پاکستان کے اٹیمی پروگرام کے بانی ذوالفقارعلی بھٹو اور پاکستان کے میزائل پروگرام کی دوسری بانی بھٹو بے نظیر بھٹو تھی۔
حتف پروگرام ، پاکستان کی وزارت دفاع (MoD) کی طرف سے گائیڈڈ میزائلوں کی جامع تحقیق اور ترقی کے لیے ایک درجہ بند پروگرام تھا۔ اقدامات 1986-87 میں شروع ہوئے اور 1989 میں ہندوستان کے مساوی پروگرام کے براہ راست جواب میں وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی اس پروگرام کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔
میزائل ٹیکنالوجی پر کام بینظیر بھٹو کے دور میں شروع کیا اور کم وسائل کے باوجود ملک کو ایٹمی اور میزائل قوت بنایا۔ بینظیر بھٹو نے 1989 میں میزائل ٹیکنالوجی کے پروگرام کا آغاز کیا جس نے مختصر رینج میزائل تیار کیے جو اس ٹیکنالوجی پر بین الاقوامی پابندیوں کی خلاف ورزی نہیں کرتے.
بینظیر بھٹو نے 1993 میں جب وہ پاکستان کے وزیر اعظم کے طور پر شمالی کوریا جا رہی تھے تو، پاکستانی سائنسدانوں نے ملک کے ایٹمی اور میزائل پروگراموں پر کام کرنے سے متعلق کہا کہ وہ شمالی کوریا کے میزائل میزائلوں کے بلیو پرنٹس missile blueprints لے آئیں .اپنی جان پر کھیل کر۔ کیونکہ بینظیر بھٹو کے جہاز میں یہ بلیو پرنٹس missile blueprints تھے۔ اس جہاز کو میزائل سے گرانے کا بہت زیادہ اندیشہ تھا۔انہوں نے یہ خطرہ مول لیا کیونکہ وہ ایک بہادر قوم پرست باپ کی بہادر قوم پرست انتہاہی نڈر بیٹی تھی- بینظیر بھٹو نےایک بار کہا کہ میں موت سے بہت ڈرتی تھی مگر اُس آخری ملاقات نے جو ڈیتھ سیل میں 2 اور 3 اپریل 1979 کو بھٹو صاحب سے ہوئی یہ خوف بھی ختم کر دیا۔
حتف پروگرام پاکستان کی وزارت دفاع (MoD) کی طرف سے گائیڈڈ میزائلوں کی جامع تحقیق اور ترقی کے لیے ایک درجہ بند پروگرام تھا۔ 1989 میں ہندوستان کے مساوی پروگرام کے براہ راست جواب میں وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی حمایت حاصل کی – وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے دور میں، حتف پروگرام کو ہندوستان کے ساتھ میزائل کے فرق کو پورا کرنے کے لیے جارحانہ طریقے سے آگے بڑھایا گیا۔ بینظیر بھٹو کی حکومت نے چین اور بعد میں شمالی کوریا کے ساتھ راکٹوں پر انجینئرنگ کی تعلیم اور تربیت پر بات چیت کی۔ رکاوٹوں اور پابندیوں کے باوجود، حتف پروگرام کو قابل عمل بنایا گیا، اور سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کو ایلیسیا پیٹرسن فاؤنڈیشن کی ایملی میکفرقار نے “پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی کی سیاسی معمار” کے طور پر بیان کیا ہے۔ 2014 میں، سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بے نظیر بھٹو کی شراکت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا، “بے نظیر بھٹو نے اس ملک کو انتہائی ضروری میزائل ٹیکنالوجی دی۔ 1995 میں، پاکستان نے ٹھوس ایندھن کے پلیٹ فارم پر مبنی مختصر فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی تیاری کے لیے ایک پروگرام شروع کیا، جس میں چین ایرو اسپیس اور کنٹرول انجینئرنگ میں تکنیکی مدد اور تعلیم فراہم کرتا ہے۔ نیشنل ڈیفنس کمپلیکس، M-11 کے ڈیزائن سے ماخوذ۔: 235–244ءغزنوی کے راکٹ انجن کا، جس کا 1997 میں تجربہ کیا گیا، ایک اہم پیش رفت تھی۔ڈیسٹو نے غزنوی اور ابدالی کے لیے پانچ مختلف وار ہیڈز ڈیزائن کیے، جو 600 کلومیٹر پر 0.1% کے CEP کے ساتھ فراہم کیے جا سکتے تھے۔
اس دوران، شاہین پروگرام کو نیشنل ڈیفنس کمپلیکس (NDC) نے آگے بڑھایا اور تیار کیا۔ تکنیکی خرابیوں کا سامنا کرنے کے باوجود شاہین پروگرام ترقی کرتا رہا، اس نے 1999 میں اپنا پہلا پروٹو ٹائپ تیار کیا۔یہ پروگرام پائیدار ثابت ہوا، جس نے بہتر قسمیں پیدا کیں۔ابابیل کو MIRV صلاحیت کے ساتھ بھارت کے میزائل دفاع کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
حتف پروگرام نے مائع ایندھن کی ٹیکنالوجی میں تنوع پیدا کیا، جس کی قیادت KRL کے ساتھ ہوئی۔ اس پروگرام کے لیے ٹیکنالوجی براہ راست شمالی کوریا سے آئی تھی، جس میں بے نظیر بھٹو انتظامیہ کی معاونت تھی۔ پاکستانی فوج کے ذرائع اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ بینظیر بھٹو کے ماتحت وزارت خزانہ نے شمالی کوریا کے سائنسدانوں کو ایرو اسپیس انجینئرنگ کی تعلیم کے لیے پاکستانی یونیورسٹیوں میں منتقلی کی سہولت فراہم کرنے کے لیے شمالی کوریا کو کافی رقم ادا کی تھی۔۔
پاکستان کی فوجی صلاحیت کیسی ہے کیونکہ پاکستان نے الحمدللہ اپنے بل بوتے پر دفاعی میدان میں بڑی ترقی کی 1984 میں جب پاکستان نے پر یسکر ترمیم کے بعد یہ دیکھا کہ پاکستان کو بین الاقوامی امداد نہیں ملے گی تو محترمہ بے نظیر بھٹو نے پاکستان کے میزائل پروگرام کی بنیاد رکھی اصل میں کہتے ہیں کہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے میزائل پروگرام کی فائل پر دستخط نہیں کیے حقیقت میں اپنی حکومت کے خاتمے کی فائل پر دستخط کیے اس وقت پاکستان میں چھ امریکی سفیر کرسٹینا روکا کی قیادت میں آئے اور اس اتنے بڑے دورے کا مقصد صرف محترمہ کو ان کے میزائل پروگرام کے عزائم سے باز رکھنا تھا محترمہ کو باقاعدہ دھمکی دی گئی لیکن ایک چیز اچھی تھی پاکستان آرمی اور محترمہ نے باہمی طور پر فیصلہ کیا کہ ہم ہر حال میں پاکستان کو میزائل پروگرام دے کر رہیں گے اور پاکستان کے میزائل پروگرام کا ابتدا ہو گئی اس کے بعد وقت آگے بڑھتا رہا اور پاکستان بالاخر ایٹمی قوت بھی بن گیا ۔
SOURCE: . Defence Journal, 1998 PAKISTAN MISSILE TECHNOLOGY
Daheem, Mohammad (18 October 2012). PAKISTAN MISSILE CAPABILITY. Pakistan Observer, 2012.
PAKISTAN MISSILE MILESTONES 1994 Wisconsin Project on Nuclear Arms Control. 1 September 2014
Collins, Catherine. “TALE IF TWO BHUTTOS. Foreign Policy. 22 November 2014.
MacFarquhar, Emily.BENAZIR AND THE BOMB. Alicia Patterson Foundation. 22 November 2014
Lodhi, Lt.Gen. S.F.S. (31 May 1998). “Pakistan’s Missile Technology”. Defence Journal, 1998. Archived from the original on 21 February 1999. Retrieved 21 November 2014.
Daheem, Mohammad (18 October 2012). “Pakistan’s missile capability”. Pakistan Observer, 2012. Pakistan Observer. Archived from the original on 29 November 2014. Retrieved 21 November 2014.
Pakistan Missile Milestones – 1994″. Wisconsin Project on Nuclear Arms Control. 1 September 2014. Retrieved 20 August 2023
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں