ارسطو نے ہمیں حیوان ناطق کہا، یعنی وہ جاندار جو منطق رکھتا ہے، عقل و شعور رکھتا ہے، یہی ارسطو ہمیں حیوان سیاست بھی کہتے ہیں۔ منطق پہ بات اور بحث مباحثہ چونکہ آسان ہے اسی لئے ہم نے فقط اسی قول پہ اکتفا کر رکھا ہے جبکہ سیاست ایک گھمبیر معاملہ ہے تو ہم ایسے پیچیدہ اقوال کا زیادہ پرچار نہیں کرتے۔ یہ ضمنی نکتہ بھی حیران کن ہے کہ منطق اور سیاست کی بابت انسانوں کیلئے انہوں نے حیوان کا لفظ استعمال کیا، اگرچہ تھوڑا غور کیا جائے تو یونانی زبان کا لفظ zoion اور لاطینی میں zoon کا معنی صرف جانور یا حیوان نہیں ہے، اس کا معنی زندگی بھی ہے، زویا جو خواتین کا نام ہے اس کی جڑیں بھی اسی لفظ سے نکلتی ہیں، یعنی زندگی، ہم ارسطو کی ان اصطلاحات کا ترجمہ اگر بہتر شگفتگی کے ساتھ کرنا چاہیں تو کہہ سکتے ہیں کہ صحیح معنوں میں زندہ وہی ہے جو منطق رکھتا ہے یا پھر دوسرے قول میں زندہ وہی ہے جو سیاست کو سمجھتا ہے اور سیاست کرتا ہے ۔
سیاست کا شعور رکھنے والے افراد بہت کم ہیں، سیاستدانوں میں تو نہ ہونے کے برابر ہیں، دعویداروں کی اکثریت بس سرکس کے گھوڑے ہیں، جو ذاتی مفاد اور طاقت کیلئے اس شعبے کو اپناتے ہیں، سیاست کیلئے ایک اخلاقی اور جراتمندانہ شعور درکار ہے، اخلاقی اس لئے کہ سیاست ارسطو کی نظر میں ایتھیکس کی شاخ ہے ، سیاست دان کا اخلاقی وجود سماج میں موجود شر اور خیر کو بخوبی سمجھتا ہو اور ان میں بغیر کسی تعصب کے تفریق کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو، اور جراتمندانہ اس لئے کہ وہ اپنی فکر پر پوری تن دہی سے کھڑا ہو، تمام مشکلات کو خندہ پیشانی سے قبول کرے، حتی کہ ضرورت کے وقت اپنی جان کی پرواہ بھی نہ کرے، چونکہ سیاست کے ساتھ zoion یعنی زندگی جڑی ہے تو پھر سیاستدان کیلئے اس کی سیاسی فکر زندگی سے زیادہ اہم ہونی چاہئے، یہ بحث ثانوی ہو جائے گی کہ آپ سوشلسٹ ہیں یا کیپیٹلسٹ، مذہبی فکر کے علمبردار ہیں یا غیر مذہبی فکر پالتے ہیں، آپ اچھے سیاست دان تبھی ہیں جب آپ کا وجود اخلاق اور بہادری سے تعبیر ہو ۔
اب جان دینے کی بات چل پڑی ہے تو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جان دینا اور جان لینا، یہ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، جیسے جنگ میں کوئی سپاہی صرف جان دینے کیلئے نہیں کود پڑتا بلکہ اس کا پہلا مقصد سامنے کھڑے دشمن کی جان لینا ہوتا ہے، کیونکہ اس کی بقا اسی میں ہے کہ دشمن کی جان لی جائے، لیکن یہ بات وہ بخوبی جانتا ہے کہ اس جنگ میں اس کی اپنی جان بھی جا سکتی ہے، اور وہ اس کیلئے تیار رہتا ہے، اسی طرح حقیقی سیاستدان اپنی سیاسی فکر کیلئے صرف جان دینے تک محدود نہیں رہتا وہ جان لینے کی جرآت بھی رکھتا ہے، اگر بات صرف جان لینے تک محدود ہو تو وہ سیاستدان نہیں بلکہ جلاد ہے جو صرف حکم کی تعمیل کر رہا ہے، نوکری کر رہا ہے، جلاد اپنی جان کبھی نہیں دینا چاہتا وہ صرف جان لے سکتا ہے، یہ جلاد اب سیاستدان نہیں ہے، سیاستدان وہ ہے جس نے جلاد کو دشمن کی جان لینے کا حکم دیا ہے، اور یہ سیاستدان جانتا ہے کہ کل کو اگر پانسا پلٹا تو اس کی اپنی جان بھی جا سکتی ہے مگر وہ اس کیلئے تیار ہے۔ اب یہی اصول ایک فرد سے آگے کسی گروہ، قوم یا ملک پر بھی لاگو کیا جا سکتا ہے۔
سیاست کے اس ظلم و جبر کو پولیٹیکل ایکٹ کا نام دیا جاتا ہے ، تاریخ کا دھارا بدلنے کیلئے اگر انسانی جانوں کی قربانی درکار ہو تو سیاستدان اس سے گریز نہیں کرے گا، اگر یہ بات معلوم ہو کہ کسی بڑی تبدیلی کا وارد ہونا لازم ٹھہرا ہے، اور اس ناگزیر تبدیلی کیلئے انسانی خون درکار ہے تو ایسے میں امن کا درس دینے والا ایک رحمدل شخص تو ہو سکتا ہے، اچھا ایڈمنسٹریٹر بھی ہو سکتا ہے لیکن سیاستدان نہیں ہو سکتا، کیونکہ اس کے نزدیک انسانی جانوں کا ضیاع ٹریجڈی نہیں فقط بدقسمتی ہے، یہی پولیٹیکل ایکٹ ہے اور اس ایکٹ پر دنیا نے کبھی کسی کو سزا نہیں سنائی ، کیمونسٹوں نے لاکھوں انسانوں کو جان سے مارا ، کسی ایک کو بھی آج تک سزا نہیں ہوئی، امریکہ نے افغانستان ، شام، صومالیہ ، لیبیا میں خون کی ہولی کھیلی، کسی کو مجرم نہیں ٹھہرایا گیا کہ یہ پولیٹکل ایکٹ تھا، صدر بش اور ٹونی بلیئر نے جھوٹا الزام لگا کر عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، کسی پر فرد جرم عائد نہ ہوئی ۔
قدیم مصر، یونان، روم، منگول، نپولین یہ تمام لوگ، اقوام، ممالک اور سلطنتیں اسی پولیٹیکل ایکٹ کے تحت انسانی جانوں کا قتل عام کرتی رہیں، مگر یہ سب آج بڑے لوگ ، بڑے ممالک اور بڑی سلطنتیں کہلاتی ہیں، البتہ ہٹلر کی ٹیم پر فرد جرم عائد کی گئی وہ بھی فقط اس لئے کہ اس وقت امریکہ پورے یورپ کو گھٹنوں پہ لانا چاہتا تھا ، ٹریڈیشنل کلب سے اقتدار چھین کر لبرل کلب کو سونپا جا رہا تھا ، اسی لئے یورپ کو قابو کرنا ضروری تھا، امریکہ کی یہ دلچسپی نہ ہوتی تو ممکن نہیں تھا کہ ہٹلر کے پولیٹیکل ایکٹ کو جرم قرار دیا جاتا، ثبوت کے طور پر یہ نکتہ اٹھایا جا سکتا ہے کہ 1942 ء تک ہٹلر کے ہاتھوں قتل ہونے والے یہودیوں بارے ٹھٹھے اڑائے جاتے، اسے مذاق اور جھوٹ سمجھا جاتا، حتی کہ مغربی یہودی اسے فقط پالش یا یوکرینی باشندے کہہ کر سنجیدہ نہ لیتے، البتہ 1943 ء میں جب یہ نظر آنے لگا کہ ہٹلر کو شکست ہو سکتی ہے اور یورپ اس وقت عسکری اور معاشی طور پر کمزور ہے تو امریکیوں نے موقع غنیمت جانتے ہوئے ان اقوام پر اپنا عسکری اور معاشی تسلط بڑھانے کیلئے مقامی ٹریڈیشنل کلب کے خلاف ہر طرف سے حملہ کیا، انہیں حملوں میں یہودیوں کے بہیمانہ قتل کو دنیا کے سامنے کیش کروایا گیا، وگرنہ اس سے قبل سب نے منہ میں پانی ڈال رکھا تھا ۔
کیمونسٹ تب تک دنیا پہ راج کرتے رہے جب تک پولیٹیکل ایکٹ پہ کاربند رہے، جونہی رحمدلی کا مادہ پنپنا شروع ہوا تو وہ اپنی طاقت کھوتے چلے گئے، جس وقت سوویت یونین میں قتل و غارت کا طوفان تھمنا شروع ہوا، اسی دور میں امریکہ نے اس پولیٹیکل ایکٹ کو سختی سے لاگو کرنا شروع کر دیا اور کرہ ارض پہ کئی بے بنیاد جنگوں میں خونریزی کی، نتیجے میں وہ دنیا کی واحد سپر پاور بن بیٹھا۔ ہم آئے روز برٹرینڈ رسل اور دیگر شرفاء کے اقوال نقل کرتے نہیں تھکتے، وہ اقوال جن میں امن اور محبت کی بات کی گئی، مگر ایسا کیوں ہے کہ برٹرینڈ رسل کی زندگی میں ہی برطانیہ اور فرانس بالترتیب ایشیاء اور افریقہ میں بدترین کالونائیزیشن پہ کاربند تھے، معزز قارئین کو اگر اس کالونائیزیشن کے خلاف برٹرینڈ رسل کا کوئی قولِ زریں معلوم ہوتو خاکسار تک بھی پہنچایا جائے، ایسا اس لئے ہے کہ یہ تمام بڑے لوگ، رسل ہوں یا ہینری کسنجر ، جانتے تھے کہ پولیٹیکل ایکٹ جیسے بہیمانہ اقدام ناگزیر ہیں ، آپ نہیں کھائیں گے تو آپ کو کھایا جائے گا، انسانی جانیں ٹریجڈی نہیں فقط بدقسمتی ہے جس پہ ماتم کیا جا سکتا ہے، آرٹ تخلیق کیا جا سکتا ہے، مگر دوسری طرف پولیٹیکل ایکٹ سے انحراف پر جو قیمت ادا کرنی پڑے گی وہ اس بدقسمتی سے آگے بڑھ کر ٹریجڈی کی صورت اختیار کر سکتی ہے، اس ایکٹ کے کرنے یا نہ کرنے کے بیچ میں تناسب کی گنتی کرنا شاید ممکن نہ ہو، یہ سب ہمیں پسند ہو یا نہ ہو لیکن یہ ہے اور ایسا ہی ہے ۔
اس وقت دنیا میں انہی طاقتوں کو سنجیدہ لیا جا رہا ہے جو پولیٹیکل ایکٹ پہ گامزن ہیں، یعنی کہ وہ جو جان دے بھی سکتے ہیں اور جان لے بھی سکتے ہیں، چاہے وہ کوئی ملک ہو، قوم ہو یا پھر کوئی سیاستدان ہو۔ امریکہ، روس، چین، ترکی وغیرہ اس وقت بڑی طاقتیں صرف اس لئے نہیں کہ یہ معاشی طور پر مضبوط ہیں بلکہ اس لئے کہ یہ پولیٹیکل ایکٹ کرتے وقت کسی بھی ہچکچاہٹ کا شکار نہ ہوں گے ، ورنہ تو انڈیا کی معیشت روس اور ترکی سے بڑی ہے لیکن انڈیا کو عالمی سطح پر وہ مقام حاصل نہیں، اور اسی مقام کو حاصل کرنے کی تگ و دو میں مودی سرکار نے جنگ کا راگ الاپنا شروع کیا ہے کہ اے دنیا والو ہمیں بھی سنجیدہ لو، لیکن سنجیدہ مسئلہ یہ ہے کہ مودی جی جان لے تو سکتے ہیں مگر جان دینے کی ان میں جرآت نہیں ہے ، ایسے میں ان کی پوزیشن فقط اس جلاد والی ہے جس کا اوپر ذکر ہوا ہے، انہیں سیاستدان نہیں کہا جا سکتا۔۔
ہم لوگوں پر یہ راز اسی جنگ کی بدولت افشاں ہوا کہ پاکستانی قوم میں سیاسی شعور ہندوستانیوں سے کہیں زیادہ ہے، نجانے کیوں ڈاکٹر تھرور جیسے دانشوروں کے ہوتے ہوئے بھی ہندوستانی بیانیہ فقط بالی وڈ کی بھڑکوں سے آگے نہ بڑھ سکا، مودی جی ہوں، جاوید اختر یا دیگر سیاسی و غیر سیاسی لوگوں نے صرف ہم پہ نہیں بلکہ دنیا پر اپنی سطحیت کو ننگا کیا ہے ، اتنے بڑے ملک کیلئے یہ ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ پاکستانیوں نے ہر پلیٹ فارم پر مسلسل یہ باور کرایا کہ ہم امن چاہتے ہیں اور جنگ کے حق میں نہیں لیکن ساتھ یہ اشارہ بھی دیتے رہے کہ ہماری امن کی اس خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے ، لیکن اسے کمزوری سے تعبیر کیا گیا اور جنگ چھیڑ دی گئی، اور مودی سرکار کی توقعات کے برعکس اس قدر ٹھوس ردعمل دیا گیا کہ ان کی اگلی سرکار اب کھٹائی میں پڑ گئی ہے، اس پورے سانحے میں پاکستانی ہر لحاظ سے سرخرو ہوئے ہیں، اور دنیا ہمیں ایک ذمہ دار، بہادر، امن پسند اور سنجیدہ قوم کے طور پر دیکھ رہی ہے، اجتماعی رائے ہمارے حق میں بدلی ہے ۔ ہماری یہ سیاسی اور سماجی بلوغت بھی دراصل انہی اندرونی جنگوں کی وجہ سے ہے جو ہم اپنے ملک میں کئی دہائیوں سے دیکھتے آئے ہیں، گویا کہ ” امن کا تسلسل انسان کو بالغ نہیں ہونے دیتا ”
ایک ذیلی نکتہ :
لبرل ازم میں انسان کی واحد شناخت انفرادیت ہے، اسی لئے ایک سچا اور گہرا لبرل حب الوطنی جیسے جذبات کو زیادہ اہمیت نہیں دیتا، یہی وجہ ہے کہ لبرل ازم کے بیانیے میں ایک اصطلاح، بین الاقوامی ، بار بار پڑھنے سننے کو ملتی ہے کہ کسی بھی چیز کو قومیت تک محدود نہیں رہنا چاہئے، ایڈم سمتھ مسلسل بین الاقوامی تجارت کا ذکر اسی لئے کرتے ہیں کہ بات قومیت سے بڑھ کر ہونی چاہئے کہ ان کے نزدیک قوم یا دوسرے الفاظ میں وطن کچھ زیادہ اہمیت نہیں رکھتے، فرد کو حق حاصل ہونا چاہئے کہ وہ کسی بھی فکری یا جغرافیائی دائروں سے باہر جا کر اپنی صلاحتیں منوا سکے، یہ بات اپنی اصل میں اتنی غلط بھی نہیں ہے لیکن اس سے قومی یا ملکی محبت میں کمی ضرور آتی ہے، ہمارے ہاں لبرل ازم اپنا ایک سطحی سا عکس تو ضرور رکھتا ہے لیکن اپنی اصل میں لبرل ازم یہاں موجود نہیں، حالیہ جنگ نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ ہمارے ہاں کے اکثر لبرل کہلائے جانے والے افراد وطن سے محبت کا جذبہ رکھتے ہیں، بس ہمارے ہاں کچھ سماجی اور مذہبی بیانیوں کی کرختگی کے ردعمل میں وہ خود کو لبرل کہلوانا پسند کرتے ہیں وگرنہ لبرل ازم کی امرت دھارا وہ اپنے حلق میں نہیں انڈیل پائے اور شاید وہ خود بھی اس حقیقت سے آشنا نہیں ، دوسری طرف محب وطن ہونے کیلئے اس انفرادیت سے آگے بڑھ کر مذید بھی کچھ شناختیں درکار ہیں جیسے قومی شناخت، قبائلی یا مذہبی شناخت وغیرہ، اسی لئے ایک سچا لبرل اور ایک سچا محب وطن فکری طور پر ایک دوسرے کے زیادہ قریب نہیں ہوتے۔
( امن پسندی اور صلح جوئی انسان کے بنیادی اوصاف ہیں جن پہ کاربند رہنے کی ہر ممکن کوشش کرتے رہنا چاہئے، لیکن یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہے، دوسرا رخ چونکہ کٹھن اور غیر ملائم ہے تو یہ رخ کوئی دکھانا نہیں چاہتا، یہ مضمون اسی دوسرے رخ کو دکھانے کی طالبعلمانہ کوشش ہے، قارئین کا متفق ہونا ضروری نہیں)
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں