوروں،مذہبی ٹھیکیداروں اور اس کاروبار سے جڑے دیگر کرداروں کاعالم بالا میں ایک خصوصی اجتماع کا حال ہے” یہ اجتماع ایک خصوصی این او سی کے تحت جنت کے باغوں میں، دودھ کی نہروں کے درمیان جبرئیل کے اشاروں پرمنعقد کیا گیا ہے۔ اس اجتماع کے شرکاء کی کافی بڑی تعداد خصوصی اجازت نامے کے زیر سایہ دوزخ سے جنت میں تشریف لائ ہے”۔
اس اجتماع کی صدارت جبرئیل کی کوششوں سے قائداعظم کر رہے ہیں۔ اس خواہش اور احساس درد مندی کے ساتھ” پاکستان کس طرح سدھر سکتا ہے”۔
پاکستان کا بانی ہونے کے ناطے اس اجتماع میں قائد کو جو کچھ سننا،دیکھنا، برداشت کرنا پڑا بشمول رویوں کی بدصورتی کے،اس کا اندازہ افسانہ پڑھنے سے ہی ہوسکتا ہے۔ اجتماع کے آخر میں جبرئیل قائد سےایک سوال کرتے ہیں کہ “ آپ مجھے بتانا پسند کریں گے کیا فیصلہ ہوا؟” تو قائد بہت مجبوری کے عالم میں یہ کہنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ”سب کچھ اسی طرح چلتا رہے گا—- پاکستان اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے۔ جو کچھ ہورہا ہے اسی طرح ہوتا رہے گا۔ نہ ابابیلوں کا لشکر جاۓ گا، نہ رحمت کے بادل من وسلوی برسائیں گے نہ ہی کوئ آسمانی مداخلت ہوگی”۔ افسانے کے اس موڑ پے جبرئیل غائب ہوجاتے ہیں۔
اس افسانے کی خوبصورتی وہ گفتگو ہےجو قائد اور عالم بالا میں موجود کرداروں کے درمیان ہوتی ہے۔
اس کتاب میں سات افسانے ایک دم تازہ با تازہ ہیں۔ پانچ افسانے اشرف کی پیلی کتاب کا انتخاب ہیں۔ اس کے علاوہ پانچ کرداری انتخاب ان کی مختلف ناولوں کے ہیں۔ یہ کتاب دراصل ہندوستان میں ریختہ نے چھاپی ہے۔ تازہ افسانوں کے علاوہ بقیہ انتخاب ریختہ ہی کا ہے۔ یہ کتاب اس کا پاکستانی ایڈیشن ہے۔
اشرف شاد کے افسانے ان کی ناولوں کی طرح موضوعات کے گرد ہی گھومتے ہیں۔ ناولوں کی طرح ان کے افسانوں کا رومانس بھی in between the lines ہی ہوتا ہے لیکن ان کی کہانی کا مرکز اور کردار افسانے میں رومانیت کی کمی کا احساس نہیں ہونے دیتے۔
دوسو دس صفحات پر مشتمل اس کتاب کو “ بدلتی دنیا” نے چھاپا ہے اور فضلی سنز اس کے تقسیم کار ہیں۔
اچھی کتب اور افسانہ پڑھنے کے شوقین لوگوں کے لئے “ اللہ میاں کا گھر “ ایک اچھی کتاب ہے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply