باادب ،باملاحظہ ہوشیار ! پیر فروٹان ،شہنشاہ باغاں ،پھل کامل ، پھلوں کے بادشاہ تشریف لا رہے ہیں ۔چند دنوں میں سورج کی تمازت بڑھتے ہی ہماری منڈیاں ،بازار ،گلیاں ،محلے رنگ برنگ آموں سے بھر جائیں گے ۔ پوری فضا ایک مخصوص اور مانوس مہک سے لبریز ہو جاۓ گی ۔ ہر جانب زرد اور سبز رنگ کے آموں کی مختلف سائز کی سینکڑوں اقسام اپنا رنگ دکھانے لگیں گی ۔ کہتے ہیں کہ آم جس کو اس کے ذائقے ، مخصوص خوشبو اور خوبصورت رنگت ،بناوٹ اور سائز کی بدولت پھلوں کا باقاعدہ بادشاہ تسلیم کیا جاتا ہے اور یہ پاکستان ،ہندوستان اور فلپائن کو قومی پھل بھی قرار پاچکا ہے۔اس کی بادشاہت کاراز یہ ہے کہ اس کا ذائقہ اتنا لذیذ ہوتا ہے کہ اسے جتنا بھی کھالیں دل اور نیت نہیں بھرتی ۔اسی لیے مشہور شاعر غالب کا قول ہے کہ آم کی خاصیت یہ ہے کہ “آم میٹھے ہوں اور بہت ہوں ” ۔کم قیمت ہونے کی وجہ سےآم پوری دنیا میں ہر عام کے ساتھ ہر خاص کا بھی پسندیدہ پھل شمار ہوتا ہے ۔موسم گرما کی آمد کے ساتھ ہی ہمارے جنوبی پنجاب میں آم کی ہر سو سبز و زرد رنگت پورے ماحول کو پیلا کر دیتی ہےایسا محسوس ہوتا ہےجیسے پورعے علاقے میں شادی کی مہندی کی رسم کا سماں ہے ۔
کہتے ہیں کہ دنیا میں سب سے زیادہ آم برصغیر پاک وہند میں پیدا ہوتا ہے اور برصغیر میں جنوبی پنجاب میں اس کی پیداوار سب سے زیادہ ہوتی ہے ۔اسی طرح جنوبی پنجاب میں رحیم یار خان چونسے کی پیداوار اور کوالٹی میں سرفہرست ہے ۔اب تک آم کی تقریباً سولہ سو اقسام سامنے آچکی ہیں مگر بادشاہت کا تاج سائز ،خوبصورتی ، خوشبو ،ذائقے اور رس دار گودے کی باعث “چونسہ “آم کے سر پر ہی سجتا ہے ۔جنوبی پنجاب کے زمینداروں اور باغ مالکان کی یہ پرانی روایت ہے کہ دوستوں کے لیے آم کی مینگو پارٹیاں یعنی “ساونی ” نہر کنارے اور سوئمنگ پولز پر بڑے پیمانے پر منعقد کی جاتی ہیں اور ساتھ ساتھ یہ آم اپنے دوستوں ،احباب اور عزیزوں کو تحفہ کے طور پربھجواۓ جاتے ہیں ۔یہی نہیں باغوں کی پیداوار کا ایک حصہ علاقے کے غربأ کے لیے وقف کر دیا جاتا ہے ۔آم کو بطور تحفہ بھیجنے کی راویت ہزاروں سال پرانی ہے ۔کہتے ہیں کہ جب شیر شاہ سوری نے پندرھویں صدی کے شروع میں مغل بادشاہ ہمایوں کو جس مقام پر شکست دی وہ بہار کا علاقہ “چوسا “تھا جو آم کی پیداوار کے حوالے سے بھی مشہور تھا ۔شیرشاہ سوری نے اس جیت کا جشن اپنے اسی پسندیدہ آم سے منایا اور اسی روز اسے چونسا کا نام دیا گیا ۔بادشاہ شیر شاہ سوری نے اپنی جیت کی خوشی میں تحفے کے طور پر یہ آم اپنے اطراف کے سرداروں کو بھی بھجواۓ ۔یوں آم بھجوانے کی روایت کا آغاز ہوا ۔مغلیہ دور میں شاہ جہان بادشاہ نے نہ صرف اس روایت کو عروج بخشا بلکہ بےشمار آموں کے باغ لگوا کر اپنے آپ کو نمائیاں کر لیا ۔بادشاہ اورنگ زیب عالمگیر بھی چونسہ کا دیوانہ ثابت ہوا ۔پھر یہ آموں کے تحائف کا سلسلہ ہمیشہ سے چلتا اور عروج پکڑتا رہا ۔ سرائیکی وسیب کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ یہ مہمان نواز ی کے ساتھ ساتھ بڑے کھلے دل کے واقع ہوۓ ہیں اور اس مہنگائی کے دور میں بھی باہمی محبت کو پروان چڑھانے کےلیے اس روایت اور جذبہ خیر سگالی کو زندہ رکھے ہوۓ ہیں ۔آم کا سیزن آتے ہی ایسے قریبی اور بے تکلف دوستوں کی فرمائشوں کا ڈھیر لگ جاتا ہے ۔یہ ایک ایسا تحفہ ہے جسے بھیجنے والا محبت سے سجاتا ہے اور پانے والا شوق سے کھولتا اور کھاتا ہے۔

آج کل یہ آم جنوبی پنجاب علاقے رحیم یار خان اور ملتان میں سب سے زیادہ پیدا ہوتا ہے بلکہ اب تو ان علاقوں کی معیشت کا دارومدار بھی آم کی اچھی فصل سے وابستہ ہو چکا ہے ۔آم کا تحفہ بھیجنے کی یہ روایت بھی زیادہ تر اسی علاقے میں آج بھی موجود ہے جو محبت کا اظہار یعنی” ٹوکن آف لو ” اور جذبہ خیر سگالی سمجھا جاتا ہے ۔آم کا تحفہ دینا محض موسمی مٹھاس کی منتقلی نہیں ہوتی بلکہ یہ خلوص ،رشتہ داری ،تہذیب اور سماجی ہم آہنگی کی علامت سمجھی جاتی ہے ۔آم کا یہ تحفہ زبان سے زیادہ دل کی بات کہہ جاتا ہے ۔دوسری جانب یہ مینگو ڈپلو میسی بھی کہلاتی ہے ۔پھر رفتہ رفتہ یہ مینگو ڈپلومیسی کا کلچر اس قدر بڑھا کہ یہ روایت محبت کے ذاتی تحفہ سے بڑھ کر سرکاری اور خوشامدی تحائف میں تبدیل ہو گئی ۔ہمارۓ علاقے کا ہر اہلکار اور افسر اپنے سےاعلیٰ افسر کو یہ تحفہ دینا فرض سمجھتا ہے ۔ہر محکمہ اپنے سے بڑے دفتر کو آم کی پیٹیاں بھجوانے کا ہر ممکن انتظام کرتا ہے ۔جس کے لیے چونسہ آم سب سے زیادہ پسند دیدہ قرار پاتا ہے ۔یوں اس آم کے سیزن کے دوران ہمارا پورا علاقہ آموں کے کاروبار اور سرگرمیوں سے منسلک ہو جاتا ہے ۔آم کی خریداری ،اس کی پیکنگ اور اس کی ترسیل کی باعث روزگار کی سہولت میسر آجاتی ہے ۔ڈائیوو بس کمپنی اور فیصل موورز نے تو یہاں شہر میں اپنے اپنے خصوصی ڈیسک ،پک اپ پوائنٹ اور کاونٹر قائم کر دئیے ہیں جہاں سے گاؤں کے باغات سے نکلا ہوا آم پیٹیوں اور کریٹوں میں بند ہوکر شہر کے دروازوں پر دستک دیتا ہے ۔ آج کل ترسیل کے بھاری اخراجات کی باعث اگر ایک ہزار کے آم خرید کر لاہور بھجواۓ جائیں تو وہ وہاں دو ہزار روپے میں پہنچ پاتے ہیں اور پھر رش کی وجہ سے آم کے تبدیل ہونے ،گم ہونے ،اور راستے میں ٹوٹ کر بکھرنے یا خراب ہوکر ضائع ہونے کے واقعات بھی عام ہو چکے ہیں ۔بند پیٹی آم خریدنے کی صورت میں خراب اور ہلکی کوالٹی کے آموں کو پیک کرنے کی شکایات بھی عام موصول ہوئی ہیں ۔ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ یہ پھل زیادہ دن تک رکھا نہیں جاسکتا جنوبی پنجاب کی شدید گرمی کی باعث اس کے خراب ہوکر ضائع ہونے کے بھی خدشات ہوتے ہیں ۔ایک جانب درختوں کی کٹائی کی باعث آم کی فصل میں دن بدن کمی اور ان کی قیمتوں میں بڑا اضافہ اور دوسری جانب ان کی ترسیل میں خرچہ ، دقت اور مشکلات ہمارے محبت بھرے اس روائتی جذبے کی راہ میں دشواری لا رہے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے چند سال سے اس روایت میں بڑی کمی دیکھنے میں آرہی ہے ۔مہنگائی کی تلخی ،مصروف طرز زندگی ،روابط کا ڈیجیٹل روپ ،کلچر کا کمر شل ہونا ،دیہی ثقا فت کا زوال اور ہمارا تعمیراتی جنون اس پھل کے درختوں کو کاٹ رہا ہے ۔میری سب سے یہ گزارش ہے کہ کم ازکم پھل دار درختوں کو تو کٹنے سے بچائیں کیونکہ یہ ایک جانب ہمارے ماحول میں بہتری کے ضامن ہیں تو دوسری جانب پھلوں کی پیداوار کے ذریعے ہماری بےشمار محبت بھری روایات کو زندہ رکھنے میں معاون ہوتے ہیں ۔جنوبی پنجاب کا علاقہ کھجور اور آم کی پیداوار کے لیے آئیڈل ہے۔ اس لیے شجر کاری کے دوران ان کی کاشت پر خصوصی توجہ درکار ہے ۔ان دونوں پھلوں پر توجہ دیکر اور عالمی مارکیٹ سے برآمد ی زر مبادلہ حاصل کرکے پنی ملکی معیشت کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے ۔ان دونوں پھلوں کی بیرون ملک مانگ اور ان سے بنی ہوئی مصنوعات کی مقبولیت میں اضافہ اس بات کا متقاضی ہے کہ ہم “ویلیو ایڈیشن “کے تجارتی فلسفے کو سمجھیں اور اپنے ملک کی ان سوغاتوں کو اپنے ہی ملک میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے محفوظ اور ماڈرن پیکنگ کرکےاپنی برآمدات بڑھائیں ۔جس کے لیے ہمیں اپنے ملک میں ایسی انڈسٹری کی ضرورت ہے جو ان پھلوں کی “ویلیو ایڈیشن “سے سینکڑوں مصنوعات بنا کر دنیا کے سامنے پیش کر سکیں ۔ہمارے ملک میں ان کا جوس ،اچار ،مربہ ،چٹنی جیسی چیزیں تو گھریلو سطح پر ہی تیار کر لی جاتی ہیں جو سالوں محفوظ رہتی ہیں ۔اس جانب انفرادی اور اجتماعی توجہ درکار ہے تاکہ ہماری خوش ذائقہ پھلوں کے بادشاہ اور قومی پھل سے لطف اندوز ہونے اور محبت و عقیدت بھرے آم جیسے روائتی تحفے بھیجنے کی خواہش بھی باآسانی پوری ہو سکے ۔ان آموں کی کی بحفاظت اور بروقت اور سستی ترسیل کےلیے حکومتی سطح پر ترجیحی اقدامات کی ضرورت ہے ۔آم کا تحفہ دلوں کے دروازے کھٹکھٹاتا ،دلوں کو پگھلاتا اور رشتوں کو ڈور کو جوڑتا آج بھی رواں دواں ہے ۔اس خوبصورت روایت کو زندہ رکھنے لیے ضروری ہے کہ اسے نئی نسل تک منتقل کریں ۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں