اے اہل غزہ! کاش کہ ہم منافق نہ ہوتے /شہزاداحمدرضی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطیٰ کا طوفانی دورہ مکمل کرکے بالآخر واپس چلے گئے۔مجموعی طور پر 2000ارب ڈالرز کے معاہدے کیے گئے۔مشرق وسطیٰ کے صرف تین ممالک نے اپنا تن من دھن سب کچھ ٹرمپ حضور پر نچھاور کردیا۔ بیش قیمت تحائف الگ سے پیش کیے گئے۔ تحائف کے معاملے میں قطر سبقت لے گیا جس نے 400ملین ڈالرز کا طیارہ بطور تحفہ ٹرمپ مائی باپ کو پیش کیا۔ یعنی جہاں جہاں علیجاہ حضرت ٹرمپ کے قدم مبارک پڑ تے رہے، اربوں، کھربوں کی ویلیں ہوتی رہیں، سلامیاں پیش کی جاتی رہیں۔ ڈھول کی تاپ پر رقص ہوتا رہا۔ کہیں اونٹ، گھوڑے ناچتے رہے تو کہیں دوشیزائیاں بال کھولے استقبالیہ رقص پیش کرتی رہیں۔جشن کا سماں رہا۔ عرب حکمران بے صبری سے خود کو امریکہ کا وفادارثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ ٹرمپ حضور کی چاپلوسی میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی گئی۔سب کو ڈر تھا اگر حضور والا خوش نہ ہوئے تو ان بیچارے بدؤں کے ملکوں میں ”عرب سپرنگ“ شروع ہوجائے گی۔ان کا اقتدارلرز جائے گا بلکہ چھن جائے گا۔وہ یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ اب روشن خیال ہوچکے ہیں۔ اسلاف والی”دقیانوسیت“اب قصہء پارینہ بن چکی ہے۔ اب لبرلزم کا دور دورہ ہے۔
مسلم دنیا کے ان کرتا دھرتاؤں میں سے کیا کسی میں اتنی ہمت ہوسکی کہ وہ ٹرمپ سے صرف اتنی سی درخواست کرسکتا وہ صہیونی گینگ کو لگام ڈالیں اور اہل فلسطین کا خوں اتنا ارزاں نہ سمجھیں؟ افسوس کہ کسی میں اتنا کہنے کی ہمت نہیں ہوسکی۔ سب جانتے ہیں کہ دوسرے امریکی صدور کی طرح ٹرمپ بھی اسرائیلی مفادات کا بہت بڑا محافظ ہے۔دوسرے بعض اوقات منافقت سے کام لے لیتے تھے لیکن ٹرمپ اس معاملے میں کسی طرح کی منافقت کا قائل نہیں۔ وہ کھل کر صہیونی درندوں کا پشت بان ہے اور اہل غزہ کا قتل جائز سمجھتا ہے۔لیکن ہمارے عرب حکمرانوں کو اس سے کیا لینا دینا! یہ عرب تو زمانہ جاہلیت والوں عربوں سے بھی گئے گزرے ہیں۔ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں بھی کھڑے ہوکر خود کو صہیونی گروہ کا کارندہ یا محافظ ہی ثابت کیا اور ان بدؤں سے فرمائش کی کہ اسرائیل سے تعلقات بہتر بنائیں۔اہل عرب سرجھکائے ارشادات عالیہ سنتے رہے۔اقتدار کی بھی مجبوریاں ہوتی ہیں۔ اس سے ایک بات تو ثابت ہوگئی کہ مسلم دنیا کے کرتا دھرتاؤں کے پاس مال و زر کی کمی نہیں۔ اگر کمی ہے تو صرف حمیت اور غیرت کی۔ وہ دن دور نہیں جب یہ سب اسرائیل کو تسلیم کرلیں گے کیوں کہ اپنا اقتدار بچانے کے لیے یہ کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔ اورجہاں تک بات غزہ یا اس کے مظلوم باسیوں کی ہے تو ان کا پرسان حال کوئی نہیں۔بیچارے غزہ کے باسی ظلم و وحشت کی اندھیری رات کے مسافر ہیں۔ غضب خدا کا کہ عرب حکمرانوں میں ایک بھی غیرت مند نہیں تھا جو ٹرمپ پر زور دیتا کہ وہ صہیونیوں کی درندگی کو روکیں۔ آج کی دنیا کے چنگیز خان اور ہلاکو خان یہ صہیونی ہیں۔ ان وحشیوں کے ساتھ ساتھ وہ مسلمان بھی ذمہ دار ہیں جو امریکہ کے سامنے ہاتھ باندھے بے شرموں کی طرح کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ عرب کس منہ سے خود کو مسلم دنیا کے لیڈر کہتے ہیں؟ ہمیں گلہ ان جبہ پوشوں سے بھی ہے جو ان عربوں کا نام بغیر وضو کے لیتے بھی نہیں۔ ہم سب اہل غزہ کے مجرم ہیں۔ ہم بھی ان کے قتل و غارت میں اتنے ہی حصہ دار ہیں جتنے صہیونی درندے۔ ہم مردہ ہوچکے ہیں۔ہم اسلاف کے کارناموں پر صرف فخر کرسکتے ہیں لیکن ان جیسا بننا ہمیں پسند نہیں۔ شاید ہم منافق ہیں۔ غزہ دور حاضر کا رومن اکھاڑہ بن چکا ہے۔ ساری دنیا تماشائی ہے۔ کچھ تالیاں پیٹ رہے ہیں، کچھ بے بسی کے مارے سسکیاں لے رہے ہیں اور کچھ دیکھتے ہوئے بھی نہ دیکھنے کا ناٹک کررہے ہیں۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply