تعلق ۔۔۔مختار پارس

رشتوں کی بھی عمر ہوتی ہے۔ تعلق کی بھی موت ہوجاتی ہے۔ حسد، بغض، عناد، منافقت کا مرض رشتوں کو مار دیتا ہے۔ ضرب پڑتی ہے تو کچا پیالہ ٹوٹ کر کرچی کرچی ہو جاتا ہے۔ دامن صاف بھی ہو تو کانٹوں سے الجھ کر تار تار ہو جائیگا۔ دیکھتے ہی دیکھتے گھروں میں رہنے والے دروازہ کھول کر یوں نکلتے ہیں کہ لوٹ کر نہیں آتے۔ چہچہاتے آنگن، بجتے برتن، اٹھکیلیاں اور قہقہے، جن کی گھر کی اینٹ اینٹ سے خوشبو آتی ہے؛ دوست، یار، ساتھی جن کے بغیر دن ہوتا نہیں، رات کٹتی نہیں اور عمر گزرتی نہیں؛ وہ جنہیں کچھ کہنے کوآنکھ کی جنبش کی بھی ضرورت نہیں پڑتی، جن کی لغزش سزاوار نہیں ہوتی اور جو ہمیں آب حیات لگتے ہیں، ایک دن نایاب ہو جاتے ہیں۔ کس کا دکھ زیادہ ہوتا ہو گا؟ جانے والے کا یا پیچھے رہ جانے والے کا؟ شاید دکھ کم یا زیادہ نہیں ہوتا۔ یہ صرف ایک بوجھ ہوتا ہے اور اس بوجھ کو جس دل پر رکھ دیا جاتا ہے، وہ پھر تعلق نبھانے جوگا نہیں رہتا۔

تعلق کو تین چیزیں مار دیتی ہیں” توقع، تقسیم اور تضحیک”۔ انسان کمزور ہے ناں! سمجھتا ہے کہ جس بچے کو اس نے لاڈ پیار سے پچکار پچکار کر پالا ہے، جس دوست کے دکھ میں اس کو سینے سے لگایا ہے، جس شخص کی نگہبانی میں عمرعزیز کو رفتہ کر دیا ہے، وہ اب اس کو سہارا دے گا، سینے سے لگاۓ گا،اسے گرنے سے بچاۓ گا۔ ایسا جو کرے گا۔۔۔ خدا کا ولی ہو گا۔ دنیا کی ریت یہ نہیں ہے۔ جن ہاتھوں سے نوالے کھلاۓ جاتے ہیں، ان سے کسی بھی وقت تقاضا ہو سکتا ہے کہ اب ہاتھ ذرا دور رکھیں۔ بچے باپ کا گھر بیچ کر ماں کو کسی اور کے حوالے کر کے پردیس سدھار جاتے ہیں۔ مگردکھ کی طرح، محبت بھی کم یا زیادہ نہیں ہوتی۔ یہ ختم تو ہو سکتی ہے مگر تقسیم نہیں ہو سکتی۔ ساری اولاد کو ایک آنکھ سے دیکھنے والا باپ جب کسی ایک کو کچھ زیادہ حقدار سمجھ لیتا ہے، تو باقیوں کی آنکھوں میں نفرت بھر جاتی ہے۔ رشتہ دار اس انتظار میں رہتے ہیں کہ کب کس مہربان کو کونسا تازیانہ مارا جاۓ۔ نہ کسی کے تن پر کپڑا اچھا لگتا ہے، نہ کوئی خوش ہوتا ہوا ‘وارے’ کھاتا ہے۔ کیسا ہے یہ انسان ! جیسے بھوکے بھیڑیوں کا غول اکٹھے بیٹھا ہو اور ان میں سے جس بھیڑیے کو اونگھ آ جاۓ تو باقی سارے اس پر پل پڑیں۔

انسان اپنی پہچان اسی صورتحال میں کرواتا ہے۔ جو نیکی کر کے دریا میں ڈالنے کا ہنر جانتا ہے، کنارے جا لگتا ہے۔ اس دنیا میں کسی کا کچھ نہیں اور کسی کا کوئی نہیں۔ جب ہے ہی کچھ نہیں تو پھر لڑائی کیسی؟ اس سے بہتر ترکیب نہیں کہ کوئی اگر آ جاۓ تو آنے دو، جو چلا جاۓ، اسے جانے دو۔ جانے والے کی آنکھوں میں نفرت ہو تو جواب میں مسکرا دو۔ اگر وہ کم ظرف ہو تو اسے دور کردو ۔ اگر اسے رشتوں کا پاس نہ ہو تو خود کو اس سے دور کر دو۔ ایسا ناراض ہو کر نہیں بلکہ اس نیت سے کرو کہ اس بھلے مانس کا بھلا ہو اور اسے مزید گناہگار ہونے کا موقع نہ مل سکے۔ لوگ نظروں کے اسیر ہوتے ہیں، انہیں اس سے آزاد کرنے میں اچھائی ہے۔ ان کی آنکھوں سے وہ سب اوجھل ہونا چاہیےجو ان کے دل کو آزردہ کرتا ہے۔ اگر رب نے آپ کو عزت دی ہے، رزق اور بھاگ دیا ہے اور کسی کو رب کی یہ تقسیم پسند نہیں تو اس بدنصیب کی آشفتہ سری اور جہالت پر اپنی توجہ کے دروازے بند کر دو تو بہتر ہے۔ کیونکہ اس تعلق والے کو جب بھی موقع ملے گا، وہ دستار کو ہاتھ سے گراۓ گا اور چادر کو پامال کرے گا۔ جو تعلق نبھا نہیں سکتا، وہ جاہل ہے اور جاہلوں کےلیے رب کا حکم یہ ہے کہ انہیں سلام کہہ دو۔

تعلق مفادات اور فسادات سے نہیں ٹوٹتے بلکہ مرگ مفاجات سے اپنے انجام کو پہنچتے ہیں۔ انسان جب ایک دوسرے کو پہچاننا ختم کر دیتا ہے تو اس کی حیرتیں معدوم ہو جاتی ہیں۔ حیات اس وقت تک جاوداں رہتی ہے، جب تک انسان رشتوں کو دریافت کرتا رہتا ہے۔ انسانی رشتوں کی دریافت کا یہ عمل چند سالوں پہ محیط ہوتا ہے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ پہلے ماں اور باپ دونوں میں خدا نظر آتا ہے مگر دس بیس سال کی ماں باپ سے محبت کا رشتہ تعلق نہیں بن پاتا۔ پھر کچھ مہ و سال بہن بھائیوں کا ساتھ ہنستے کھیلتے گزر جاتے ہیں، پھر وہ بھی نہیں رہتے۔ کچھ ساعتیں سرراہ ملنے والے لے جاتے ہیں، پیچھے مڑ کر دیکھنے پر مجبور کر دیتے ہیں، مگر ہم انہیں اپنا نہیں کہتے۔شریک حیات، شریک کار کی گنجائیش نہیں رہنے دیتے۔ جوانی سے بڑھاپے تک کا سفر بجز عشق ہی کٹتا ہے۔ ساری عمر انسان سرراہ ملنے والوں سے رشتے نبھاتا رہتا ہے۔ رشتے نبھانے سے تعلق کہاں بنتا ہے؟

تعلق وہاں بنتا ہے جہاں غرض نہیں ہوتی۔ محبت بے غرض ہو تو عبادت میں بدل جاتی ہے۔ ایک اللہ کا بندہ جو روز اپنے گھر کی منڈیر پر پڑی تھالی میں پرندوں کےلیے  دانہ ڈالتا ہے، وہ یہ کام کسی اور سے تعلق نبھانے کےلیے  کرتا ہے۔ پرندوں کا جب تک اس تھالی سے رشتہ ہے، وہ وہاں پر آ کر دانہ کھاتے رہتے ہیں۔ جس دن رب کا حکم ہوتا ہے، پرندے منڈیر پر بیٹھنا چھوڑ دیتے ہیں۔ تھالی خالی رہنے لگ جاۓ تو بھی طائر آنا بند کر دیتےہیں۔ ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے کہ کوئی پرندہ لوٹ کر اس دیوار پر آ کر بیٹھ جاۓ جہاں سے دانہ دنکا اب نہیں ملتا۔ اگر کوئی پرندہ لوٹ آۓ تو اسکا دانے رکھنے والے سے تعلق ثابت ہے۔ اگر کسی دیوار پر ایسے بہت سے پرندے لوٹ کر آ کر بیٹھتے ہوں تو دانہ رکھنے والے کا، دانہ دینے والے سے بھی تعلق ثابت ہے۔ تعلق رکھنے والے کی صرف ایک نشانی ہے اور وہ یہ کہ وہ لوٹ کر آتا ہے؛ کبھی رب کی طرف اور کبھی رب والوں کی طرف۔یہ فرد کا اس نظام سے رابطے کا راستہ ہے جہاں ہمیں لوٹ کر جانا ہے۔ جہاں لوٹ کر نہیں جانا، وہاں کوئی تعلق نہیں رہتا۔ دنیادار لوگوں پر دروازے بند کر سکتے ہیں تاکہ کوئی لوٹ کر نہ آۓ۔ رب کی طرف جانے والی شاہراہ کبھی بند نہیں ہو گی کیونکہ اس کا ہم خاک نشینوں سے تعلق ہی یہی ہے کہ ہم نے اس کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

رشتے نبھانے والوں کو کیا معلوم کہ تعلق کا بندھن کیسا ہوتا ہے۔ رقص پابہ زنجیر ہو کر کیا جا سکتا ہو گا، تعلق رسیوں میں باندھ کر یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔ تعلق کی کچی ڈور میں بندھے لوگ ساری عمر بھی ایک دوسرے سے نہ ملیں تو بھی انہیں فرق نہیں پڑتا۔ تعلق آذردہ نہیں ہوتا، افسردہ نہیں کرتا۔ یہ صرف حکم کا محتاج ہوتا ہے۔ جب تک حکم ہے، وہیں پر رہنا ہے۔ آواز جرس اگر اذن سفر کا اشارہ کر دے تو نہ جلال کی گنجائیش ہے اور نہ ملال کی۔ عمر رواں میں فاصلے تعلق کو ہیچ نہیں کر سکتے۔ جسم و جاں کی فصیلوں میں اتنی سکت نہیں ہوسکتی کہ  روح رواں کے رابطوں کو روک سکیں۔ ارض و سما کی حدود تو بس ایک استعارہ ہیں، ورنہ عشق کی ایک جست میں یہ سفر ممکن ہے۔

میں نے ایک شخص کو دیکھا جو نماز چھوٹ جانے پر افسوس کر رہا تھا۔ کہہ رہا تھا کہ میرا رب سے دل کی باتیں کرنے کا موقع ضائع ہو گیا۔ یہ اس کے دینے نہ دینے کا سوال نہیں تھا، میرا اس سے ایک تعلق ہے اور مجھے وہاں پر ہونا تھا۔ مجھے وہاں پر ہونا تھا کیونکہ اس نے بھی وہاں پر ہونا تھا۔ اگر وہ سجدوں میں نہ ملے تو وہ ڈھونڈنا پڑتا ہے۔ کبھی وہ استغفار میں ملتا ہے اور کبھی استدلال میں ملتا ہے۔ کبھی چراغ آخر شب کا انتظار کرنا پڑتا ہے اور کبھی گیسوۓ درد  و ملال کا۔ تب کہیں جا کر دیدہء نم پرالجھے قطروں میں کسی کھڑکی کے اچانک بیتابی سے کھلنے کی روشنی چمکتی ہے۔ میں ساری زندگی ہر گھر پر جا کر دروازے کھٹکھٹاتا رہتا ہوں کہ شاید وہ کھڑکی جو میرے خوابوں کی طرف کھلتی ہے، یہیں کہیں ہو گی۔ میری ساری زندگی لوگوں سے رشتے نبھاتے، اس توقع پر گزر جاتی ہے، کہ وہ جو مجھے سجدوں میں سنائی دیتا ہے، کسی دن اچانک کسی شکل میں میرے سامنے نہ آ جاۓ۔

تعلق ایک سراۓ شوق ہے، سوز و ساز غم نہیں۔ یہ راز حیات و ممات ہے، اس سے کچھ بھی کم نہیں۔ اس کا صحیح ادراک کسی گروہ کو نہیں ہو سکتا کہ تعلق کے اطلاق کی شرط فرد پر ہے۔ ملک اور مذاہب بھی تعلق کی حدت کو برداشت نہیں کر سکتے۔ کسی انسان کو کسی اور کے ساتھ تعلق پر پورا اترنے کا اختیار ہی حاصل نہیں۔ یہ رب کی عطا ہے جس کا نصیب ہو، اسے مل جاتا ہے۔ تعلق کی بس ایک ہی نشانی ہے، گل و گلزار کر دیتا ہے، ثمروار کر دیتا ہے۔میرا میرے خدا سے وہی تعلق ہے جو فنا کا بقا سے اور میرے نصیب کا اسکی رضا سے ہے۔میرے پاس سے ابھی کوئی ہوا کا جھونکا بن کر گزرا ہے، اس کا مجھ سے کوئی تو تعلق ہو گا !

Avatar
مختار پارس
مقرر، محقق اور مصنف، مختار پارس کا تعلق صوفیاء کی سر زمین ملتان سے ھے۔ ایک عرصہ تک انگریزی ادب کے استاد رھے۔ چند سال پاکستان ٹیلی ویژن پر ایک کرنٹ افیئرز کے پروگرام کی میزبانی بھی کی ۔ اردو ادب میں انشائیہ نگار کی حیثیت سے متعارف ھوئے ۔ان کی دو کتابیں 'مختار نامہ' اور 'زمین زاد کی واپسی' شائع ہو چکی ھیں۔ ادب میں ان کو ڈاکٹر وزیر آغا، مختار مسعود اور اشفاق احمد جیسی شخصیات سے سیکھنے کا موقع ملا۔ ٹوئٹر پر ان سے ملاقات MukhtarParas@ پر ھو سکتی ھے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *