آپریشن بنیان المرصوص- کبڑے کو لات/اختر شہاب

1965کے بعد پاکستان نے اپنے ازلی دشمن انڈیا سے جنگ میں ایسی شاندار فتح مبین حاصل کی کہ ساری دنیا اس کی معترف ہے۔ آج چوبیس کروڑ عوام مل کر حقیقی معنوں میں ایک قوم بن چکے ہیں۔ پورے برصغیر، مڈل ایسٹ اور عرب و عجم کے مسلمان پاکستان کو تحسین نظر سے دیکھ رہے ہیں۔افواج پاکستان کو دنیا بھر میں وہ عزت ملی ہے جس سے فوج سالہا سال سے محروم تھی. آج ملک پاکستان سمیت دنیا بھر کے گوشے گوشے میں پاک فوج کا نام عزت و وقار کے ساتھ گونج رہا ہے۔

10 مئی سے پہلے پاکستان بظاہر معاشی طور پر کمزور، قرضدار، دہشت گردی کا شکار، اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا شکار اور انڈیا کے مقابلے میں ایک چھوٹی اور کمزور فوج کا حامل ایک ایسا ملک نظر آتا تھا جس کی دنیا بھر میں کوئی عزت نہ ہو ۔پہلگام کا سوچا سمجھا دہشت گردی کا واقعہ جو دراصل پاکستان پر حملے کے لئے جواز بنایا گیا تھا ۔۔ اور اس کے بعد پاکستان پر حملہ ۔۔۔۔ اصل میں انڈیا کی اس سوچ کا مظہر تھا کہ چونکہ پاکستان معاشی طور پر کمزور ہے اور دوسرے اس نے را کی مدد سے پاکستان میں دہشت گردی کرا کےپاکستان کے حالات کافی خراب کیے ہوئے ہیں اور اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی بظاہر پاکستان دشمن، پاکستانی چھائے ہوئے ہیں اس لئے پاکستان کو تباہ کرنا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہوگا اور دنیا کو بظاہر یوں لگ رہا تھا کہ انڈیا کے ایک ہی حملے سے پاکستان زمین بوس ہو جائے گا۔ لیکن اسے کیا علم تھا کہ پاکستان کے ساتھ خدا کی مدد ہمیشہ سے موجود ہے اور اس کا یہ حملہ پاکستان کے لیے جیسے کبڑے کو ایک لات کے برابر ہوگا۔

اپنے پروگرام کے مطابق 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب بھارت نے آزاد کشمیر کے ساتھ بہاولپور اور مریدکے پر بھی حملہ کر دیا۔ بھارت نے 12 فضائی اڈوں سے 80 طیارے فضا میں بھیجے جن میں 32 رافیل، 30 ایس یو۔30 (براہموس میزائلوں سے لیس) اور مختلف مگ طیارے شامل تھے۔ جواباً پاکستان نے 40 جے 10 سی اور دیگر چینی ساختہ لڑاکا طیارے فضا میں بھیج دئے۔جب آزاد جموں و کشمیر اور شیخوپورہ میں شہری تنصیبات کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا تو پاکستان نے ایکشن کا آغاز کیا، تین رافیل، ایک مگ 29 اور ایک سخوئی 30 کو مار گرایا۔ اس جھڑپ کے بعد بھارتی ایئر فورس اس قدر خوفزدہ ہوئی کہ ہر طرح کے لڑاکا طیارے گراؤنڈ کر دئیے گئے۔ پاک فضائیہ کی جانب سے چلایا جانے والا چینی ساختہ پی ایل 15 ،میزائل دشمن کے جہازوں کے لیے موت کا پروانہ ثابت ہوا

فضائی جنگ میں سخت ہزیمت کے 36 گھنٹوں کے بعد بھارت نے ایک بار پھر حملہ کیا اور اسرائیلی ساخت جدید اور مہنگے ہیروپ ڈرونز لاہور، گوجرانوالہ، چکوال، اٹک، راولپنڈی، بہاولپور، میانو چھور اور کراچی کی جانب بھیجے، پاکستانی فورسز نے تقریباً 80 ڈرونز کو کامیابی سے تباہ کر کے بھارت کا یہ حملہ بھی ناکام بنا دیا۔ گو جوابی کارروائی کے لیے پاکستان کا کیس مضبوط تر ہو چکا تھااور پاکستان کبھی بھی جواب دے سکتا تھا لیکن پاکستان کو آئی ایم ایف کے قرضے پر دستخط ہونے کا انتطار تھا جس کی منظوری 9 مئی کو ہوئی۔

جمعہ کی شب بھارت نے نورخان ایئر بیس راولپنڈی سمیت تین مقامات کو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ اب جنگی اصولوں کے مطابق جواب دینے کے تمام تقاضے پورے ہو چکے تھے سو ہفتہ کی صبح نماز فجر کے بعد آپریشن بنیان مرصوص کا آغاز کیا گیا، پاکستان کے حملے یوں تو پانچ گھنٹوں تک چلے لیکن در حقیقت پہلے گھنٹے میں ہی پاکستان نے بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر ددیا۔ 26 سے زائد ایسی فوجی تنصیبات کو تباہ کر دیا گیا جنہیں پاکستان پر حملوں کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ ایس 400 کی تباہی سے بھارت کی فضائی ڈھال ٹوٹ گئی، جس کی قیمت تقریباً 1.5 ارب ڈالر ہے۔براہموس میزائل کا ذخیرہ اڑا دیا گیا۔ ایک لحاظ سے پورا بھارت محاصرے میں آ گیا۔

کراچی کے ساحل کے قریب آنے والے بھارتی طیارہ بردار جہاز وکرانت کو پاک بحریہ نے پہلے ہی نشانے پر لے رکھا تھا، صرف ایک میزائل فائر ہونے کی دیر تھی کہ بیس ہزار کروڑ بھارتی روپوں کی مالیت والا یہ جہاز 1700 کے عملے، طیاروں اور میزائلوں سمیت سمندر میں غرق ہو جاتا۔ بھارت کو خدشہ لاحق ہو گیا تھا کہ پاکستان کے پاس چینی ساختہ ایئر کرافٹ کیریئر کلر ہائپرسونک میزائل بھی ہو سکتا ہے۔ سو وکرانت کو خاموشی سے میدان سے ہٹا لیا گیا۔

10مئی کو پاک فضائیہ کے سائبر ڈویژن کے کارنامے بھی پوری دنیا نے دیکھ لیے۔اس ڈویژن نے انڈیا کے پورے دفاعی نظام کو مفلوج کرکے رکھ دیا۔پاکستانی سائبر ماہرین نے بھارت کی درجنوں اہم ویب سائٹس کو ہیک کر لیا۔ 6 مئی کی رات سے10 مئی تک انڈین ایئر فورس کسی پاکستانی طیارے پر ایئر ٹو ایئر میزائل داغنا تو دور کسی طیارے کو ریڈار پر لاک بھی کرسکی؟ پاکستان نے انڈین طیارے ان کی سرزمین پر ہی گرائے تھے۔ رافیل یا دیگر انڈین طیارے ہمارا کوئی طیارہ نہ گرا سکے۔ بلک 400 کلومیٹر رینج والا ایس 400 بھی کچھ نہ کرسکا!!!

اس رات کے بعد سے جنوبی ایشیا میں ایک نیا سورج طلوع ہو چکا ہے۔ پاکستان کے جوابی وار نے صرف ایک ہی رات میں انڈیا کا تماشہ بنا دیا ہے ۔ 600 ارب کی معیشت والے ملک کو، پاکستان جیسے کمزور ملک کی فضائیہ اور ارمی نے ریورس گیئر لگا دیا ہے۔کوئی سوچ سکتا تھا کہ وہ ملک جس کے افراد ائی ٹی ایکسپرٹ سمجھے جاتے ہوں۔ وہ اپنے ملک کی ہی ائی ٹی کا دفاع نہ کر سکے اور پاکستان اس کے حساس تر ین اداروں کو ہیک کر کے من مرضی کی کاروائی کرجائے ۔ یہ سب کچھ پاکستان کی بھارت کے خلاف نہ صرف فضاء میں بلکہ زمینی سطح پر بھی کارکردگی کی وجہ سے ہوا ۔ پاکستان نے صرف جنگ نہیں جیتی، بلکہ دنیا کو یاد دلایا کہ وہ اب بھی اہم ہے۔ بھارت کی تمام ترقی، اور چوہدراہٹ بیکار ہے اور پاکستان اپنی معاشی بدحالی کے باوجود، آج بھی ایک قوت ہے۔

اپریشن بنیان مرصوص میں بھارت کی مکمل شکست کے بعد فیس سیونگ کے لیے امریکہ میدان میں آ گیا۔ گو اس سےقبل صدر ٹرمپ، اسے پاکستان اور بھارت کا آپس کا مسئلہ کہہ چکے تھے ۔ جس سے بھارت کو شہ مل رہی تھی لیکن اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بیک وقت متحرک تھے۔ یاد رہے امریکا اس سے قبل تک ہمیں اپنے اسسٹنٹ وزیر خارجہ کے ذریعے دھمکی کی زبان میں ڈیل کرتا تھا اور انڈیا کی واضح اور علانیہ طرف داری کیا کرتا تھا! مگر اس بار مدتوں بعدامریکا نے ہمیں برابری کی بنیاد پر ڈیل کیا۔

اس سب کا مطلب یہ ہوا ہم نے محض ایک جھڑپ نہیں جیتی۔ بلکہ 3 دن کے اندر اندر اس خطے میں طاقت کا توازن بدل کر رکھ دیا ہے ۔ خود کو ریجنل سپر طاقت باور کرانے والا انڈیا کے پاس اب کاغذ پر لکھے اعداد و شمار ہی رہ گئے ہیں اس جنگ سے علاقے میں بھارت کی بالا دستی خواب ہمیشہ کے لیے چکنا چور ہو گیا ہے ۔ پاکستان نے اپنی دفاعی و فوجی صلاحیت کا لوہا منوا کر ناقابل تسخیر ہونے کا عملی نمونہ پیش کر دیا ہے جو دوست ممالک اور بالخصوص مسلم ملکوں کے لیے بھی بہت طمانیت کا باعث ہے۔ چین کے جنگی ساز وسامان اور ٹیکنالوجی نے یورپ کے ساتھ روس اور اسرائیل کو بھی پچھاڑ دیا۔ اب تو صدر ٹرمپ نے خود تصدیق کر دی ہے پوری دنیا کو پتہ چل گیا کہ بھارت نے سیز فائر کے لیے بھیک مانگی۔

مورخ لکھے گا اک بھوکا ننگا ، قرضوں میں جکڑا ، اپنی اور پرائوں کی دشمنی کا شکار پاکستان ، زمین اور آسمان میں تاریخ لکھ گیاہے۔ اس حملے سے دنیا کے عسکری سرمایہ کاروں کو سمجھ آ گیا ہے کہ چین کے ہتھیاروں نے مغربی ٹیکنالوجی کے خلاف میدانِ جنگ میں خود کو کامیابی سے آزمایا لیا ہے۔چین کے ہتھیاروں کی سب سے بڑی مارکیٹنگ/پی آر مہم اس کے قریبی اتحادی پاکستان کے ذریعے ہوئی۔ یہ جنگ ایک لائیو ڈیمو بن گئی۔ یوں یہ امریکہ اور اسرائیل کے عالمی عسکری معاہدوں کے لیے براہِ راست خطرہ بن گیا ہے کیونکہ چین کی عسکری ٹیکنالوجی وائرل ہو گئی ہے ۔جب پاکستان نے چینی ساختہ PL15 میزائل اور JF-17 بلاک III لڑاکا طیارے استعمال کیے اور بھارتی رافیل طیارے مار گرائے، تو چینی دفاعی کمپنیوں کے اسٹاکس میں زبردست اضافہ ہوا! AVIC چنگدو ایئرکرافٹ کارپوریشن (JF-17 اور J10C بنانے والی کمپنی) کے حصص صرف دو دن میں 36٪ بڑھ گئے۔

اس جنگ میں اسرائیل نے بھارت کی حمایت کی اور بھارت نے اسرائیلی HAROP 77 ڈرون پاکستان کے خلاف استعمال کیے۔ یہ ڈرون نہ صرف میدانِ جنگ کا حصہ بنے بلکہ عالمی خبروں میں بھی چھا گئے۔ اس سے مسلم دنیا، خصوصاً کشمیر اور پاکستان میں اسرائیل مخالف جذبات کو ہوا ملی۔ یوں ایک بھارت بمقابلہ پاکستان کی جنگ “ہندو-یہودی اتحاد”بمقابلہ مسلم دنیا بن گئی۔ جنگ کے اس نتیجے کے اثرات پاکستان اور بھارت تک محدود نہیں رہیں گے، خطے اور عالمی سطح بھی نظر آئیں گے۔آنے والے دنوں میں اس مختصر جنگ پر بہت کچھ لکھا جائے گا، دنیا ابھی سے پاکستان اور چین کے اشتراک سے ہوئی اس جنگ کے نتائج سے ورطۂ حیرت میں ہے، اس موضوع پر مغربی اور عرب مبصرین کے مطابق تمام بڑی دنیا کے تزویراتی امور کے ماہرین انگشت بدنداں ہیں اور ابھی اس پر اور بھی بہت کچھ کہا اور سنا جائے گا۔۔

julia rana solicitors

یوں سمجھ لیں کہ یہ تاریخ کا وہ نادر موقع ہے جس میں نہ صرف پاکستان کو سنبھلنے کا وقت ملا ہے بلکہ انڈیا نے پاکستان پر حملہ کر کے خود اپنے پیروں پر کلہاڑی مار لی ہے جس کے نتیجے میں دنیا میں اس کی ساکھ خراب ہو کر وہ اب بہت تیزی سے ٹوٹنے کی راہ کی طرف چل نکلا ہے۔ان شا اللہ ۔۔جبکہ پاکستان کو ایک سنہری موقع ملا ہے اور ا سے وقت مل گیا ہے کہ نہ صرف اپنی گرتی ہوئی معیشت کو نہ صرف سنبھال لے بلکہ آئندہ کے لیے بہتر پلاننگ کر سکے۔ کاش ہم اس موقع سے سبق حاصل کر کے ایک بات پھر سے خود کو دنیا کی نظر میں ایک خود مختار اور باوقارقوم کے طور پر منوا سکیں ۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply