ان دنوں میڈیا میں ایک سنجیدہ بحث چھڑی ہوئی ہے ؛ موضوع ’ بولنے کی آزادی ‘ ہے ، یعنی ’ آزادیٔ اظہارِ رائے ‘۔ آئین نے ملک کے شہریوں کو جو حقوق دیئے ہیں ، یہ حق ان میں سے ایک ہے ، اور بڑا ہی اہم حق ہے ۔ حالیہ دنوں میں اس موضوع پر بحث کا سبب دو واقعات بنے ہیں ۔ ایک واقعہ ’ اشوکا یونیورسٹی ‘ کے پروفیسر علی خان محمود آباد سے متعلق ہے ، اور دوسرا واقعہ معروف ترقی پسند شاعر اور اپنے دور کی ایک بڑی شخصیت فیض احمد فیض کی ایک نظم ’ ہم دیکھیں گے ‘ سے متعلق ۔ علی خان محمود آباد کو ’ آپریشن سیندور ‘ کے ضمن میں سوشل میڈیا پر اپنی دو پوسٹوں کے لیے مقدمے کا سامنا ہے ، اور فیض کی نظم کو پڑھنے کے لیے ایک دلت کارکن سمیت چار افراد پر ’ غداری ‘ کا مقدمہ بنا دیا گیا ہے ۔ علی خان محمودآباد کی پوسٹ پر بی جے پی سے تعلق رکھنے والے ایک کارکن اور ہریانہ کی خواتین کمیشن نے اعتراض کیا تھا کہ اس میں فوج اور خواتین کی توہین کی گئی ہے ، لہذا ان پر نہ صرف ایف آئی آر درج کی گئی بلکہ ہریانہ کی پولیس نے دہلی جاکر انہیں یوں گرفتار کیا جیسے کہ وہ کوئی دہشت گرد ہوں ۔ انہیں جیل ہوئی ، اور جب انہوں نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تب کہیں جا کر انہیں ضمانت پر رہائی ملی ۔ لیکن سپریم کورٹ نے ضمانت دیتے ہوئے جو شرائط رکھی ہیں ، انہیں ملک کا ایک بہت بڑا طبقہ ’ آزادیٔ اظہارِ رائے ‘ پر ایک ’ حملہ ‘ تصور کر رہا ہے ۔ کئی بڑے اخباروں نے سپریم کورٹ کی شرائط پر تنقیدی اداریے لکھے ہیں ، اور کئی دانشوروں نے نکتہ چینی کی ہے ۔ سپریم کورٹ نے پروفیسر موصوف کو باقاعدہ یہ حکم دیا ہے کہ وہ ’ آپریش سیندور ‘ کے بارے میں نہ کچھ بولیں گے اور نہ ہی کچھ لکھیں گے ۔ اس حکم کو ’ زبان بندی ‘ سمجھا جا رہا ہے ۔ ایک بحث چلی ہوئی ہے کہ کسی کو اظہار رائے کی آزادی سے روکا کیسے جا سکتا ہے ؟ اس بحث کا ایک سبب مدھیہ پردیش کے ایک وزیر وجے شاہ کا وہ بیان بھی ہے ، جو ہندوستانی فوج کی توہین کے مترادف ہے ، اور خواتین کی توہین کے بھی ۔ یاد رہے کہ انہوں نے کرنل صوفیہ قریشی کو ’ آتنک وادیوں کی بہن ‘ کہا تھا ۔ وہ اب تک گرفتار نہیں کیے گیے ہیں ، ان کی وزارت بھی برقرار ہے ، بلکہ ان پر ایف آئی آر بھی عدالت کے حکم پر درج کی گئی ہے ! سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا یہ ’ دوغلا رویہ ‘ نہیں ہے ؟ ترنمول کانگریس کی رکن لوک سبھا مہوا موئترا سمیت کئی اہم شخصیات نے صاف صاف کہا ہے کہ پروفیسر علی خان محمودآباد کے خلاف صرف اس لیے معاملہ بنایا گیا اور انہیں گرفتار کیا گیا کہ وہ مسلمان ہیں ۔ فیکٹ چیکر محمد زبیر نے ، اس معاملہ میں ’ ریپبلک ٹی وی ‘ کے بانی ارنب گوسوامی کے اس بیان پر کہ ’ اس پروفیسر نے جو کچھ کیا ہے وہ ناقابلِ معافی ہے ‘ جواب دیتے ہوئے لکھا ہے ’ ارنب کرنل صوفیہ قریشی کے خلاف بی جے پی کے وزیر وجے شاہ سے سوال کرنے کی ہمت نہیں کر سکتے لیکن پروفیسر خان پر بغیر کسی قصور کے حملہ کرتے ہیں کیونکہ وہ مسلمان ہیں ۔‘ اشوکا یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر بھانو پرتاپ مہتا نے صاف لفظوں میں کہا ہے کہ ’ عدالت کا فیصلہ ہمارے حقوق پر اثر ڈال رہا ہے ۔‘ ایک سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ جب وجے شاہ پر بھی وہی دفعات لگی ہیں ، جو دفعات پروفیسر پر لگائی گئی ہیں تو ان کے خلاف بھی اسی طرح کی کارروائی کیوں نہیں ہوئی ، کیوں ان پر کوئی سخت کارروائی نہیں کی گئی ؟ مدھیہ پردیش کے ہی ڈپٹی وزیراعلیٰ جگدیش دیوڑا نے تو یہ کہہ دیا کہ ’ سینا ( فوج ) مودی کے قدموں پر سرنگوں ہے ‘ لیکن یہ کہنے پر ان کے خلاف کچھ نہیں کیا گیا ۔ شاید انہیں ’ اظہار رائے ‘ کی ایسی چھوٹ دے دی گئی ہے جو پروفیسر اور فیض کی نظم پڑھنے والوں کے لیے نہیں ہے ! سچ تو یہ ہے کہ ان دنوں یرقانی ٹولہ کچھ بھی کہہ اور بول رہا ہے ، لیکن اس پر کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے ۔ تازہ معاملہ روہتک کے ایک راجیہ سبھا رکن رام چندر جانگڑا کا دیکھ لیں ، انہوں نے اپنے ایک بیان میں پہلگام کی بیواؤں کو ’ بزدل ‘ کہہ دیا ہے ! ان کے خلاف کیا کارروائی ہوگی ؟ دیکھیے کیا ہوتا ہے ۔ اسی لیے سوال رہا ہے کہ کیا یہ حق سب کے لیے نہیں ہے ؟ سب سے مراد وہ ہیں ، جو حکومت سے سوال پوچھتے ہیں ، نکتہ چینی کرتے ہیں اور اسے ’ آزادیٔ اظہارِ رائے ‘ سے جوڑتے ہیں ، لیکن اکثر قانونی داؤ پیچ میں پھنسا دیے جاتے ہیں ۔
بشکریہ فیس بک وال
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں