یہ الیکشن نہیں سلیکشن ہے شیر کے خلاف کلیلہ کی کھلی بغاوت (5)- محمد ہاشم خان

یہ بازو مرے آزمائے ہوئے ہیں
حلقہ زن عسکریوں سے امیر جنگل کا خطاب
جمعہ کا مقدس دن تھا، کلیلہ کی فوج نے شیر کا محاصرہ کر رکھا تھا۔ شیر اپنے جاہ و جلال اور عظمت و حشمت کے ساتھ باہر نکلا، کلیلہ فلسفی کی قیادت میں خیمہ زن باغیوں کی فوج کو شان بے اعتنائی سے دیکھا، دو چار بار اس نے دہاڑ لگائی، کچھ جانور ڈر کر دبک گئے اور سہم کر پیچھے ہو لیے، کلیلہ محاذ پر ایک جری سردار کے طور پر ڈٹا رہا۔ وہ اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوا۔ شیر حالت غضنفری میں چہل قدمی کر رہا تھا، وہ یوں اگاڑا پچھاڑا مار رہا تھا گویا وہ حملہ کرنے کے لیے پر تول رہا ہے، جب اس نے دیکھا کہ فوج کے کمزور سپاہی کچھ خوفزدہ تو ضرور ہوئے ہیں لیکن پیچھے نہیں ہٹے ہیں تو پھر اسے ایک دوسری ترکیب سمجھ میں آئی۔ اس کے اجداد میں ضرغام نام کا ایک بہت بڑا عالم گزرا تھا اس کی حکمت و دنائی کے چرچے دوسرے جنگلوں میں بھی تھے، اس کے اقوال صحیفے کی شکل میں موجود تھے۔ ضرغام نے اپنے قبیلے کو بقائے دوام کا نسخہ بتاتے ہوئے وصیت کی تھی کہ جب جنگل میں فتنہ و فساد شروع ہو جائے، چار سو نراج، انتشار اور لامرکزیت ہو اور تمہاری رعایا خروج و بغاوت پر اتر آئے تو معاملہ اللہ کے حوالے کر دینا اور ان سے کہنا کہ بادشاہ کے خلاف خروج و بغاوت اللہ رب العزت کو پسند نہیں، اگر تم اس اللہ واحد پر یقین رکھتے ہو جس نے تمہیں جانور اور مجھے تمہارا بادشاہ بنایا ہے تو تم یقیناً اپنی اس غیر ایمانی اور غیر منہجی حرکت سے باز آ جاؤ گے اور واپس ہمارے مطیع و فرمانبردار بن جاؤ گے۔ صبح کا بھولا اگر شام کو گھر آ جائے تو اسے ہم بھولا نہیں کہتے۔
بوڑھے جہاں دیدہ شیر نے خطبہ مسنونہ کے بعد اپنے سامنے حلقہ زن عسکریوں کو دیکھا، ایک ایک چہرے کو غور سے پہچانا۔ اس نے دیکھا کہ سپہ سالار اعظم سیدالذئاب فلسفی کلیہ اپنی لشکر کے ساتھ قلب میں ہے، گینڈوں کا سردار سید الكركدنيات عرف كَرْكَدَّن اپنی فوج کے ساتھ میمنہ پر اور ہاتھیوں کا سردار سید الفیول عرف خرطومہ اپنے لشکر کے ساتھ میسرہ پر کھڑا ہے، اور ان کے پیچھے ایک بڑی نفری پیادہ فوج کی ہے جس میں جنگل کے دوسرے چھوٹے بڑے جانور شامل ہیں۔ اس نے اپنی چشم خوں فشاں میں ان سب کی تصویریں قید کر لیں اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد باغیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
جنگل کے میرے معزز بھائیو، بہنو اور عزیز و اقارب
تمام تعریفیں اس اللہ رب العالمین کے لیے ہیں جس نے ہمارے لیے یہ کائنات بنائی اور مجھے اس کا حاکم بنایا، تمام نعتمیں اس رب خاکدان کی ہیں جس نے تمہیں جانور اور مجھے تمہارا بادشاہ بنایا، تمہیں اس وسیع و عریض جنگل و بیابان کا رعایا اور مجھے تمہارا چرواہا بنایا۔ یہ اللہ کی فضل و رحمت ہے جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت سے نوازتا ہے اور جس کو چاہتا ہے آزمائش میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اس نے کسی کو کمزور اور کسی کو طاقت ور بنایا، کسی کو بندر، سور اور چھگڑی بنایا تو کسی کو چیتا، بھیڑیا اور شیر بنایا اور انہیں شعوب و قبائل میں تقسیم کیا تاکہ ایک دوسرے کو پہچانیں اور معاشرے میں توازن قائم رہے۔ میرے بھائیو! توازن کا معاملہ بڑا پیچیدہ ہے، صرف خیر ہو تو بھی توازن نہیں اور صرف شر ہو تو بھی توازن نہیں۔توازن خیر و شر کے درمیان لٹکتا ہوا پینڈولم ہے اور یہی اصل آزمائش ہے، لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ کچھ لوگ اس توازن کو بگاڑنا چاہتے ہیں، میں دیکھ رہا ہوں کہ شر خیر کل نگلنا چاہتا ہے۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ گیدڑ اپنی ذات سے خوش نہیں ہے وہ بھیڑیا بننا چاہتا ہے اور بھیڑیا شیر بننا چاہتا ہے اور یہ سب چاہتے ہیں کہ میں چھگڑی بن جاؤں۔ تو میرے دوستو! ایسا ہونا نہیں ہے، ایسا ہوگا نہیں اور ایسا میں ہونے نہیں دوں گا، یہ اللہ کی مشیت کے عین برعکس ہے کہ شیر چھگڑی ہو جائے، یہ تمہارا خروج، یہ تمہاری بغاوت اللہ کی مشیت کے خلاف ہے۔ یہ فساد فی الارض ہے۔
شیر نے تیز و تند لہجے میں ایک ہلکی سے وارننگ دینے کے بعد اپنے لہجے میں گداختگی پیدا کرتے ہوئے کہا:
راہ سے بھٹکے ہوئے میرے غیور جنگلی بھائیو! اللہ نے باہمی مواخات و محبت، موالات و رواداری اور صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی ہے، اب تک ہم نے اسی پر عمل کیا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو خدا گواہ ہے کہ آج تم میں سے کوئی محفوظ نہیں رہتا۔ ہمارے قبیلے کے خونخوار اور وحشی لوگ تم سب کو چیر پھاڑ کر کھا جاتے اور اگر غلطی سے کوئی بچ بھی جاتا تو کم از کم وہ اس پوزیشن میں نہیں رہتا کہ ہمارے سامنے کھڑا ہوکر اپنا ٹرم ڈکٹیٹ کرواتا۔
سیاسی انحراف کے رستے پر چلنے والے میرے دوستو! بغاوت ایک ایسا فتنہ ہے جو قوموں کو تباہ و برباد اور سلطنتوں کو ملیا میٹ کر دیتا ہے۔ جب کوئی قوم اس فتنے کا شکار ہوتی ہے، تو بس ذلت و خواری ہی اس کا مقدر رہ جاتی ہے۔ وہ ذلت و خواری جو میں تمہارے ملعون بن مانسی چہروں پر دیکھ رہا ہوں۔ ایسے لوگ تاریخ کی بھول بھلیوں میں ہمیشہ کے لیے فراموش ہو جاتے ہیں۔ تمہیں اللہ کے نبیوں میں سے ایک برگزیدہ نبی حضرت سلیمان علیہ السلام کا واقعہ یاد ہوگا۔ تمہیں یاد ہوگا کہ ملکہ صبا نے کیا کہا تھا۔ تمہیں یاد نہیں ہوگا کیوں کہ تم علم، حکمت اور شرافت سے محروم ایک جاہل قوم ہو اس لیے میں تمہیں بتاتا ہوں کہ اس نے کیا کہا تھا۔ اس نے کہا تھا ’’یہ طاقت وَر بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں، تو اُسے فتح کرنے کے دوران اُجاڑ دیتے ہیں اور وہاں کے باعزت لوگوں کو قتل و غارت گری کے بعد قیدی بناکر ذلیل و خوار کر دیتے ہیں اور یہ لوگ بھی ہمارے ساتھ ایسا ہی کریں گے‘‘۔ یہی آج میں تم سے کہنا چاہتا تھا لیکن واللہ یہ میری جنگلی غیرت، یہ قبائلی اصالت، یہ خاندانی نجابت ہے جو مجھے یہ قدم اٹھانے سے روک رہی ہے۔واللہ دل تو چاہ رہا ہے کہ تمہاری بیویوں کو بیوہ کر دوں، تمہارے بچوں کو یتیم کر دوں، تمہارے مکانات، محلات اور باغات کو تہس نہس کر دوں لیکن یہ ہماری بنیادی جبلت، نسلی مفاخرت، یہ پادشاہی اور کشادہ ظرفی ہے کہ ہم تمہیں جینے کا ایک موقعہ اور دینا چاہتے ہیں۔
شیر نے رک کر سانس لیا، سامعین کو بغور دیکھا، اس نے دیکھا کہ چھوٹے جانور گردنیں اچکا کر اس کی بات سننے کی کوشش کر رہے ہیں اور بڑے جانور بے زار نظر آ رہے ہیں۔ وہ سوچنے لگے کہ اس حرام خور کے اندر شرافت کے جراثیم کب پیدا ہوئے۔
۲۵ سالہ بادشاہت کا تجربہ رکھنے والے بوڑھے شیر نے شائستگی، وقار اور متانت کے ساتھ اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا
اللہ رب العزت فرماتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اور ان کی جو تم میں سے صاحبِ امر ہیں۔ یہاں اولی الامر سے مراد میں ہوں، صاحب امر میں ہوں، سو میری اتباع تمہارے اوپر لازم ہے، اس وقت تک جب تک کہ میں سرکشی نہیں کرتا، اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کی صریح نافرمانی نہیں کرتا، مرتد، ملحد اور لادین نہیں ہوجاتا۔ اور آپ جانتے ہیں، اللہ گواہ ہے کہ میں اس کے بندوں میں سے ایک نیک بندہ ہوں، زاہد شب زندہ دار ہوں، اللہ کے حضور انفعال کے یہ پسینے، پشیمانی کے یہ قطرے، ندامت کے یہ آنسو، یہی سرشک متاع اخر شب، یہی کل میرا متاع حیات ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ میں نے قارون کا خزانہ جمع کر رکھا ہے۔ڈرو تم اس دن سے جب تم روز محشر اللہ کے سامنے ہو گے اور وہ تم سے پوچھے گا کہ تم نے میرے انتہائی نیک اور پارسا بندے کی پارسائی پر الزام کیوں لگایا تھا؟ تمہارے اندر شرم نام کا ایک مادہ تھا افسوس کہ اب وہ بھی نہیں رہا۔
شیر نے جوش جذبات میں باغیوں کو للکارتے ہوئے کہا:
کیا تم میں سے کوئی اس بات کی گواہی دے گا کہ درج بالا عیوب و خبائث میرے اندر موجود ہیں؟ وہ سامنے آئے اور کہے کہ اس نے مجھے منکرات و مفسدات میں ملوث پایا ہے، آئے اور کہے کہ اس نے مجھے عقیدے کے ساتھ سمجھوتہ کرتے ہوئے پایا ہے، اپنے اسلاف کی میراث کو ضائع کرتے ہوئے پایا ہے۔ قسم واللہ یہ امارت و بادشاہی کیا چیز ہے، میں آپ لوگوں کے لیے اپنی جان حلال کردوں گا۔
جب گواہی دینے کے لیے کوئی سامنے نہیں آیا تو بوڑھے سردار نے دو تین بار زور سے دہاڑیں مار کر اپنی نیک نامی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے واپس گویا ہوا۔ پس ثابت یہ ہوا کہ میرے خلاف تم لوگوں کے الزامات کسی اور کی سازش نیز اغراض نفسانیہ کا شاخسانہ ہیں۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جس نے اپنے امیر میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھی تو اسے چاہیے کہ صبر کرے، اس لیے کہ جس نے جماعت سے بالشت بھر بھی علیٰحدگی اختیار کی اور اسی حالت میں مر گیا تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔“ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خروج و بغاوت مبغوض ترین کام ہے جس سے تمہیں ہر صورت بچنا چاہئے۔تمہارا امیر ہونے کے ناطے میرے لیے ضروری ہے کہ میں تمہیں خروج و بغاوت کے نقصانات سے آگاہ کردوں تاکہ یوم جزا و سزا میں تمہاری جوابدہی کا مکلف نہ رہوں۔ سو میرے یوسفی بھائیو! اتمام حجت کے لیے عرض ہے کہ:
بغاوت سے فتنہ و فساد پیدا ہوتا ہے۔ اس کے فوائد کم اور نقصانات بہت زیادہ ہیں۔ سماجی شیرازہ بندی منتشر ہوجاتی ہے، بدامنی جنم لیتی ہے اور معصوم و بے گناہ لوگ مارے جاتے ہیں۔ اس بغاوت میں میرے خلاف یہ جو فوج جمع کی گئی ہے اس میں سیدھے سادے معصوم جانور بھی شامل ہیں جو یقیناً کلیلہ کے دجل و فریب میں آگئے ہیں اور یہی سب سے پہلے مارے جائیں گے، اب ایسے انقلاب کا کیا فائدہ جس سے وہ خود مستفید نہیں ہو سکتے۔ اگر آپ یہ سوچتے ہیں کہ آپ کے بچوں کو اس کا فائدہ ملے گا تو خیال رہے کہ میرے بعد جو بھی اقتدار میں آئے گا وہ اپنے اقتدار کی سالمیت و بقا کے لیے وہی سب حربے استعمال کرے گا جس کا آپ میرے اوپر الزام لگا رہے ہیں۔
میرے بھائیو! بغاوت سے قتل و غارت کا بازار گرم ہوتا ہے۔ ایک بازار تو لگ گیا ہے اور ایک بازار انقلاب آنے کے بعد لگے گا جب ان تمام لوگوں کو ایک ایک کرکے چن چن کر قتل کیا جائے گا جو کسی بھی صورت اقتدار کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ہمارے اجداد کہتے تھے کہ قتل و خون سے آنے والا پرتشدد انقلاب بدلے میں قتل و خون ہی چھوڑ کر جاتا ہے۔ ایک جانور کا قتل دشت کے سارے جانوروں کے قتل کے مترادف ہے اور یہ ہمارے جنگلی نیز عائلی اصول و قوانین کے خلاف ہے۔
میرے پاس وقت بہت قلیل ہے اور باتیں بہت طویل۔ اس لیے مختصراً بس اتنا کہوں گا کہ صبر اور دعا کرو ، علما و مشائخ کی صحبت اختیار کرو، مفسدین کی رفاقت سے دور رہو، مذاکرات، مصالحت اور حکمت و دانائی کے ذریعے مسائل کا حل نکالو، میں نے تمہارے لیے جگہ جگہ گپھائیں تعمیر کروا دی ہیں، زیادہ سے زیادہ وقت عبادات اور مراقبے میں صرف کرو، ذکر و اذکار کرو، انشاء اللہ ایک ایک کرکے تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔
میرے بھائیو! ہمارا جنگلی مذہب امن، محبت اور اخوت کا درس دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے درمیان انتشار اور بغاوت کی آگ کو بھڑکانے کے بجائے، صبر و استقامت سے کام لیں۔ آؤ عہد کریں کہ ہم اپنی قوم اور ملک کی ترقی کے لیے متحد رہیں گے۔ لہٰذا میں آخری بار آپ لوگوں سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ لوگ اپنے اپنے ہتھیار ڈال دیں، میں تمہارے گناہوں کو معاف کرنے والا ایک عالی ظرف بادشاہ ہوں۔ مجھ سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت نصیب فرمائے اور ہمیں ہر فتنے اور بغاوت سے محفوظ رکھے۔آمین۔
(جاری ہے)

Facebook Comments

محمد ہاشم خان
لوح جہاں پہ حرف مکرر نہیں ہوں میں (مصنف افسانہ نگار و ناقد کے علاوہ روزنامہ ’ہم آپ‘ ممبئی کی ادارتی ٹیم کا سربراہ ہے) http://www.humaapdaily.com/

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply