پیش گفتار: قدرت کے تھپڑ اور انسان کی ڈھٹائی
تاریخ کا دامن تھپڑوں سے بھرا پڑا ہے — قدرت کے۔ لیکن انسان ہے کہ آئینہ تو دیکھ لیتا ہے، مگر اپنی شکل پہ غور نہیں کرتا۔ 1783 کا “چالیسہ قحط” قدرت کا وہ طمانچہ تھا جسے تاریخ نے اپنے گال پر آج تک محسوس کیا ہے۔ اور 1992 کا بھارت-پاکستان سیلاب — گویا دریاؤں نے ویزا کے بغیر سرحد پار کر کے ہمیں یاد دلایا کہ پانی کو تمہاری جغرافیائی تقسیم سے کوئی غرض نہیں۔ افسوس، ہم نے یہ سبق صرف سی ایس ایس کے امتحانات کے لیے یاد کیا، زندگی کے لیے نہیں۔
آج کی صورتحال: جب سورج غصے میں آ جائے
2022 میں سورج نے اعلانِ جنگ کر دیا — برصغیر کے خلاف۔ درجہ حرارت 50 ڈگری تک جا پہنچا۔ ہیر رانجھا اگر آج ہوتے تو نہ ہیر ملتی، نہ کھیت ہرا ہوتا۔ گرمی کی یہ لہر وہ “محبت کی آگ” نہ تھی جسے اردو شاعری رومانوی بناتی ہے، یہ تو وہ آگ تھی جس میں فصلیں جھلس گئیں اور مزدور جھلستے رہے۔ یہ وہ وقت تھا جب پنکھے نے اپنی بےبسی کا اعتراف کیا، اور اے سی نے غریب کے گھر داخل ہونے سے انکار کر دیا۔
پاکستان: جہاں پانی ہوتا ہے، لیکن بوتل میں نہیں
پاکستان میں گلیشیئرز پگھل رہے ہیں، جیسے کسی نوحہ خواں کی آنکھوں سے آنسو، مگر یہ آنسو خوشی کے نہیں، تباہی کے ہیں۔ 2050 تک 40 فیصد گلیشیئرز گواہی دیں گے کہ ہم نے صرف سیاست کی، پانی کی پالیسی نہیں۔ ایک طرف دیہی کسان ہے، جو بارش کے لیے دعائیں مانگتا ہے، دوسری طرف شہری بیوروکریٹ ہے جو منرل واٹر کے بغیر وضو نہیں کرتا۔ زراعت، جس پر 75 فیصد دیہی آبادی کا انحصار ہے، وہ اب مونگ پھلی کی طرح خشک ہو چکی ہے — صرف چبانے کے کام کی۔
بھارت: جہاں گرمی صحت کا دشمن بن چکی ہے
بھارت کے 57 فیصد اضلاع گرمی کی گرفت میں ہیں۔ لیکن وہاں کے لوگ گرم چائے کے عادی ہیں، اس لیے گرمی کو بھی ایک چائے والا مسئلہ سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ حاملہ خواتین پر اس گرمی کا اثر کچھ ایسا ہے کہ ڈاکٹروں نے نرسوں کو پنکھے پکڑا دیے ہیں۔ گرمی سے لڑنا اب طبی مسئلہ نہیں رہا، سیاسی نعرہ بن چکا ہے: “گرمی ہٹو، بچپن بچاؤ!”
سیاچن: برف کا وہ میدانِ جنگ جہاں عقل دفن ہے
جنوبی ایشیا کے دو غیرمعمولی ذہین ممالک نے قدرت کے سب سے نادر عطیے—یعنی سیاچن گلیشیئر—کو ایک عجیب و غریب “پریڈ گراؤنڈ” بنا دیا ہے۔ نارتھ پول اور ساؤتھ پول کے بعد زمین پر سب سے بڑا برفانی ذخیرہ، یعنی تیسرا قطب، ان دو قوموں کی حراست میں ہے، جنہیں قدرت نے اس لیے نوازا کہ شاید وہ اس نعمت کی حفاظت کریں گے۔ لیکن انہوں نے اسے “حدِ متارکہ” بنا کر رکھ دیا ہے۔
ان دونوں ممالک کے جرنیل، جو نعرہ بازی، وردی پوشی اور “وطن کے لیے کچھ بھی” کے جذبے میں افراط کے قائل ہیں، وہاں برف پر گولیاں چلاتے ہیں۔ وہ بھی ایسی جگہ پر جہاں برف کے ذرات بھی سوچ کر گرتے ہیں کہ نیچے زندگی ہے یا موت۔ وہاں گولے برستے ہیں، توپیں دہاڑتی ہیں، اور جھنڈے لہراتے ہیں، جیسے برف پر فتح پا لینا درحقیقت زمین پر خدا بن جانا ہو۔
کسی ملک کے پالیسی سازوں نے ایسا کارنامہ بھی سرانجام دیا ہے جس پر دنیا کے ماہرین سر پکڑ کر بیٹھ جائیں: انہوں نے برف کی تہوں میں تیل کی سپلائی کی پائپ لائن بچھا دی ہے۔ گویا برف کے دیوتا کو پٹرول کا نذرانہ پیش کیا جا رہا ہو! وہ تیل جو گلوبل وارمنگ کی آگ بھڑکاتا ہے، اب برف میں اُتارا جا رہا ہے۔ اور دعویٰ یہ ہے کہ یہ سب “قومی دفاع” کے لیے کیا جا رہا ہے۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر سیاچن میں درجہ حرارت ایک سینٹی گریڈ بھی اوپر چلا گیا—تو یہ دونوں ممالک اپنی اپنی قوموں سمیت پانی کے نیچے ہوں گے۔ بنگال کی خلیج میں کسی اٹلی، کسی آسام اور کسی راجستھان کا پتہ نہ چلے گا۔ اور ان کے جرنیلوں کی وردیاں، تمغے، بیجز، اور پائپ لائنیں سمندری تہہ میں “فاسل” بن کر رہ جائیں گی۔ ان کی عقلیں پہلے ہی فوسل ہو چکی ہیں۔
پوری دنیا نے گلیشیئرز کو محفوظ رکھنے کی قسمیں کھائی ہیں، اقوامِ متحدہ کے اجلاسوں میں آئس برگ کی تصویریں دکھا کر آنکھوں میں آنسو بھرے ہیں، لیکن ہمارے خطے کے سپوتوں نے برفانی چوٹیوں پر مورچے بنا کر برف کے حسن کو چھلنی کر دیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں یہ جنگ صرف خاکی وردیوں کی ہے، حالانکہ یہ جنگ درحقیقت سبز سیارے کی سانسوں کی جنگ ہے۔
“سیاچن پر قبضہ دراصل اپنی قبر پر قبضہ کرنے کی مشق ہے۔”
شعور: وہ جو ٹی وی پر نہیں آتا
ہندوستان کے 50 فیصد عوام “بہت پریشان” ہیں، لیکن 32 فیصد نے کبھی “گلوبل وارمنگ” کا نام تک نہیں سنا۔ یہ وہی طبقہ ہے جو مانتا ہے کہ ہر بیماری نظرِ بد کا نتیجہ ہے، اور ہر گرمی پچھلے جنم کے گناہوں کی سزا۔ جب شعور نہ ہو، تو پالیسی ایک گانے کی صورت اختیار کر لیتی ہے — بے سُری، بے تال، اور بے اثر۔
حل: کچھ پالیسی، کچھ دعا، کچھ طنز
احمد آباد کا “ہیٹ ایکشن پلان” ایک ایسا کمال ہے جیسے کسی نے گرمی سے بچاؤ کے لیے آم بانٹنے شروع کر دیے ہوں۔ ہر سال ہزار جانیں بچ گئیں، اور ہر سال حکومت نے خود کو شاباشی دی۔ لیکن باقی شہروں میں ایکشن پلان وہی ہے جو پرانے زمانے کی محبتوں کا ہوتا تھا — صرف خطوں میں موجود، عملی زندگی سے غائب۔
جہاں صنفی مساوات کا تذکرہ آیا، وہاں تحقیق نے انکشاف کیا کہ خواتین کی قیادت میں موسمیاتی اقدامات مؤثر ہوتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ خواتین گرمی میں بھی باورچی خانے میں زندہ رہتی ہیں، اور مرد اے سی کے بغیر جمہوریت بھی نہیں چلا سکتے۔
علاقائی تعاون کی بات کی جائے تو بھارت اور پاکستان کے درمیان پانی کی منصفانہ تقسیم وہ خواب ہے جسے دونوں ممالک نے صرف اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں دیکھا ہے۔ اصل میں تو دونوں ایک دوسرے کے پانی کو گناہوں سے آلودہ مانتے ہیں — جیسے رشتہ دار ایک دوسرے کی چائے میں زہر تلاش کرتے ہیں۔
اختتامیہ: وقت کی پکار یا وقت کی دھمکی؟
موسمیاتی تبدیلی ایک ایسی حقیقت ہے جس پر ہم نے صرف سیمینار کیے، عمل نہیں۔ آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی — اگر وہ پیدا ہو سکیں۔ زمین اگر ماں ہے، تو ہم وہ اولاد ہیں جو اس کے گود کو کوڑے دان سمجھ بیٹھے ہیں۔
اب بھی وقت ہے — اگر ہم “وقت” کو بجائے گھڑی کے، ضمیر کی سوئیوں سے جانچنا سیکھ لیں۔ بصورتِ دیگر، برصغیر کی بقا ایک “گرم چائے” کا لطیفہ بن کر رہ جائے گی، جسے ہم سیاسی جلسوں میں ہنسی ہنسی میں پی جائیں گے — تب تک جب تک برف صرف یادوں میں باقی رہ جائے گی۔
حوالہ جات:
1. وہ تمام ادارے، تنظیمیں، اور تحقیقی مقالے جن کی رپورٹیں ہم نے کبھی پوری نہیں پڑھیں۔
2. ویکیپیڈیا، جو ہمارے تعلیمی نظام کی واحد لائبریری ہے۔
3. قدرت، جو ہر سال ایک نیا سبق دیتی ہے، اور ہم ہر سال وہی پرانا گریڈ حاصل کرتے ہیں۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں