ڈاکٹر خالد سہیل کا ڈاکٹر عابد نواز کے نام خط نمبر ۷
حضرت دل نواز و جگر نواز و دماغ نواز دوست عابد نواز!
آپ کا شادابی و شگفتگی سے بھرپور محبت نامہ و مزاح نامہ پڑھ کو اس دور کی چند یادوں نے دل میں سرگوشیاں کیں جب
آتش جوان تھا
اور جوانی کی نادانیوں اور کمزوریوں اور گمراہیوں اور دل لگیوں سے خود بھی محظوظ ہوتا تھا اور دوسروں کو بھی مسحور کرتا تھا
طالب علمی کے اس سادہ لوحی کے دور میں ہم نے بھی
اخوان المسلمین
کی پیروڈی سے
اخوان الشیاطین (جو نام کثرت استعمال اور خلق خدا کے خوف سے صرف اخوان رہ گیا تھا)
بنائی تھی اور اپنے دوستوں کے مندرجہ ذیل مذاحیہ نام رکھے تھے
قیصر خورشید غرق
رفعت علی نامراد
نعمان حیدر بد نصیب
عبد الرئوف بے وقوف
اور فضل امین عاجز
عاجز کو میری طرح شاعری پسند تھی۔ ایک زمانے میں ہم نے مل کر ایک مشترکہ غزل بھی لکھی تھی۔ مصرعہ طرح
نارسائی سی نارسائی ہے
پر چند اشعار عاجز نے اور چند اشعار میں نے لکھے۔ شرط یہ تھی کہ مقطع میں دونوں کے تلخص آنے چاہئییں
بحر مختصر تھی اور مقطع میں دونوں کا تخلص لانا جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا۔ دونوں نے قسمت آزمائی کی۔
باقی اشعار تو مجھے یاد نہیں لیکن میں نے جو شرارتی مقطع لکھا تھا وہ اب تک یاد ہے
لفظ خالد ہی سن سکا عاجز
سوتے سوتے جو بڑبڑائی ہے
اس دور میں ایک مشاعرہ ہوا ۔ ہمارے دوست رفعت علی نامراد جو شاعر تو نہ تھے لیکن خواتین سے داد پانا چاہتے تھے۔ انہوں نے مجھ سے فرمائش کی کہ میں ان کے لیے بھی ایک غزل لکھ دوں۔ میں نے اخوان الشیاطین کے ممبر دوست ہونے کی وجہ سے لکھ دی۔ مزے کی بات یہ کہ انہیں مجھ سے کہیں زیادہ داد ملی۔ غزلیں تو مجھے یاد نہیں لیکن میرے لکھے ہوئے جس شعر پر انہیں بہت داد ملی وہ تھا
کہ جو عورت جوانی میں کسی اک کی نہیں ہوتی
وہی عورت بڑھاپے میں کف افسوس ملتی ہے
مجھے یہ جان کر بالکل حیرت نہیں ہوئی کہ فضل امین عاجز نے آپ سے کہا کہ آپ میری گمراہی میں میری رہنمائی فرمائیں اور مجھے راہ راست پر لانے کی کوشش کریں۔۔۔آپ کہہ سکتے تھے کہ بہت سے لوگوں نے بہت سی کوششیں کی ہیں لیکن انہیں ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ
مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
غالب فرماتے تھے
جانتا ہوں ثواب طاعت و زہد
پر طبیعت ادھر نہیں آتی
حضرت عابد !
آپ کا محبت نامہ دوبارہ پڑھا اور اخوان کے بارے میں سوچا تو یاد آیا کہ ایک مشاعرے میں عبدلرئوف بے وقوف بغیر بلائے سٹیج پر چلے آئے اور مائکروفون پکڑ کر نجانے کس کی غزل سنانے لگے
آنکھ تیری ہے آنکھ ناک ہے ناک
اور ترا کان کان ہے پیارے
اس کی شادی تو کیوں نہیں کرتا
تیری بیٹی جوان ہے پیارے
تیرے سب خاندان پر عاشق
میرا سب خاندان ہے پیارے
قبلہ و کعبہ !
یہ آپ کے محبت ناموں کی کرامت ہے کہ مجھے بھی فری ایسوسئیشن اور آزاد تلازمہ خیال سے ماضی کی معصوم اور دلچسپ نادانیاں اور بے وقوفیاں یاد آرہی ہیں۔
میڈیکل کالج میں ایک دن فزیالوجی کے پروفیسر زین ا لعابدین نہیں آئے تو ڈاکٹر قاضی یوسف کلاس میں چلے آئے۔ کہنے لگے
کچھ گپ شپ ہو جائے
ایک طالب علم نے کہا
مشاعرہ ہو جائے
قاضی یوسف نے کہا
کلاس میں کون شاعر ہے
کسی نے کہا
خالد سہیل
مجھے نیچے بلایا گیا اور غزل کی فرمائش کی گئی میں نے کہا
رمضان کا مہینہ ہے سب تراویح پڑھنے جاتے ہیں میں بھی گیا تھا
تراویح لمبی ہو گئی۔ سوچا اس سے پہلے کہ نیند آ جائے ایک غزل ہو جائے۔ غزل تو یاد نہیں لیکن قافیہ تھا
گلابی گلابی پیازی پیازی
اس مشاعرے کے بعد کلاس کی سب خواتین سر جوڑ کر بیٹھیں اور میری غزل کے جواب میں ایک شعر لکھا جو اگلے دن میں نے بلیک بورڈ پر پڑھا
جو وارد ہوں غزلیں تراویح کے اندر
تو ہوتی نہیں وہ تراویح تراویح
اس شعر کا مجھ پر اتنا گہرا اثر ہوا کہ اس کے بعد ہم نے تراویح کیا نماز تک نہیں پڑھی بلکہ مسجد بھی نہیں گئے۔
میرے والد باسط صاحب بھی رگ ظرافت رکھتے تھے ایک دن کہنے لگے کہ ایک کمہار کا گدھا مسجد چلا گیا، مولوی صاحب بہت ناراض ہوئے۔ کمہار کو بلا کر سرزنش کی تو کمہار نے بڑی عاجزی سےکہا
حضور گدھا ہے نادان ہے
میں کبھی مسجد آیا ہوں
خواتین کا شعر پڑھ کر مجھے بہت فائدہ ہوا اور ایک نادانی کم ہو گئی۔
خط لمبا ہوتا جا رہا ہے۔
آپ نے گولڈن جوبلی کی تفصیل بڑی عمدگی سے بیان کی ہے اور مجھے اپنے ہیرو نما کلاس فیلو عنبر بادشاہ یاد آ گئے جو نوجوانی میں بھی قدرے نرگسیت کا شکار تھے کیا خبر وقت نے اس میں اور اضافہ کر دیا ہو۔میرا ایک شعر ہے
نرگسیت کی انتہا ہوں میں
آئنہ روز دیکھتا ہوں میں
آئینے میں ہم سب کیا دیکھتے ہیں یہ تو بس ہم ہی جانتے ہیں۔ میں تو بس اتنا جانتا ہوں
دل کے آئینے میں ہے تصویر یار
جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی
مجھ جیسے بے یقینے کو بھی پورا یقین ہے کہ جب عظمیٰ بنت عزیز آپ کا خط پڑھیں گی تو پہلے مسکرائیں گی پھر کھلکھلا کر ہنسیں گی اور آپ کو بہت داد دیں گی۔
آپ کا نادان و پاپی دوست
خالد سہیل
۳ جنوری ۲۰۲۵
نیا سال جسے آپ کے محبت ناموں نے مزید خوشگوار بنا دیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر عابد نواز کا ڈاکٹر خالد سہیل کو خط نمبر۸
عزت مآب صابر و شاکر خالد سہیل صاحب
مذکورہ آداب و القاب بہ رعایت اوصاف شخصیتِ جناب عرض ہیں
صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے تو شُکر کا نتیجہ بھی شَکر جیسا میٹھا ہی ہوگا
صابر و شاکر رہے شاداں رہے
خوش رہے جس حال میں انساں رہے
شنکر لال شنکر
آپ کا دلچسپ نوازش نامہ دیکھا ایک اشارے سے ہی اُن صاحب کو شناخت کر لیا جو زمانہ طالب علمی سے نرگسیت کا شکار رہے ہیں اچھا ہوا کہ ہماری کلاس میں کوئی نرگس صاحبہ نہیں تھیں ورنہ وہ نرگسیت کے علاوہ نرگس کا شکار بھی ہو جاتے طالب علم سے طالب نرگس ہو جاتے اور نرگس ہزاروں نہیں تو پانچ سال ضرور روتی رہتی
یہ ساری روداد ان نرگسی حضرت کی گیسوؤں کو شب دیجور بنانے کی کوشش یا ضرورت سے شروع ہوئی تھی ان گیسوؤں کی تعریف جوش ملیح آبادی نے بھی کی تھی
نرگس ارزق کے شیدا دیدۂ آہو بھی دیکھ
اے سنہری زلف کے قیدی سیہ گیسو بھی دیکھ
آپ کو جواب تاخیر سے دے رہا ہوں کہ یہاں خوش کن رونق کی کیفیت ہے
ہوتا ہے شب و روز تماشا میرے آگے
پوتی میرے پیچھے ہے نواسہ میرے آگے
ان خطوط میں دانستہ سنجیدگی سے احتراز کیا ہے اور کوشش ہے کہ بچپن کے کچھ دلچسپ اور خوش کن واقعات کا ذکر ہو کیونکہ ماضی کی ہر یاد عذاب نہیں ہوتی
آج آر اے بازار سکول کی پشت پر واقع ایک چھوٹی سی مسجد کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو اتفاقاً “سالک” سے جڑ گئی ہے وہاں ہم اکثر ظہر کی نماز پڑھنے جاتے تھے یہ مسجد فوج کے زیر انتظام تھی اُس زمانے میں مشرقی اور مغربی پاکستان میں فوجی کارکنوں کے تبادلے ہوتے رہتے تھے اس مسجد کے خطیب بنگالی تھے مگر اردو پر اچھا عبور رکھتے تھے نماز کے اختتام پر لمبی اور جامع دعا مانگتے تھے جس کی دو ترکیبات ہمیں ازبر ہو گئ تھیں یعنی خلاصئِ قرض داراں اور شفائے بیماراں
اب خیال آتا ہے کہ خطیب صاحب کی ان ترکیبات کو مرزا قربان علی بیگ سالکؔ کے مشہور زمانہ شعر کی تشریح کہا جا سکتا ہے
تنگدستی اگر نہ ہو سالکؔ
تندرستی ہزار نعمت ہے
سالک کی جگہ بعض اوقات اسے غالب سے جوڑ دیا جاتا ہے جو درست نہیں ہے بہر حال ہمیں تو اس میں سالک ہی اچھا لگتا ہے جو اس وقت حسب حال ہے
اس مسجد میں جب میں اور آپ پہلو بہ پہلو نماز پڑھتے تو آخری سلام پھیرتے ہوئے جب بھی میں آپ کی طرف رخ کر کے دل ہی دل میں السلام وعلیکم کہتا تو آپ مسکراتے ہوئے ذرا بلند آواز میں وعلیکم السلام کہا کرتے لیکن ایسے نہیں کہ باسط صاحب سن سکیں اُس وقت کا خالد سہیل ایک کھلنڈرا اور شوخ نوجوان تھا جس کے نزدیک سنجیدگی نہیں پھٹکی تھی سنجیدگی کی بہرحال اپنی اہمیت ہے البتہ یوں نہ ہو کہ بات رنجیدگی کی طرف چلی جائے
محترم باسط صاحب کی حس ظرافت کا بھی آپ نے ذکر کیا ہے اُنہوں نے آپ کی شاعری پر جو دلچسپ تبصرہ فرمایا تھا اُس سے یاد آیا کہ اچھا ہوا شوکت تھانوی کے والد والا معاملہ نہ ہوا
نوعمر ی کے زمانے میں شوکت تھانوی نے ایک غزل کہی اور بڑی دوڑ دھوپ کے بعد ماہنامہ ’’ترچھی نظر‘‘ میں چھپوانے میں کامیاب ہوگئے۔ غزل کا ایک شعر تھا
ہمیشہ غیر کی عزت تری محفل میں ہوتی ہے
ترے کوچے میں جاکر ہم ذلیل و خوار ہوتے ہیں
شوکت تھانوی کے والد کی نظر سے اپنے صاحبزادے کایہ کارنامہ گزرا تو اس شعر کو پڑھ کر بہت سیخ پا ہوئے اور شوکت کی والدہ کو یہ شعر سناکر چیختے ہوئے بولے، میں پوچھتا ہوں یہ آوارہ گرد آخر اس کوچے میں جاتا ہی کیوں ہے؟
آپ نے تو یہاں کے گلی کوچے چھوڑ دئیے ہیں اور اب تو حال یہ ہے کہ
اس گلی نے یہ سن کے صبر کیا
جانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں
جون ایلیا
آپ نے پشاور آ نے کی خواہش اور یہاں کے چپلی کباب سے محظوظ ہونے کا ذکر کیا ہے آپ ضرور آئیے پھر چپلی کباب بے حساب دستیاب ہوں گے اور لب لباب یہ کہ ہمراہ آداب بخدمت جناب مآب پیش کیے جائیں گے البتہ پر خوری سے اجتناب کے ساتھ کہ معاملہ سیخ کباب والا نہ ہو جائے
کباب سیخ ہیں ہم کروٹیں ہر سو بدلتے ہیں
جل اٹھتا ہے جو یہ پہلو تو وہ پہلو بدلتے ہیں
امیر مینائی
ہاں محمد رفیع سودا نے اس کا مزہ دوبالا کرنے کے لیے جس شئے کا اضافہ کیا ہے وہ اس میں شامل نہیں ہوگی
زاہد سبھی ہیں نعمت حق جو ہے اکل و شرب
لیکن عجب مزہ ہے شراب و کباب کا
سہیل 2 فروری 2025 کو سالک کی رونمائی ہونے جارہی ہے اس تقریب میں یقیناً اچھی خاصی تعداد میں عالم شریک ہوں گے علم و دانش کی ایک کلاس منعقد ہو گی سالک اور کلاس کا رشتہ یوں بھی استوار ہوتا ہے کہ
سالک کے سب حروف کو اُلٹا کے دیکھیے
خالد کی اس کلاس میں پھر آ کے دیکھئیے
باقی آئندہ پر چھوڑتے ہیں
دوستِ درویش
عابد نواز
15 جنوری 2025
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں