آج کا ترقی پسند ادبی رجحان کیا ہوسکتا ہے ؟-محمد عامر حسینی

پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ مختصر جنگی محاذ آرائی نے دونوں ممالک کے لبرل اور لبرل لیفٹ رجحانات رکھنے والے ادیبوں کی ایک بڑی تعداد کو اپنے اپنے ملک کے حکمران طبقات کے موقف اور لائن کے لیے “تائید کی گنجائش ” پیدا کرنے کے لیے خودساختہ دلائل اور وکیل صفائی بننے پر اکسایا ۔
ہندوستانی لبرل اور لبرل لیفٹ رجحان رکھنے والے ادیبوں نے پاکستان کے حکمران طبقے اور فوجی جرنیل شاہی کی کشمیر میں کیموفلاج جہادی پراکسی جو وہاں
Resistance Movement
کے نام سے سرگرم ہے جس میں کہا جاتا ہے لشکر طیبہ ، جیش محمد اور حزب المجاہدین سے تعلق رکھنے والے تربیت یافتہ عسکریت پسند شامل ہیں کو بنیاد بناکر مودی کی جنگ کو سپورٹ کرتے نظر آئے- ان کی نظر میں مودی سرکار کی جنگی ڈاکٹرائن اور پاکستان پر حملے مجبوری میں اٹھایا گیا اقدام تھا اور اس کا کوئی تعلق مودی سرکار کی غیر اعلانیہ ہندتوا پالیسی سے نہیں تھا ۔جاوید اختر جیسا شاعر اور ادیب جو خود کو ہندوستان – برصغیر کی کمیونسٹ نظریات کے زیر اثر ابھرنے والی ترقی پسند تحریک کی روایت کا پیروکار کہتا ہے اس نے ترقی پسند تحریک کی روایت کے سیکولر ہندوستانی بورژوازی نیشنل ازم اور کمیونل نیشنلزم دونوں کو مسترد کرتے ہوئے پورے برصغیر ہند کو ایک متحدہ سوشلسٹ فیڈریشن کے قیام میں مدد دینے والے ادب کی ترویج کے لیے وقف کیا کے برخلاف ہندوستانی کمیونل قوم پرستی کے تحت مودی سرکار کے ابھارے جانے والے جنگی جنون کے لیے جواز پیدا کیا اور یہاں تک کہا کہ اگر ان کے پاس دو آپشن ہوں کہ یا تو پاکستان چلے جائیں یا جہنم چلے جائیں تو ان کا فیصلہ جہنم میں جانے کا ہوگا ۔ گویا ہندوستان میں اس وقت انھیں مودی کا نوفسطائی کمیونل ایجنڈا بھارت کو مذھبی تصور کے مطابق اقلیتوں ،دلت اور ہندوستان کے مزدوروں ، کسانوں اور آدی واسیوں کے لیے جہنم /نرک نہیں بناتا لیکن پاکستان کے حکمران طبقات مسلم کمیونل جہادی نیشنلزم پاکستان کو جہنم سے بھی برتر بناتا ہے – جبکہ براہمن واد قوم پرستی ہو یا جہادی قوم پرستی ہو یہ دونوں اصل میں دونوں ملکوں کو عوام کی اکثریت کے لیے “جہنم اور نرک ” بنائے ہوئے ہیں –

نوجوان تصنیف حیدر جیسے بھارتی ادیب کا خیال یہ ہے کہ ہندوستان میں رہنے والے مسلمان آج جس مذہبی تعذیب کا شکار ہیں تو اس کی ذمہ داری ( صرف اور صرف) آل انڈیا مسلم لیگ کی مسلم قوم پرستی پر عائد ہوتی ہے اور ان ہندوستانی مسلمانوں پر جو ہندوستان چھوڑ کر پاکستان چلے گئے تھے یا وہ رہے تو ہندوستان میں لیکن اسلام کے نام پر الگ وطن اور قومیت کا پرچار کرتے رہے – وہ اس معاملے میں ہندوستانی بورژوازی اور پیٹی بورژوازی جو برطانوی سامراج کے نوآبادیاتی نظام اور اس پر کھڑے ہونے والے نوآبادیاتی ریاستی ڈھانچے کی پیداوار تھی میں غالب کمیونل رجحان کو یکسر نظر انداز کرتے ہیں اور وہ اس میں ہندو ، سکھ سرمایہ دار اور زمیندار اشرافیہ اور تنخواہ دار طبقے میں پائے جانے والے غالب فرقہ وارانہ رجحان اور بالادستی کے فیکٹر کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیتے ہیں جس کے ردعمل میں کمزور اور تعداد میں کم مسلم بورژوازی، پیٹی بورژوازی اور یو پی ، سی پی ، مشرقی بنگال ، مغربی پنجاب ، سندھ میں غالب جاگیردار، زمیندار اشرافیہ کے اندر مسلم قوم پرستانہ رجحان ابھرا اور اس نے آخرکار “تحریک پاکستان ” کی بنیاد رکھی – دیکھا جائے تو یہ برطانوی سامراج کی نوآبادیاتی سامراجی سرمایہ دارانہ پالیسی اور اس کے تحت تعمیر ہونے والا نوآبادیاتی ہندوستان کا ریاستی ڈھانچہ تھا جس نے ہر طرح کے کمیونل ازم کو جنم دیا ۔

تصنیف حیدر جیسے نوجوان ادیب چونکہ ہندوستان میں سرمایہ داری کے ارتقاء میں نوآبادیاتی سامراجیت اور اس کے تحت تشکیل پانے والی سماج کی طبقاتی ساخت اور طبقاتی تضاد کے زیر سایہ ابھرنے والے دیگر تضادات جن میں قومیتی تضادات سب سے زیادہ نمایاں تھے اور اس نوآبادیاتی سامراجی سرمایہ دارانہ ارتقاء نے ہندوستان ( یہاں میری مراد برٹش ہندوستان ہے جو آج کے پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش پر مشتمل تھا ) کے شہری مراکز میں جدید بورژوازی، پیٹی بورژوازی، صعنتی مزدور /پرولتاریہ اور دیہی سماج میں بڑے قطعات اراضی کے مالکان ، چھوٹی ملکیت والے غریب کسان اور بھاری تعداد میں بے زمین کسان اور آدی واسیوں /قبائلیوں پر مبنی دیہی غریبوں سے مل کر بننے والے مخصوص طبقاتی سماج کی ساخت کا کبھی سماجی سائنسی تجزیہ کرنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی اور یہ دیکھنے کی کوشش بھی نہیں کی کہ خود برٹش نوآبادیاتی سماج میں قومی بورژوازی اور پیٹی بورژوازی کے اپنے اندر پائے جانے والے تضادات جن کی غالب شکل ہمیں ہندو، مسلم اور سکھ کمیونل ازم کی شکل میں نظر آتی ہے اس کا منبع کیا تھا؟

مثال کے طور پر آل انڈیا نیشنل کانگریس کا رویہ یو پی ، سی پی ، بنگال ، سندھ ۔ممبئی پریذیڈنسی اور پنجاب میں بڑی جاگیروں کے خلاف تھا اور اس کے ساتھ کھڑے ہندوستانی بورژوازی جس کی بھاری اکثریت اونچی جات کے براہمن اور کراڑوں پر مشتمل تھی ان کا رویہ بھی دیہی جاگیردار اشرافیہ مخالف تھا – پنجاب کو چھوڑ کر یو پی ، سی پی ، بنگال ، سندھ میں جاگیردار دیہی اشرافیہ کی اکثریت کا تعلق مسلمانوں سے تھا – یہ بنیادی معاشی تضاد تھا جس نے مسلم جاگیردار اشرافیہ میں مسلم کمیونل ازم کو اپنانے پر مجبور کیا اور وہ آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد رکھنے والوں میں سب سے پہلا طبقہ تھا- اس طبقے نے اپنے آپ کو انگریز سامراج کے ساتھ نتھی کیا – جو مسلم اکثریت کے علاقے تھے دیکھا جائے تو اس میں مسلم جاگیردار اشرافیہ کے استحصال اور جبر کا سب سے بڑا شکار مسلم غریب کسان ، مزارع، ہاری اور کمتر پیشے سمجھے جانے والوں ( موچی نائی ، ترکھان ،جولاہے) کی ذاتیں اور برادریوں کے مسلمان ہی تھے- دوسرا کمیونل رجحان شہروں میں رہنے والی پیٹی بورژوازی کے اندر پایا جاتا تھا- شہروں میں وکیل ، ڈاکٹر، انجنئیر ، اسکول ، کالج ، یونیورسٹی کا تدریسی و غیر تدریسی ملازمین پیشہ تنخواہ دار طبقے میں پایا جاتا تھا جن کی اکثریت ہندو تھی اور بہت چھوٹی تعداد مسلم تھی اور پھر دلت جاتی کے لوگ تھے – تنخواہ دار اور بلند سطح کے پروفیشنل پیٹی بورژوازی کیونکہ ہندو تھے تو وہ ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں داخلوں کے “میرٹ” پر زور دیتے تھے اور اسکے لیے وہ سیکولر نیشنلزم کو آڑ بناتے تھے -جبکہ دوسری طرف مسلم اور دلت تھے جو “میرٹ” سے کہیں زیادہ مذھبی اور جاتی واد کی بنیاد پر کوٹے کی مانگ کرتے تھے – شہروں میں پیٹی بورژوازی کی درمیانے اور چھوٹے تاجروں کی جو پرت تھی اس میں بھی کمیونل ازم کا سبب درمیانی اور چھوٹی دکانداری پر ہندوؤں کی بالادستی اور مسلمان شہری چھوٹے اور درمیانے تاجروں کا انتہائی کمزور ہونا تھا- ان کے درمیان اس تضاد اور مفاد کی جنگ نے بھی کمیونل شکل اختیار کرلی –

julia rana solicitors london

پنجاب کی دیہی سیاست پر چونکہ غالب اور بالادست ہاتھ جاگیردار اشرافیہ کا تھا جو مذہبی اعتبار سے ہندو، سکھ اور مسلمانوں میں قریب قریب برابر کی حیثیت رکھتی تھی اور اس کے مفادات براہ راست انگریز سامراج سے جڑے ہوئے تھے تو پنجاب میں 1946ء تک انگریزوں کی سرپرستی میں نان کمیونل یونینسٹ پارٹی کا غلبہ رہا جس نے پنجاب کے دیہاتوں اور قصبوں میں کمیونل سیاست تو ایک طرف رہی سیکولر نیشنلسٹ سیاست کی علمبردار کانگریس کو بھی اپنی جڑیں جمانے نہ دیں- سندھ کو الگ صوبہ بنانے کی حمایت سندھ میں جاگیردار اشرافیہ ، اقلیتی مسلم کمزور بورژوازی اور پیٹی بورژوازی کی طرف سے ملی جبکہ یہاں پر غالب اکثریتی بورژوازی اور پیٹی بورژوازی ہندو تھی جو اس کی مخالفت کر رہی تھی اور ان کی جماعت کانگریس تھی جسے 1937ء میں اسی وجہ سے سندھ دستور ساز اسمبلی کے انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا اور 1946ئ میں یہ اس صوبے میں مکمل شکست کھا گئی – جبکہ مسلم لیگ کو 1937ء کے انتخابات میں یو پی اور سی پی میں کئی مسلم دیہی نشستوں پر کامیابی ملی جبکہ بنگال میں بھی جہاں دیہاتوں اور شہروں میں مسلم بنگالی زمیندار اشرافیہ اور پڑھی لکھی مڈل کلاس زیادہ تھی وہاں مسلم لیگ کو کافی اکثریت ملی اور 1946ء میں تو یہ بنگال میں دلت ممبران کی حمایت سے سہروردی کو چیف منسٹر بنانے میں کامیاب ہوگئے – یہ مختصر سا طبقاتی تجزیہ ہمیں یہ دکھانے کے لیے کافی ہے کہ کمیونل ازم کی جڑیں بورژوازی، پیٹی بورژوازی اور جاگیردار اشرافیہ کے اپنے اندر موجود تضادات اور مفادات کے ٹکراو میں تھیں جو اوپر کی سطح پر ہندو، مسلم اور سکھ تضادات کی صورت میں سامنے آئے اور انھیں آل انڈیا نیشنل کانگریس ، آل انڈیا مسلم لیگ ، اکالی دل ، مہا سبھا نے اپنے اپنے انداز میں استعمال کیا – آل انڈیا نیشنل کانگریس میں شامل پٹیل جیسے سیاست دانوں اور ان کے زیر اثر ہندو کانگریسیوں نے مسلم بورژوازی، پیٹی بورژوازی اور جاگیردار پیر اشرافیہ کی ایک بڑی تعداد کی اپنے طبقاتی مفادات کو مسلم نیشنلزم کے پردے میں آگے بڑھانے پر سارے ہندوستانی مسلمانوں کی “حب الوطنی ” کو مشکوک ٹھہرایا اور اس سے کہیں زیادہ شدت سے ہندو مہاسبھا اور ہندو فسطائیت نے اسے اپنی انتخابی سیاست کا سب سے بڑا کارڈ بنالیا – ادھر پاکستان میں حکمران مسلم لیگ میں شامل جاگیرداروں ، نوزائیدہ ریاست پر قابض ہونے والی مسلم پیٹی بورژوازی کے تنخواہ دار طبقے ، بے وردی اور باوردی نوکر شاہی جس کی اکثریت پنجابی اور اردو اسپیکنگ مہاجروں پر مشتمل تھی اور ریاستی چھتر چھاپہ میں پروان چڑھنے والی مسلم بورژوازی نے مشرقی بنگال ، سندھ ، بلوچستان ، پنجاب کے کسانوں، مزدوروں ، غریب قبائلیوں کے استحصال اور ان صوبوں کے قدرتی وسائل پر قبضہ جمائے رکھنے ، بنگالی( ان کی پڑھی لکھی پیٹی بورژوازی پرت زیادہ تھی ) جبکہ سندھی ، پشتون ، بلوچ کی انتہائی کمزور اور نہ ہونے کے برابر درمیانے طبقے کے مقابلے پر سرکاری ملازمتوں پر حاصل پنجابی اور اردو اسپیکنگ مہاجر مڈل کلاس کے غلبے کو برقرار رکھنے کے لیے جہاں قومیت کو ہتھیار بنایا وہیں اردو کو بھی ایک نئی نوآبادیاتی زبان کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا – اس کے خلاف ابھرنے والی طبقاتی مزدور- کسان سوشلسٹ اور قوم پرستانہ سیاست لو ریاستی جبر سے دبانے کی کوشش کی – آل انڈیا نیشنل کانگریس نے ہندوستانی سیکولر قوم پرستی کو جنوبی ہندوستان میں کسان تحریکوں اور آدی واسیوں کی مزاحمت کو اینٹی نیشنل قرار دے کر ، وطن پرستی کے خلاف قرار دے کر ریاستی جبر سے کچلنے کی کوشش کی جو آج ذرا زیادہ ہندو مذھبی قوم پرستی /بھارت ماتا کی جے کے نعروں کے ساتھ کی جارہی ہے – ہندوستان میں ترقی پسند لیفٹ سیاست کمیونس تحریک کے زیر اثر مزدوروں ، کسانوں ، طالب علموں کے حلقوں میں اپنے مضبوط ادارہ جاتی ڈھانچوں کی وجہ سے پھر بھی اپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب رہی اور مشرقی بنگال میں بھی کمیونسٹ پارٹی کے زیر اثر اور بعد ازاں بنگالی قوم پرستی کے زیر اثر مزدوروں، کسانوں ، طالب علموں اور درمیانے طبقے میں موجود مضبوط محاذوں کی وجہ سے بھی اپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب رہی لیکن مغربی پاکستان میں جب کمیونسٹ پارٹی کے زیر اثر مزدوروں ، کسانوں اور طالب علموں میں ترقی پسند محاذ ابھی تشکیل کے مراحل میں تھے تو اس پر اور اس کے قائم کردہ مزدور، کسان ، طلباء محاذوں پر پابندی لگادی گئی – اسی وجہ سے یہاں سیاسی جماعتوں میں جمہوری اقدار پنپ نہیں سکیں اور وہ چند خاندانوں کی شخصیت پرستی اور آمریت میں تبدیل ہوکر رہ گئیں – یہی حشر یہاں پر ترقی پسند ادبی تحریک کا بھی ہوا – یہاں پر ریاست کی اسٹبلشمنٹ پہلے دن سے مذھبی بنیاد پرستی کو جمہوریت کے خلاف صف آراء رکھتی رہی ہیں اور جہادی و فرقہ وارانہ اسلام کے نیٹ ورک کو اپنے اثاثوں کے طور پر پالتی رہی ہیں – اس ملک کی مسلح افواج کے سپہ سالار کی ذہنیت اور اس کا اپنے ادارے کے کمرشل اور کاروباری مفادات کے تحفظ کے لیے مخصوص طرز کی اسلامی تعبیر کو اپنانا لازم ٹھہرتا ہے – آج کل تو یہ پس پردہ ایک مخصوص قسم کے پنجابی نیشنلزم کو پاکستانیت کے طور پر پروان چڑھا رہی ہے جس نے بلوچستان ، سندھ ، خیبرپختون خوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بہت بڑی عوامی مزاحمت کو جنم دیا ہے جسے یہ ملک دشمن ، غدار اور انڈین پراکسی قرار دے رہی ہے – یہ بلوچ قومی تحریک کی سب سی بڑی قومی مزاحتمی سیاسی تحریک بلوچ یک جہتی کمیٹی کو زبردستی بی ایل اے کا سیاسی چہرہ اور پراکسی قرار دیتی ہے اور پی ٹی ایم کو ٹی ٹی پی کی ڈھال بتاتی ہے اور سندھ میں قوم پرستانہ عوامی ابھار کو ہندوستان کی پراکسی کہتی ہے-
پنجاب میں یہ پیٹی بورژوازی دانش کے ایک بڑے طبقے کو اپنا ہمنوا بنا چکی ہے جبکہ اس کے مزدور اور کسان طبقات میں اپنی نوآبادیاتی طرز حکمرانی کو پاکستانیت اور حب الوطنی بناکر گمراہ کر رہی ہے –
پاکستان کا جو بھی ادیب پاکستان کے حکمران طبقات کی نوآبادیاتی طرز حکمرانی اور اس کے عوامی تحریکوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے بیانیے، اس کی جنگ پرستی کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے چاہے وہ اس کے لیے مودی کے فاشزم کو ہی جواز کیوں نہ بناتا ہو وہ ترقی پسند نہیں ہے جیسے بھارت کا وہ ادیب ترقی پسند نہیں ہے جو پاکستان کے حکمران طبقات کی کیموفلاج جہادی پراکسیز کو آڑ بناکر مودی سرکار کا وکیل صفائی بنتا ہے اور حکمران طبقات کی جنگی قوم پرستی کو کسی نہ کسی طریقے سے جائز ٹھہراتا ہے –

Facebook Comments

عامر حسینی
عامر حسینی قلم کو علم بنا کر قافلہ حسینیت کا حصہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply