مٹی نے راز افشا کر دیا /محمد ثاقب

ضلع راولپنڈی کے ایک چھوٹے سے گاؤں پنڈ ملکاں (موجودہ محفوظ آباد) کا تذکرہ کرتے ہیں۔ اس گاؤں میں چھ مہینے پہلے دفن ہونے والے ایک نوجوان کی لاش کو دوسری جگہ دفن کرنے کا فیصلہ ہوتا ہے۔ نوجوان کے بڑے بھائی محمد معروف، گاؤں کے لوگوں کے ساتھ مل کر قبر کھودتے ہیں۔ جون کا مہینہ اور سخت گرمی۔ اس بات کے قوی امکانات تھے کہ چھ مہینے پہلے دفن ہوئی لاش سے بدبو آ رہی ہو گی۔ لاش نکالی جاتی ہے اور ساتھ ہی دل کو چھو لینے والی خوشبو وہاں پھیل جاتی ہے۔ لاش کے جسم سے تازہ خون ٹپک رہا ہوتا ہے۔ محمد معروف کہتے ہیں کہ جب میرے بھائی کو دفنایا گیا تو اس نے تازہ شیو کی ہوئی تھی اور آج قبر سے چھ مہینے کے بعد نکالے جانے پر اس کے چہرے پر تقریباً تین انچ کی داڑھی تھی۔ ہم بات کر رہے ہیں پاکستان کے شیر، لانس نائیک محفوظ شہید کی، جن کی بہادری پر انہیں نشانِ حیدر دیا گیا۔

جی ہاں شہید زندہ ہوتا ہے

قرآن مجید میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔

ترجمہ: “اور اللہ کی راہ میں قتل ہونے والوں کو تم مردہ نہ سمجھو۔ بلکہ وہ اپنے پروردگار کے ہاں زندہ ہیں اور انہیں روزی دی جاتی

ہے۔”

(آل عمران: 169)

ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والے محفوظؒ بچپن سے ہی محنتی، بہادر اور فرض شناس تھے۔ اُنہوں نے وطن کی خدمت کا خواب دیکھا اور نوجوانی میں ہی پاک فوج میں شامل ہو گئے۔1971

کی پاک بھارت جنگ میں لانس نائیک محفوظ شہیدؒ کی کمپنی “اے” کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ دشمن کے قبضے سے واہگہ کے قریب پُل کنجری کا اہم محاذ چھین لے۔ یہ ایک انتہائی خطرناک مشن تھا کیونکہ بھارتی فوج نے اس علاقے کو مضبوط دفاعی مورچوں سے محفوظ بنایا ہوا تھا۔

17اور 18 دسمبر 1971 کی رات کو جب حملہ شروع ہوا تو دشمن کی طرف سے شدید گولہ باری اور مشین گنوں کی بارش کا سامنا تھا۔ محفوظؒ کی مشین گن دشمن کے گولے کا نشانہ بن کر تباہ ہو گئی اور ان کی دونوں ٹانگیں شدید زخمی ہو گئیں۔ مگر محفوظؒ نے نہ ہار مانی، نہ پیچھے ہٹے۔ اپنے زخموں کی پرواہ کیے بغیر وہ رینگتے ہوئے دشمن کی ایک خطرناک بنکر کی طرف بڑھنے لگے جہاں سے پاکستانی فوج پر سب سے زیادہ فائر ہو رہا تھا۔

زخمی حالت میں، بغیر کسی ہتھیار کے، محفوظ شہیدؒ نے بنکر میں داخل ہو کر ایک بھارتی فوجی کو اپنے ہاتھوں سے مار ڈالا۔

بھارتی فوج کے لیفٹیننٹ کرنل پوری نے بعد میں لانس نائیک محفوظ شہیدؒ کی غیرمعمولی دلیری کو تسلیم کرتے ہوئے کہا

“اپنی پوری سروس میں میں نے کبھی اتنا بہادر سپاہی نہیں دیکھا۔ اگر یہ میرے دستے میں ہوتا تو میں اسے اپنے ملک کے سب سے بڑے اعزاز کے لیے نامزد کرتا۔”

لانس نائیک محمد محفوظ شہیدؒ کی بے مثال قربانی پر حکومتِ پاکستان نے 23 مارچ 1972 کو انہیں ملک کا سب سے بڑا

فوجی اعزاز نشانِ حیدر عطا کیا۔

آج محفوظ شہید کو یاد کر کے دراصل ہزاروں شہداء کی قربانیوں کو یاد کر رہا ہوں۔ مسلمان تو شہادت کا شیدائی ہوتا ہے۔ اور مودی سرکار یہ بات بھول گئی ہے۔ مسلمان تو کبھی تعداد کے بل بوتے پر نہیں لڑتا۔ اور پچھلے دو ہفتے تو پاکستان کے لیے رحمت بن گئے۔ پوری قوم کی آواز ایک تھی۔ میں نے ان دو ہفتوں میں کسی پاکستانی کی آنکھوں میں خوف نہیں دیکھا۔

دشمن کے ایکشن کے اندر ہماری بہتری پر علامہ اقبال نے کیا خوب کہا

ہے عیاں یورشِ تاتار کے افسانے سے

کعبے کو پاسباں مل گئے صنم خانے سے

مولانا مسعود اظہر کی فیملی کی شہادت کے بعد لوگ مبارک باد دے رہے تھے کہ اللہ نے آپ لوگوں کو شہادت کا عظیم تحفہ دیا۔

اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔۔

“جنت میں داخل ہونے والا کوئی شخص دنیا میں واپس آنے کی خواہش نہیں کرے گا مگر ایک شہید۔ وہ چاہے گا کہ دنیا میں واپس آ کر دس مرتبہ شہید ہو جائے، کیونکہ وہ اس عزت کو دیکھتا ہے۔” (صحیح مسلم)

ا ے راہ حق کے شہیدو

وفا کی تصویرو

تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں

پھر اس کے بعد قرضوں میں ڈوبی ہوئی قوم کا اسکل سیٹ دنیا کو حیران کر گیا۔

جی ہاں، صرف نعروں اور دعاؤں سے جنگ جیتی جاتی تو پوری دنیا میں مسلمان مار نہ کھا رہے ہوتے۔ پاکستانی فوج کی صلاحیت ہی ہمیں باقی اسلامی ممالک سے منفرد بناتی ہے۔ پاک فضائیہ کے شاہینوں کی مہارت کا تذکرہ تو پوری دنیا میں کیا جا رہا ہے۔ ہم وہ لوگ ہیں جو شوق سے اپنے بچوں کو محاذ پر بھیجتے ہیں۔

پاکستان آرمی کے جذبے کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ انڈیا میں کسی کو سزا دینی ہو تو اسے سیاچن کے بارڈر پر بھیجتے ہیں۔

پاک آرمی میں لوگ اپنی رضامندی سے اس مشکل محاذ پر جاتے ہیں۔

ہے جذبہء جنوں ایسا کہ سمجھو روحِ جبریلؑ ہے

ہے ذوقِ آتشیں ایسا کہ دل میں طورؑ کی محفل ہے

کیا خوفِ دشمنوں کا ہے، ہم فوجی ہیں، جانباز ہیں

سر کٹوا دیں، مسکرائیں، یہی ہیں ہم، یہی انداز ہیں

(حفیظ جالندھریؔ)

وطن کی قسم

وطن کی قسم، ہمیں خونِ شہداء کی قیمت یاد رہے گی

ہم نے خود کو وطن کے لیے پیش کیا ہے

ہمارے دلوں میں وطن کا جوش،

نہ ختم ہو گا، نہ کم ہو گا

یہ سرزمین ہماری پہچان ہے،

ہمیں اپنی زمین پر فخر ہے۔

(اختر شیرانیؔ)

وطن کی مٹی گواہ رہنا، گواہ رہنا،

وطن کی مٹی عظیم ہے تو، عظیم تر ہم بنا رہے ہیں، گواہ رہنا۔

اور آخر میں مودی سرکار کے لیے یہ پیغام کہ خوابوں کی دنیا جسے مائنڈ سائنس میں ہیلو سینیشن کہا جاتا ہے، اُس سے باہر نکلیں۔ پاکستان کا ہر شہری اپنے ملک کی حفاظت کے لیے فولادی دیوار” البنیان المرصوص” ہے۔

پاکستان زندہ باد پاک فوج پائندہ باد

Facebook Comments

محمد ثاقب
محمد ثاقب ذہنی صحت کے ماہر کنسلٹنٹ ہیں جو ہپناتھیراپی، لیڈرشپ بلڈنگ، مائنڈفلنس اور جذباتی ذہانت (ایموشنل انٹیلیجنس) کے شعبوں میں گذشتہ دس برس سے زائد عرصہ سے کام کررہے ہیں۔ آپ کارپوریٹ ٹرینر، کے علاوہ تحقیق و تالیف سے بھی وابستہ ہیں اور مائنڈسائنس کی روشنی میں پاکستانی شخصیات کی کامیابی کی کہانیوں کو دستاویزی شکل دے رہے ہیں۔ معروف کالم نگار اور میزبان جاوید چودھری کی ٹرینرز ٹیم کا بھی حصہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply