سوشل میڈیا ڈیجیٹل مایا جال ہے، اور میری کوشش رہتی ہے کہ مایا جال کو سمجھ کر اس میں جینا سیکھا جائے نہ کہ اسکو حقیقت مان کر اس میں ڈوبا جائے۔ اور یہی وجہ ہے کہ میں نے بنا کچھ بتائے سوشل میڈیا سے بریک لیا کیونکہ مجھے لگا کہ یہ تو مایا جال ہے میں آؤں یا جاؤں کسی کو فرق نہیں پڑتا، تبھی کچھ بھی بتانے کی ضرورت نہیں کہ میں وڈیوز کیوں نہیں بنا رہی یا پھر تھراپی کیوں نہیں لے رہی، لیکن میری سوچ غلط ثابت ہوئی اور چند افراد ہیں جنہیں اس بات کا جواب چاہیے کہ میں کیوں وڈیوز نہیں بنا رہی۔
دراصل میں نے ایک چھوٹا سا ”توقف“ لیا ہے، یہ جان کر نہیں کیا بلکہ یوں کہیے کہ اللہ اور اسکی کائنات کے تشکیل کردہ حالات نے مجبور کیا بریک لینے پر۔ میرے مسائل تو تقریباً دو دن میں ہی حل ہو گئے تھے البتہ مجھے یوں محسوس ہوا کہ مجھے مزید آگے جانے سے پہلے چند قدم پیچھے جانے یا پھر توقف لینے کی ضرورت ہے۔ آپ میں سے بہت سے لوگ میری طرح ہمیشہ آگے جانے اور مستقل مزاجی کے بارے میں سوچتے ہونگے، اتنے سارے مواقع ہمارے سامنے ہوتے ہیں، اتنا کچھ کرنا ہوتا ہے کہ ہمارے ذہن سے یہ خیال کبھی ہوکر گزرتا ہی نہیں کہ ہمیں کبھی کبھار تھم جانا یا بریک لینا چاہیے۔
میرا اس بات پر بہت پکا ایمان ہے کہ ”ہر کام میں اللہ کی مصلحت ہوتی ہے“، پہلے میں اس جملے کو یونہی بنا اسکی لاجک اور اس میں موجود دانش کو سمجھے، خود کو تسلی دینے کے لیے ایسا کہتی تھی لیکن وقت کے ساتھ سمجھ آیا کہ ہم انسانوں کا ارتقاء اپنے ارد گرد کے ماحول پر گہری نظر رکھنے، مشاہدہ کرنے، خطرات ڈھونڈنے کے لیے ہوا ہے، ہم اپنی حسوں، مشاہدے اور ذہانت کی بنیاد پر ماحول کا جائزہ لے کر فیصلہ کرتے تھے جب انسان ہنٹر گیدرر تھا (لیکن آج کل ٹیکنالوجی ہمارے دماغوں کو جکڑے رکھتی ہے، جیسے کہ ہمارا دماغ اور حسوں کو ہائی-جیک کرلیا گیا ہو) بلکل اسی طرح اگر آپ کی زندگی میں کچھ برا ہوا ہے، یا جو آپ چاہتے ہیں وہ نہیں ہورہا تو اس کے لیے آپ کو مشاہدہ کرنا ہوتا ہے کہ حالات کیا ہیں اور انکا تقاضا کیا ہے؟ آپ کی سوچ اور عادات کیا ہیں؟ باہر کی دنیا کس طرح آپ کے گولز پر اثر انداز ہورہی ہے؟ آپ کے اقدامات کیا ہونے چاہیے؟ اگر حالات سازگار نہیں تو اقدامات بدلنے پڑتے ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ آپ کے لیے اپنے گولز/روٹین میں سے چند چیزوں کو کم کرنا ضروری ہو، خاص کر جب آپ باہر کے حالات کو بدل نہیں سکتے، اور جب آپ اپنی پلیٹ میں سے بادلِ نخواستہ کچھ چیزیں کم کرتے ہیں تو آپ بہتر اقدامات لے پاتے ہیں ( اقدامات بدلنے کے بعد جب ہمارے مسائل نارمل ہوجاتے ہیں تب ہم مصلحت والا جملہ دہراتے ہیں)۔
کمپیوٹر سائنسدان کال نیوپورٹ اپنی کتاب ”سلو پروڈکٹوٹی“ (slow productivity) میں کہتے ہیں کہ اپنی سکت کے مطابق اپنے گولز رکھنا(ہر انسان کی سکت الگ ہوتی ہے)، اپنی نیچرل رفتار سے کام کرنا (ہر انسان کے کام کو مکمل کرنے کی رفتار بھی منفرد ہوتی ہے) اور کام کے معیار کو بہتر کرنے کا جنون آپ کو برن-آؤٹ (burn out) سے بچاتا ہے۔
لیکن یہ سب آسان نہیں خاص کر تب جب جدید دنیا کے بظاہر نظر آنے والے لاتعداد میسر مواقعوں کے جھوٹ اور مایا جال کی حقیقت کا علم نہ ہو۔
ہم نفسیات میں غصہ اور جارحیت سے منسلک رویہ سے نمٹنے کے لیے ”توقف تھراپی“ (pause therapy) جسے ”پاورفل یا مقدس توقف“ (powerful or sacred pause) بھی کہتے ہیں، تجویز کرتے ہیں، ایک چھوٹا سا توقف لینے کی عادت آہستہ آہستہ کلائنٹ کے رویے کو بہتر کرنے میں مدد کرتی ہے۔ اس توقف کے درمیان انسان اپنی سوچ، جذبات اور جسم میں احساسات کا رخ موڑ سکتا ہے۔ ضروری بات کرنے یا فیصلہ لینے سے پہلے توقف آپ کو نقصان سے بچا سکتا ہے۔ یونہی کبھی کبھار اپنے کام اور دنیا کی چکا چوند سے کچھ دنوں کا بریک آپ کو اپنی سوچ، جذبات، عمل اور احساسات کو سمجھنے اور ضرورت پڑنے پر تبدیل کرنے کا موقع دیتا ہے۔
میں نے اس بریک میں کچھ دلچسپ کتابیں پڑھیں، اپنی کئی غلطیاں، بلائنڈ اسپاٹ اور شیڈو بھی ناچاہتے ہوئے دیکھنے پڑے، اور کچھ نیا فلسفہ بھی پڑھا ہے، جسے میں اپنے چینل پر ضرور شیئر کروں گی، شاید آپ کے کام آجائے۔
ضروری بات! بریک یا توقف کا یہ مطلب نہیں کہ آپ سوشل میڈیا پر کتاب پڑھتے یا سوچتے ہوئے اپنی تصاویر کو پوسٹ کریں، اس کا مطلب ہی سوشل میڈیا اور ہر اس جگہ سے وقفہ لینا ہے جہاں سے آپ کو لگاؤ ہے، جہاں سے آپ کو توثیق
ملتی ہے، جہاں سے آپ کے دماغ میں ”ڈوپامین“ (پلیژر کا ہارمون) خارج ہوتا ہے، ضرورت پڑنے پر کبھی کبھار مایا کے اس ناختم ہونے والے جال سے کچھ دنوں تک فاصلہ رکھنا بہتر ثابت ہوسکتا ہے۔
ان شاء اللہ جون کے مہینے سے ملاقات ہوگی آپ سب سے اگر زندگی رہی اور اللہ نے چاہا تو!
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں