• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • .مسئلہ فلسطین، ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو کی مثلث/تہمینہ یاسمین محمد

.مسئلہ فلسطین، ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو کی مثلث/تہمینہ یاسمین محمد

اس وقت عالمی میڈیا میں ہاٹ ٹاپک ہے کہ کیا امریکہ نے بالآخر اسرائیل کی پشت پناہی کرنے سے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا ہے؟

رواں ماہ کے آغاز سے ہی عالمی برادری مذکورہ بالا سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش میں ہے.

یہ سوال دو وجوہات کی بناء پر پیدا ہوا.

پہلی وجہ یہ ہے کہ 6 مئی 2025 کو امریکہ اور حوثیوں کے درمیان ایک عارضی جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے کی اہم شرائط مندرجہ ذیل ہیں.

1. حوثیوں پر امریکی فضائی حملوں کے سلسلے کو روک دیا جائے گا.

2. حوثیوں کی جانب سے بحری راستوں ( بحیرہ احمر اور باب المندب) سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر حملوں کا سلسلہ روک دیا جائے گا.

یوں حوثیوں نے امریکہ سے عارضی طور پر گویا جان کی امان پائی اور امریکہ نے حوثیوں سے اپنے اور اپنے حامیوں کے تجارتی بحری بیڑے بچا لیے، مگر یہیں سے کہانی میں ایک ٹوئسٹ آیا……جہاں سعودی عرب اور ایران نے حوثیوں اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر اطمینان کا اظہار کیا، وہیں اسرائیل کا عدم اطمینان کھل کر سامنے آ گیا، کیوں کہ امریکہ نے اس معاہدے میں حوثیوں کی اسرائیل کے خلاف جاری کارروائیوں کو یکسر نظر انداز کر دیا. بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ امریکہ نے اسرائیل اور اس کے مفادات و شخصیات کو پسِ پشت ڈال دیا، کیوں کہ حوثیوں نے قطعی طور پر واضح کیا کہ اگرچہ انہوں نے امریکہ سے معاہدہ کر لیا ہے تاہم وہ اسرائیل کے خلاف اپنی کارروائیوں میں کسی قسم کا تعطل نہیں لائیں گے. حوثیوں کی مذکورہ وضاحت نے اسرائیل کو ورطہ ء حیرت میں ڈال دیا ہے، کیوں کہ شاید اسرائیل کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایک روز امریکہ اپنے اس بغل بچے کو حوثیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر اپنی تجارت کی حفاظت و فروخت کی فکر میں مشغول ہو جائے گا.

معاہدہ طے پا چکا ہے اور اب امریکہ اور حوثیوں کے درمیان عارضی جنگ بندی ہے. یوں امریکی مفادات محفوظ ہیں، مگر اسرائیل کی حفاظت مشکوک ہے، کیوں کہ اس کے خلاف حوثیوں کی کارروائیاں زور و شور سے بلا تعطل جاری و ساری ہیں.

اب دوسری وجہ پر روشنی ڈالی جاتی ہے.

دوسری وجہ یہ ہے کہ امریکہ نے اسرائیل کی مداخلت کے بغیر حماس کی قیادت سے براہ راست مذاکرات کیے اور ایک امریکی شہری (جو اسرائیلی فوجی ہے) کو حماس سے غیر مشروط طور پر آزاد کروا لیا. اس امریکی شہری کا نام ایڈن الیگزینڈر Edan Alexander ہے. یہ امریکہ میں پلا بڑھا، مگر اٹھارہ برس کی عمر میں اسرائیلی فوج میں آ بھرتی ہوا. نتیجتاً 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے ہاتھ لگ گیا. تقریباً 584 تک غزہ کی پٹی میں حماس کی تحویل میں رہا اور بالآخر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششوں کے نتیجے میں حماس سے رہائی پا کر واپس تل ابیب پہنچا اور اپنے اقارب و احباب سے ایک بار پھر ملا.

دلچسپ امر ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے مطابق حماس نے اسرائیل کے فوجی دباؤ اور امریکہ کی سفارتی کوششوں کی وجہ سے ایڈن کو رہا کیا، جب کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایڈن کی رہائی سے متعلق معاملات کے حوالے سے تقریر کی تو اسرائیل اور نیتن یاہو کا ذکر تک نہ کیا اور یہیں سے عالمی برادری کا ماتھا ٹھنکا کہ ہو نہ ہو، دال میں کچھ کالا ہے…..اب سبھی بحث و مباحثہ کر رہے ہیں کہ اگرچہ ایڈن امریکی شہری ہے، مگر اسرائیلی فوجی بھی ہے. آخر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے ایڈن کی رہائی کو اپنی کامیابی کیوں قرار دیا ہے.

دوسری طرف حماس نے واضح کیا ہے کہ ایڈن کی رہائی کے دو مقاصد ہیں:

1. حماس اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری لانا

2. حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے سلسلے میں بات چیت کا آغاز کرنا.

(موجودہ صورتحال کے مطابق اس وقت غزہ کی پٹی میں حماس کے قبضے میں 58 اسرائیل یرغمالی موجود ہیں. مختلف اداروں اور افراد کی قیاس آرائیوں کے مطابق ان میں سے صرف 23 یرغمالی زندہ ہیں، جب کہ باقی جان کی بازی ہار چکے ہیں)

مزید یہ کہ اگرچہ امریکہ نے حماس کے ساتھ براہ راست مذاکرات کیے اور اسرائیل کو نظر انداز کیا، تاہم اسرائیل نے حماس کے ساتھ مذاکرات کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے اور اپنے ایک وفد کو دوحہ روانہ کر دیا ہے.

ان مذکورہ و دیگر وجوہات کی بناء پر عالمی برادری سوچنے پر مجبور ہو گئی ہے کہ کیا ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے تعلقات میں اب پہلے جیسی گرمجوشی باقی نہیں رہی.

یوں بھی قصہ امریکہ کے حوثیوں کے ساتھ معاہدے اور حماس کے ساتھ مذاکرات تک محدود نہیں رہا، کیوں کہ حالیہ پاک بھارت جنگ کے دوران اسرائیل نے بھارت کی حمایت کی، جب کہ امریکہ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کروا دی….. یوں امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں بہتری آ گئی، مگر اسرائیل اور پاکستان کے درمیان موجود کشیدگی میں خاطر خواہ اضافہ ہو گیا…..اور سونے پر سہاگہ کہ پاک بھارت جنگ میں پاکستان کا پلڑہ بھاری رہا.

اسرائیل اور امریکہ کے تعلقات کس نہج پر کتنے کشیدہ و پیچیدہ ہوتے ہیں، اس کا فیصلہ وقت کے ہاتھوں میں ہے، تاہم فی الحال دونوں ملک عالمی خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں.

julia rana solicitors

پاکستان زندہ باد!
کشمیر زندہ باد!
فلسطین زندہ باد!

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply