ہمارا غلط اور صحیح ، چہ معنی دارد/ڈاکٹر نوید خالد تارڑ

مجھے معاف کیجیے گا یہ کہنے کے لیے لیکن ہم لوگ غلط صحیح کا فیصلہ کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے۔

ہمارے نزدیک بس وہی صحیح ہے جو ہمارے ذہنوں میں بھر دیا گیا ہے، باقی سب غلط ہے۔ ہم میں سے جو جس مذہب میں پیدا ہو گیا ، جس فرقے میں پیدا ہو گیا ، اس کے لیے وہی بالکل درست ہے۔

جو سنی ہے ، وہ ہمیشہ سنیوں کو درست سمجھے گا ، جو وہابی ہے وہ وہابیوں کو، شیعہ کے نزدیک شیعہ ہی صراطِ مستقیم پہ ہے۔
ہندو کے نزدیک اس کا دھرم سچا ہے، اسی طرح عیسائی ، احمدی ، یہودی۔۔۔ ۔
یہی بات سب پہ لاگو ہوتی ہے۔

ہمیں دوسرے مذاہب اس لیے برے لگتے ہیں کیونکہ بچپن سے ہمیں ان مذاہب کے متعلق جو کچھ بتایا گیا وہ برا بتایا گیا۔ ہم نے ان کے متعلق جو پڑھا ، برا پڑھا، ہمیں ان کا بدنما چہرہ دکھایا گیا۔ جب کہ ہمیں ہمارے مذہب کے متعلق جو بتایا گیا ، اچھا بتایا گیا۔ جو پڑھایا گیا ، اچھا پڑھایا گیا۔ اس لیے ہم انھیں گمراہ سمجھتے ہیں اور حیران ہوتے ہیں کہ وہ لوگ اتنے برے مذہب پہ عمل ہی کیوں کرتے ہیں۔

لیکن یہی سب تو ان لوگوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ انھیں ان کے مذہب کے متعلق اچھا بتایا اور پڑھایا جاتا ہے ، جب کہ باقی سب مذاہب کے متعلق برا بتایا اور پڑھایا جاتا ہے۔ وہ ہمیں بھی اسی حیرت سے دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ اس مذہب پہ عمل پیرا کیوں ہیں۔

بچپن سے یہ سب جانبدارانہ علم تھوڑا تھوڑا کر کے ہم سب کے ذہنوں میں بھر دیا جاتا ہے اور ہمارے نزدیک غلط صحیح کا پیمانہ بس وہی رہ جاتا ہے جو ہم نے دیکھا سنا ، جو ہمارے ذہنوں میں بھر دیا گیا۔

اگر آج میں پوچھوں کہ آپ جس مذہب یا جس فرقے پہ پیدا ہوئے ہیں ، کیا آپ نے وہ مذہب یا فرقہ بدلا؟
تو سو میں سے دو لوگ بھی ہاں میں جواب نہیں دے سکیں گے۔

میں آپ میں سے کسی کو غلط نہیں کہہ رہا ، صرف یہ سمجھا رہا ہوں کہ دوسروں کو غلط یا گمراہ سمجھنا چھوڑ دیجیے۔ وہ اپنے مطابق ٹھیک ہیں ، آپ کے مطابق ان کا ٹھیک ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا۔

اور اس سے پہلے کہ مجھ پہ گستاخی کا فتوٰی لگا دیا جائے ، میں بتاتا چلوں کہ میں الحمدللہ پکا مسلمان ہوں۔ خدا کی وحدانیت اور ختم نبوت پہ کامل ایمان رکھتا ہوں۔ میں بھی آپ سب جیسا ہی ہوں ، میں بھی مسلمان پیدا ہوا اور میرا کامل ایمان ہے کہ اسلام ہی سچا دین ہے۔ البتہ اتنا فرق آیا کہ میں فرقوں والے معاملے سے بہت عرصہ پہلے باہر نکل آیا تھا۔ میں کسی فرقے سے منسلک نہیں اور نہ ہی فرقوں کی بنیاد پہ کسی کو غلط یا صحیح سمجھتا ہوں۔

تو ایسے میں کسی کو صرف اس لیے مار دینا کہ اس کے گھرانے کا غلط اور صحیح ہمارے گھرانے کے غلط اور صحیح سے مختلف ہے۔ جائز ہو گا؟

ہمیں اپنا حق اور سچ چننے کا اختیار تو حاصل ہے لیکن دوسروں پہ اپنا حق اور سچ تھوپنے کا کوئی اختیار نہیں۔ ہمیں دوسروں کا حق اور سچ مختلف ہونے پہ ان کی جان لینے کا کوئی اختیار نہیں۔ ہم دوسروں کو گمراہ قرار دے سکتے ہیں ، ان کو غلط سمجھ سکتے ہیں لیکن اس بنیاد پہ انھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔

کل سرگودھا میں اس بوڑھے احمدی ڈاکٹر کو مار دیا گیا کیونکہ اس کا حق اور سچ ہمارے حق اور سچ سے مختلف تھا۔ وہ جس گھرانے میں پیدا ہوا، ان کے نزدیک جو ٹھیک تھا، وہ ہمارے نزدیک گمراہی تھا تو اسے مار دیا گیا۔

julia rana solicitors london

کون کس گھرانے میں پیدا ہو گا، یہ اختیار ہمارے پاس نہیں ہے نا۔ یہ تو خدا کا کام ہے، وہی خدا جس پہ ہمیں کامل یقین ہے۔ تو کیا یہ جائز ہے کہ کسی کو صرف اس لیے مار دیا جائے کہ وہ جس گھرانے میں پیدا ہوا ، ان کی تعلیمات ہم سے الگ ہیں، ان کے نزدیک صراطِ مستقیم کچھ اور ہے ؟؟؟

 

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply