مسئلہ کشمیر کا حل کیوں ضروری ہے؟ – آغرندیم سحر

پاک بھارت کشیدگی کم ہوئی مگر جنگ کا خطرہ تاحال موجود ہے۔پاکستان جہاں بار بار امن کی بات کرتا ہے اور تمام مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے چاہتا ہے،وہاں مودی کا جنگی جنون سمجھ سے باہر ہے۔ڈیڑھ ارب کی آبادی کو جنگ میں جھونکنا شاید مودی کے لیے کوئی بڑی بات نہیں،اسے کوئی سمجھانے والا بھی نہیں کہ جنگیں آسان نہیں ہوتیں،جنگ میں پہلی گولی ہم اپنی مرضی سے چلاتے ہیں مگر آخری گولی کون چلاتا ہے،یہ فیصلہ ہمارے اختیار میں نہیں ہوتا۔جنگ کا انجام اور اس میں ہونی والی تباہی کا خمیازہ قوموں کو صدیوں بھگتنا پڑتا ہے۔دنیا بھر میں ہزیمت اٹھانے کے بعد اب بھارت عالمی سفارت کاری کے ذریعے اپنے گناہوں اور غلطیوں پر پردہ ڈالنا چاہتا ہے۔دنیا بھر میں مودی کے جنگی جنون کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے،یہ تنقیداور مودی کا جنگی جنون،بھارت کی ڈیڑھ ارب کی آبادی کے لئے شدید خطرے کا باعث ہے۔
ٹرمپ کی ثالثی میں مذاکرات کی میز سجنے جا رہی ہے،اس میز میں دو بنیادی نکات زیر بحث آئیں گے اور اس بحث سے نتیجہ کیا نکلتا ہے،یہ سوچنے کی ضرورت ہے۔عالمی ماہرین کے مطابق ان دونوں نکات کا حل مشکل ہی نہیں ،ناممکن بھی لگ رہا ہے اور اس کی وجہ مودی کی شدت پسند پالیسی اور انتہا پسند سوچ ہے۔مذاکرات سے قبل ہی دنیا بھارت کی شکست کے بعد اس بات کو تسلیم کر رہی ہے کہ مودی ہی تمام مسائل کی جڑ ہے۔بھارت یا مودی اس خطے میں اپنی بادشاہت اور حکمرانی قائم کرنا چاہتا تھا،اس گھمنڈ میں اس نے سات مئی کو پاکستان پر حملہ کی غلطی کی اور بالاخر یہ غلطی اسے لے ڈوبی۔ دو نکاتی ایجنڈا کیا ہے، مسئلہ کشمیر کا مستقل بنیادوں پر حل اور سندھ طاس معاہدے کی بحالی۔
اس خطے میں کشیدگی کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ مسئلہ کشمیر ہے۔ جو ۷۸ برسوں سے حل طلب ہے،اس مسئلے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان دو بڑی جنگیں ہو چکیں،ایک ۱۹۴۸ء اور دوسری ۱۹۶۵ئ۔۱۹۴۷ء میں ہندوستان کی تقسیم اور قیامِ پاکستان کے کچھ ماہ بعد ہی پاکستان اور بھارت نے کشمیر کے مسئلے پر اپنی پہلی جنگ لڑی،یہ جنگ ۱۹۴۸ء میں ختم ہوئی اور اس میں ہزارو ں جانیں گئیں۔1965ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان دوسری جنگ لڑی گئی اور اس میں بھی ہزاروں لوگ ہلاک ہوئے۔جنوری ۱۹۶۶ء میں امریکہ اور سوویت یونین کی ثالثی میں تاشقند مذاکرات کے بعد دونوں ملک جنگ میں حاصل کی گئیں زمینیں واپس کریں اور دونوں ملک اپنی فوجیں بھی واپس بلائیں۔ان دو جنگوں کے علاوہ کارگل وار بھی اگرچہ ایک محدود پیمانے پر ہوئی تھی مگر ایشو وہاں بھی کشمیر ہی تھا،یہاں بھی امریکہ ثالثی میں جنگ ختم ہوئی۔ان تین جنگوں کے بعد بھی ہم نے نہ تاریخ سے کچھ سیکھا اور نہ ہی جنگوں میں ہونے والی تباہی سے۔کہ آج ایک مرتبہ پھر دونوں ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے ہیں اور بنیادی مسئلہ آج بھی کشمیر ہی ہے۔
ان ۷۸ برسوں میں بھارت کی ہمیشہ کوشش رہی کہ وہ کشمیر کو بین الاقوامی مسئلہ بننے سے روکے جب کہ پاکستان نے ہمیشہ اسے عالمی ثالثوں کی نگرانی میں حل کرنے کا تقاضا کیا،ہم آج بھی یہ کہتے ہیں کہ اقوام ِ متحدہ کی قرار دوں کے مطابق اس مسئلے کا حل نکلنا چاہیے سو بھارت اسے مقامی مسئلہ سمجھ کر دبانا چاہتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ۲۰۱۹ء میں بھارت نے اپنے آئین میں ترمیم کر کے یک طرفہ طور پر آرٹیکل ۳۷۰ کو ختم کر دیا جو مکمل طور پر غیرقانونی تھا،یہ آرٹیکل کی کشمیر کی خود مختاری اور خصوصی حیثیت کی بنیاد تھا۔اس آرٹیکل کو ختم کر کے بھارت نے یہ پیغام دیا کہ کشمیر بھی ہماری دیگر ریاستوں کی طرح ہی کی ایک ریاست ہے،اس کے علاوہ اس کی کوئی الگ سے حیثیت نہیں ہے۔ اس وقت جب یہ معاملہ امریکہ کے پاس پہنچا تھا تو اس نے کہا تھا کہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے اور امریکہ خطے میں امن چاہتا ہے۔کل تک امریکہ جسے بھارت کا اندرونی مسئلہ کہتا تھا،آج ٹرمپ کے ٹویٹ نے صورت حال یکسر تبدیل کر دی ہے،ٹویٹ سے یہ بات تو واضح ہو گئی کہ کشمیر بھارت کا اندرونی مسئلہ نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی ایشو ہے اور اسے عالمی ثالثوں کی موجودگی میں ہی حل ہونا چاہیے۔
کشمیر کی طرح سندھ طاس معاہدہ بھی اہم ہے کیوں کہ اس کی ثالثی ورلڈ بینک نے کی تھی،بھارت ایک طویل عرصے سے اس کوشش میں تھا کہ اس معاہدے کو ختم کیا جائے یا پھر اس میں ردوبدل کی جائے،اس معاہدے میں تبدیلی یا اس خاتمہ پاکستان پر سیدھا حملہ تھا،بھارت نے پانی بند کیا اور یوں ایک بڑی جنگ کا خطرہ بڑھ دیا۔ان دو بنیادی نکات کے ساتھ یہ مسئلہ اب امریکہ کی ثالثی میں مذاکرات کی میز پر رکھا جائے گا اور یہ دونوں نکات خطے میں کشیدگی کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے لیے بہت ضروری ہیں۔حالیہ سیز فائز کے بعد یہ توقع کی جا رہی تھی کہ بھارت مذاکرات تک کسی بھی طرح کی غیر قانونی حرکت نہیں کرے گا ،ڈی جی ایم اوز کے درمیان رابطے بھی جاری ہیں مگر بھارتی آبی جارحیت میں کوئی فرق نہیں آیا۔رائٹرز REUTERS کے مطابق پاکستان کا پانی روکنے کے لیے بھارت نے دریائے چناب پر نئے آبی منصوبوں پر غور کرنا شروع کر دیا ہے،مودی نے چناب،جہلم اور سندھ پر منصوبوں کو جلدی مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے اگرچہ یہ تینوں دریا پاکستان کے لیے مختص ہیں۔ چناب پر رنبیر نہر کی لمبائی کی توسیع کا منصوبہ بھی ہے جسے ۶۰ کلومیٹر سے بڑھا ۱۲۰ کلو میٹر کیا جائے گا۔

Facebook Comments

آغر ندیم سحر
تعارف آغر ندیم سحر کا تعلق منڈی بہاءالدین سے ہے۔گزشتہ پندرہ سال سے شعبہ صحافت کے ساتھ وابستہ ہیں۔آپ مختلف قومی اخبارات و جرائد میں مختلف عہدوں پر فائز رہے۔گزشتہ تین سال سے روزنامہ نئی بات کے ساتھ بطور کالم نگار وابستہ ہیں۔گورنمنٹ کینٹ کالج فار بوائز،لاہور کینٹ میں بطور استاد شعبہ اردو اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔اس سے قبل بھی کئی اہم ترین تعلیمی اداروں میں بطور استاد اہنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔معروف علمی دانش گاہ اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی لاہور سے اردو ادبیات میں ایم اے جبکہ گورنمنٹ کالج و یونیورسٹی لاہور سے اردو ادبیات میں ایم فل ادبیات کی ڈگری حاصل کی۔۔2012 میں آپ کا پہلا شعری مجموعہ لوح_ادراک شائع ہوا جبکہ 2013 میں ایک کہانیوں کا انتخاب چھپا۔2017 میں آپ کی مزاحمتی شاعری پر آسیہ جبیں نامی طالبہ نے یونیورسٹی آف لاہور نے ایم فل اردو کا تحقیقی مقالہ لکھا۔۔پندرہ قومی و بین الاقوامی اردو کانفرنسوں میں بطور مندوب شرکت کی اور اپنے تحقیق مقالہ جات پیش کیے۔ملک بھر کی ادبی تنظیموں کی طرف سے پچاس سے زائد علمی و ادبی ایوارڈز حاصل کیے۔2017 میں آپ کو"برین آف منڈی بہاؤالدین"کا ایوارڈ بھی دیا گیا جبکہ اس سے قبل 2012 میں آپ کو مضمون نگاری میں وزارتی ایوارڈ بھی دیا جا چکا ہے۔۔۔آپ مکالمہ کے ساتھ بطور کالم نگار وابستہ ہو گئے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply