فنونِ لطیفہ بلاشبہ انسانی سرگرمیوں کی فعال ترین شکل ہے، سرگرمیوں کی باقی تمام اشکال بیرونی دنیا کی وضع کردہ ہیں جو کہ سماج سے مشروط ہیں، دوسرے الفاظ میں آرٹ فرد کا ذاتی افسانہ ہے جو انسان کے موضوعی ارادے پہ پلتا ہے جبکہ باقی تمام سرگرمیاں اجتماعی افسانے ہیں جو معروضی تقدیر کے مسلط کردہ ہیں۔
آرٹ نہ صرف کسی علت کا محتاج نہیں بلکہ اس کی کوئی منزل بھی متعین نہیں، آرٹ کی خواہش کو اس کی علت نہ سمجھا جائے اور نہ ہی جمالیاتی حِس کی تسکین کو اس کی منزل کہا جا سکتا ہے، البتہ اس کا مصدر اس وجود کا لاشعوری اضطراب ہے جو کائناتی نیند کی قید میں ہے ۔
آرٹ اس کوشش کا نام ہے جس میں فرد اپنے موضوعی ارادے کو دنیا کی بے ثباتی کے سامنے لاکھڑا کرتا ہے، اسی لئے صرف حقیقی آرٹ ہی بے ساختہ ہونے کے ساتھ ساتھ خلافِ منطق بھی ہے۔
چونکہ فنونِ لطیفہ علت اور منزل سے عاری ہیں، اسی لئے مکالمے میں سمانے سے قاصر ہیں، جبکہ ہمہ قسمی فنونِ تجارتی کو بحث مباحثے میں لپیٹا جا سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ عجائبات کے خزانے صرف فنونِ لطیفہ میں ہی پوشیدہ ہیں .
آرٹ کی شکل میں فرد کا ذاتی افسانہ ایک جواب ہے، جواب اس وحشت کو جس کے گرد فرد گھرا ہوا ہے، یہی وحشت فرد کے درج بالا لاشعوری اضطرب کو جنم دیتی ہے، اور اس وحشت کی عمارت فرد کے اس احساس پہ کھڑی ہے کہ معلول اپنی علت سے کہاں اور کیسے جدا ہے؟ علت اور معلول میں واضح فرق کی عدم موجودگی جس خلا کو جنم دیتی ہے، اسی خلا کو فرد پھر کسی لطیف فن سے بھرنے کی کوشش کرتا ہے، نتیجے میں خود کو کائناتی نیند کی قید سے آزاد محسوس کرتا ہے۔
ذاتی افسانے کی تخلیق فرد کی ذات کو ایک عظمت کا احساس دیتی ہے اور عظمت کا یہ احساس تقدیر کی کھردری سطح کو گویا ریشمی رومال سے اوڑھ دینا ہے کہ کنکر کا لمس بھی اپنے اندر محبوب کے گالوں جیسی نرمی اور گدازی لئے ہو ، یہ جادو نہیں تو اور کیا ہے ۔
فنونِ لطیفہ بارے جو اختلاف کہیں پایا جاتا ہے، یہ اختلاف ہمیشہ کیلئے ختم ہو سکتا ہے اگر صرف ایک سوال کا جواب تلاش کر لیا جائے، اور سوال یہ ہے کہ فنونِ لطیفہ کا تعلق فرد کی soul سے ہے یا پھر spirit کے ساتھ ہے ؟ مثلاً یہ جو زبان زدِ عام ایک جملہ ہے کہ
” موسیقی روح کی غذا ہے ”
یہاں روح سے مراد soul ہے یا spirit ؟
انگریزی کے ان دو الفاظ کا اردو میں عمومی ترجمہ روح ہی ہے ، لیکن ان دو میں فرق تو ہے۔ soul بارے کچھ زیادہ تردد نہیں ، جو لوگ روح کی موجودگی پہ یقین رکھتے ہیں ان کے نزدیک روح کی تعریف لگ بھگ ایک جیسی ہی ہے جو عقیدے اور ایمان کی بنیاد پہ کھڑی ہے، اب جو لوگ روح کی موجودگی کے قائل نہیں، ان کے نزدیک پھر فنونِ لطیفہ کا تعلق spirit کے ساتھ ہی ہو سکتا ہے کیونکہ soul کے تو وہ منکر ہیں ۔
راقم الحروف کی ذاتی رائے میں تمام فنونِ لطیفہ کا تعلق فقط spirit کے ساتھ ہے، soul کیلئے یہ فنون اتنے ضروری یا لازم نہیں ہیں۔
اب spirit کی تعریف ہی سب سے کٹھن مرحلہ ہے، کئی فلسفیانہ آراء موجود ہیں جو زیادہ تر ہمارے جیسے طلباء کی سمجھ سے بالا تر ہیں، سادہ الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے انسان دو انتہاؤں کا مرکب ہے ، ایک نچلی انتہاء جو خالص مٹی( کثیف) ہے اور دوسری بلند انتہاء جو روح( لطیف) ہے۔
کثافت بتدریج لطافت میں بدلتی ہے، سخت مٹی، گاڑھا گارا ، چکنی مٹی، نرم مٹی، پھر پانی کی طرح مائع شکل ، پھر بھاپ، آگے پھر لطافت کی دنیا ،،،، یعنی کثافت کئی شکلیں بدلتے ہوئے لطافت تک پہنچتی ہے، کثافت اور لطافت کا وہ grey area جہاں تہذیب اور تمدن کی مہر ثبت کی جا سکے اور یہ مہر وقت کا جبر سہنے کی صلاحیت رکھتی ہو، یہی مقام انسان کا spirit کہلا سکتا ہے ، اور فنونِ لطیفہ کا تعلق خالصتاً اسی spirit سے ہے، مادی آلات کی مدد سے غیر مادی حسِ لطافت کا سامان کرنا اسی grey area یعنی spirit کا پتہ دیتا ہے، اور تہذیب و تمدن کے پہرے دار اسی مہر کی موجودگی سے ہی کسے کے مہذب ہونے نہ ہونے کا تعین کرتے ہیں ۔
تمت بالخیر ۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں