یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہمارا ٹھکانا ریلوے اسٹیشن خانیوال کے سامنے بنے ایک ہوٹل کے باہر بچھی چارپائیوں پر ہوا کرتا تھا – ابھی ہمارے ساتھی شیخ عرفان نے وہاں چائے اور کھانے کا ہوٹل نہیں بنایا تھا ، وہ ابھی پرانے مچھلی بازار میں ایک چھوٹی سی کپڑے کی دکان چلا رہے تھے – یاروں کی یہ منڈلی نہ تو نرے شاعروں کی تھی ، نہ نرے سیاسی کارکنوں کی تھی ، ان میں میکنک ندیم تھا جو موسیقی کا دلدادہ تھا – اس کی سرسید روڈ پر الیکٹرانکس اشیاء ٹھیک کرنے کی دکان تھی – ایک اور ندیم (انوار) تھا جو معروف کرکٹر بھائی مسعود انوار کا چھوٹا بھائی( خدا اسے غریق رحمت کرے) وہ مختلف قسم کے کام کرتا تھا ، گلہ سریلا تھا لیکن باقاعدہ پیشہ ور گلوکار نہ تھا، بہت بذلہ سنج محفل کو کشت زعفران بنادیا کرتا تھا – غلہ منڈی میں آڑھت کے کاروبار سے منسلک نوجوان سلمان تھا – مدثر خان ( اب خان بہادر مدثر علی خان ڈاہا ایڈوکیٹ ہائیکورٹ ) تھا جو حوادث زمانہ کا شکار ہوکر کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ آیا تھا- بی اے کر چکا تھا اور ابھی اس نے ایل ایل بی میں داخلہ نہیں لیا تھا – عروض و قوافی سے واقف ، باوزن شعر کہنے کا ملکہ رکھتا تھا لیکن بہت کم شعر کہتا تھا- مونی تھا ابھی امریکہ نہیں گیا تھا شہر کے ایک معروف مفتی عبدالعتیق ازھری کے گھرانے کا چشم و چراغ مگر ماڈرن ، جدت پسند ، روشن خیال ( آج کل امریکہ میں ہوتا ہے) – شہزاد فیضی ان دنوں خانیوال سے نکلنے والے ایک روزنامہ اخبار میں سب ایڈیٹر تھا اور ابھی اس نے عرضی نویسی ، پراپرٹی ڈیلری شروع نہیں کی تھی – اس کی شعر دانی پر سب کو شک تھا – اس کے کریڈٹ پہ جو چند غزلیں تھیں پرانے دوست انھیں بیدل حیدری کی “کرامت ” کہا کرتے تھے- میں اس وقت تک فکشن ، شاعری ، تنقید کا طالب علم تو تھا لیکن میں نے خود سے کبھی کچھ تخلیق کرنے کی کوشش نہیں کی تھی – اس منڈلی میں سب سے نمایاں اور ممتاز شخصیت ندیم ناجد Nadeem Najid کی تھی – جو جوانی سے ادھیڑ عمری کی طرف جارہے تھے اور مانے تانے شاعر تھے – ملک بھر کے چھوٹے بڑے ادبی حلقوں میں ان کی پہچان تھی اور باقاعدگی سے ملک بھر میں ہونے والے مشاعروں میں شریک ہوا کرتے تھے – کلاسیکی اردو شاعری کے تمام دبستانوں کے استاد شعرا سے لیکر معاصر شاعری کے سب ہی قابل ذکر ناموں کے شعر انھیں زبانی ازبر تھے – ہم سب نے اکثر شعراء کے نام اور ان کا تخلیقی کام انھی سے سنا ہوا تھا- وہ کبھی کبھار اپنے کچھ شاگردوں کو بھی لیکر ہماری منڈلی میں آجایا کرتے تھے –
میں ان دنوں صبح سویرے سبزی منڈی جاتا ، اپنی آڑھت کی دکان کے سامنے تھڑے پر ماشہ خوری کرتا – کچھ زیادہ نہیں بس دو مرچوں کے بڑے گٹو، دس ٹماٹر کی پیٹیاں، ایک بوری آلو کی ، ایک بوری پیاز کی قریب قریب 11 بجے تک بیچ لیتا اور ہزار سے 1500 روپے منافع کما کر جیب میں ڈالتا اور گھر آکر سوجاتا- چار بجے سوکر اٹھتا ، ادبی ، سیاسی ، تاریخی اور دیگر موضوعات سے متعلق کتب و رسائل پڑھتا اور 6 بجے میں چوک فاروق اعظم میں لگی کچھ جیالوں کی لگی پنچایت میں بیٹھتا اور وہاں سے اکثر و بیشتر پیدل چل کر ریلوے اسٹیشن کے سامنے بنے چائے کے ہوٹل پہنچ جاتا جہاں یہ سب لوگ جمع ہوتے ۔ کبھی کبھار سید کرار حیدر شاہ بھی میرے ساتھ وہاں تک چلتے –
مجھے اب ٹھیک سے سال تو یاد نہیں ہے- لیکن یہ یاد ہے کہ وہ دسمبر کا مہینہ تھا اور سخت سردی پڑ رہی تھی – سرے شام آسمان سے دھند اترنا شروع ہوتی اور پورے شہر کو اپنی گرفت میں لے لیا کرتی تھی – اس رات ندیم ناجد ، مدثر خان ، شہزاد فیضی اور میں ہی تھے منڈلی کے باقی لوگ نجانے کہاں غائب تھے – ہاں یاد آیا اس رات کبیروالا سے فیصل ہاشمی بھی آئے ہوئے تھے – یہ نوجوان تھے اور غالبا انٹر کرکے فارغ ہوئے تھے لیکن شعر کہنے لگے تھے اور کیا خوب شعر کہتے تھے – ان کا پروگرام اپنے بہنوئی جاوید ہاشمی ایڈوکیٹ کے گھر رات بسر کرنے کا تھا – ندیم ناجد نے اس روز اپنی ایک پنجابی میں لکھی نظم سنائی ، پھر ناز خیالوی کی پنجابی نظمیں سنائیں اور اس کے بعد ان کے منہ سے نکلا “برفاں ہیٹھ تنور” – یہ عنوان سن کر مجھے لگا کہ شاید ناجد صاحب نے کوئی نئی پنجابی نظم لکھی ہے جس کا یہ عنوان ہے – عنوان ہی پھڑکا دینے والا تھا – میں عش عش کر اٹھا اور انھیں خوب داد دی – لیکن انھوں نے کہا کہ یہ پنجابی کے ایک صاحب اسلوب شاعر کے مجموعہ شاعری کی کتاب کا نام ہے – پھر ہم سے پوچھا کہ کیا کبھی تجمل کلیم کا نام سنا ہے؟ ہم میں سے کوئی بھی اس نام سے واقف نہیں نکلا – اس کے بعد ندیم ناجد موج میں آگئے – کہنے لگے پنجابی میں سادہ اور چھوٹی بحر میں سہل ممتنع کا سب سے بڑا شاعر اگر کوئی ہے تو وہ تجمل کلیم ہے اور دونوں پنجاب میں کوئی شاعر اس فن میں ان کا مقابلہ نہیں کرتا- وہ شروع ہوگئے – کچھ غزلیں سنائیں اور کچھ نظمیں – ایک نظم وہ تھی جو تجمل کلیم نے اپنی ماں کے مرنے پر لکھی تھی – مجھے افسوس کہ میرا حافظہ ساتھ نہیں دے رہا مگر نظم اتنی دردناک تھی کہ میری آنکھیں بھیگ گئیں – تجمل کلیم کی شاعری سے یہ میرا پہلا تعارف تھا – اب یہ اتفاق تھا یا میری سستی کہ میں نے تجمل کلیم کی شاعری کی کوئی کتاب تلاش کر کے نہیں خریدی حالانکہ اس دوران میں نے پنجابی شاعری اور فکشن کی بہت سی کتابیں سچیت کتاب گھر ، پنجابی ادبی بورڈ سے خرید کر کے پڑھیں – سوشل میڈیا کے زمانے میں خاص طور پر جب یوٹیوب ایپ آئی اور پھر فیس بک میں ریل فنکشن آیا تھا تو میں نے ایک بار پھر تجمل کلیم کی شاعری کو دریافت کیا اور ان کی زبان سے ان کے درجنوں اشعار سنے – ان کی شاعری ہندوستانی پنجاب کے اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹی کی پنجابی نصابی کتابوں میں شامل رہی اور خود پاکستانی پنجاب کی یونیورسٹیوں میں پنجابی ادب میں کئی ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالے ان کی شاعری اور فن پر لکھے گئے- اپنی زندگی میں ہی انھیں بہت مان، سمان، آدر ، محبت اور شہرت ملی – ان کی وفات پر عابد حسین عابد Abid Hussain Abid کی لکھی تعزیتی پوسٹ پڑھ کر مجھے پتا چلا کہ وہ اردو شاعری کیا کرتے تھے اور ابتداء میں یہی ان کی پہچان تھی – لیکن ان کی پنجابی شاعری اتنی مقبول ہوئی کہ ان کی اردو شاعری کو لوگ بھول ہی گئے اور نئی نسل کو اس کا پتا تک نہیں ہے – یہ ایسے ہی ہے جیسے ارشاد تونسوی ، اشو لال ، رفعت عباس کے بارے میں نئی نسل کو بالکل پتا نہیں کہ وہ بھی اردو شاعری سے شروع ہوئے تھے اور آج ان کی پہچان سرائیکی شاعری ہی ہے – تجمل کلیم کے بارے میں آج کی سوشل میڈیائی اصطلاح میں بات کریں تو ان کی چھوٹی اور سادہ بحر کی شاعری مقبول ترین ٹرینڈ بن گئی اور نوجوان شاعروں کی ایک بہت بڑی تعداد نے ان کے اسلوب کی پیروی کرنے کی کوشش کی لیکن وہ اپنی نوعیت کے واحد اور منفرد شاعر ہی بنے رہے –
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں