فقر کا شہزادہ /کامریڈ فاروق بلوچ

وقت سے ماوراء شخصیات:
تاریخ کے اوراق پلٹتے جائیے، ہر صفحے پر ایک نام کندہ ملے گا جو اپنے عہد سے آگے جیا۔ کچھ لوگ اپنے وقت کے ہوتے ہیں، اور کچھ وقت اُن کے ہونے سے معتبر ہوتا ہے۔ ایسی ہی ایک شخصیت تھی لیو ٹالسٹائی— ایک درویش صفت ادیب، جو روس کے شاہی ایوانوں سے اٹھا، مگر اپنے قدموں سے فقیری کو عزت دے گیا۔

کتاب سے روح تک:
میں اُسے اُس دن سے جانتا ہوں جس دن میں نے پہلی بار War and Peace کا ایک باب پڑھا۔ یہ جان پہچان بھی عجب تھی؛ ایک ایسا تعارف جو کتاب کے صفحے سے روح میں منتقل ہو جائے۔ جیسے صحرا میں کوئی مسافر پانی کی ایک بوند کو نہ صرف دیکھے، بلکہ محسوس بھی کرے۔

زوال آمادہ اقدار کے عہد میں ایک درویش:
یہ وہ وقت تھا جب علم تخت پر بیٹھا تھا اور ضمیر قید تھا۔ جب انسانوں کے قد گھٹ کر دیوارِ گریہ سے چھوٹے ہو چکے تھے، اور عظمت محض بینک بیلنس کا دوسرا نام بن چکی تھی۔ تب روس میں ایک شخص ایسا اٹھا جس نے زندگی کو لکھا نہیں، جیا۔

شاہی سے فقیری تک:
وہ رئیس تھا، مگر شاہی سے دستبردار ہوا۔
وہ لکھاری تھا، مگر خاموشی کو فصاحت بخشا۔
وہ زمیندار تھا، مگر زمین پر ایسے چلا کہ زمین اس پر فخر کرے۔

دھندلا عکس و پیغامِ واضح:
مجھے اس کی ایک تصویر یاد ہے۔ ایک پرانی کتاب کے صفحے پر چھپی، دھندلے سیاہی کے لمس میں لپٹی ہوئی تصویر۔ لمبی سفید داڑھی، آنکھوں میں گہرے کنویں جیسا سکوت، اور لباس میں وہ سادگی جو بادشاہوں کو شرمندہ کر دے۔ اُس وقت مجھے لگا کہ یہ تصویر نہیں، فقر کی تجسیم ہے۔

سخی فقر ٹالسٹائی کا انتخاب:
کہتے ہیں فقر بھی دو طرح کا ہوتا ہے؛ ایک وہ جو سوالی بناتا ہے، اور ایک وہ جو سخی۔ ٹالسٹائی نے اپنے فقر سے خدا کا قرب خریدا۔ اُس نے اپنی جاگیریں خیرات کیں، اپنی آسائشیں ترک کیں، اور اس راہ کو چنا جسے ہم نے صرف کتابوں میں پڑھا، مگر اپنایا نہیں۔ یہ وہی راستہ ہے جس پر چل کر سقراط زہر کا پیالہ پیتا ہے، منصور دار پہ چڑھتا ہے، اور ٹالسٹائی تنہائی اختیار کرتا ہے۔

اخلاقی تحریریں اور فکری بلندی:
اس کی تحریریں محض ادبی نمونے نہیں، اخلاقی اعلامیے تھیں۔ وہ لکھتا تھا تو تہذیب کے رخ پر آئینہ رکھ دیتا تھا۔ “Don’t tell me about your religion; let me see your religion in your actions”— یہ جملہ کسی یونیورسٹی کی تحقیق کا نتیجہ نہیں، بلکہ تجربات کی بھٹی میں تپ کر نکلنے والی سچائی ہے۔

مذہب، عمل اور انسانیت:
وہ مذہب کو فقہی مسائل سے بلند جانتا تھا، اور نجات کو انسانی عمل سے وابستہ سمجھتا تھا۔ اُس کے نزدیک خدا تک پہنچنے کے راستے مسجد یا کلیسا سے نہیں، بھوکوں کے پیٹ، یتیموں کے آنسو اور سچائی کے کٹھن راستوں سے گزرتے تھے۔

جوابات میں حکمت:
کوئی اس سے پوچھتا: “کیا تم سوشلزم کے حامی ہو؟”
وہ کہتا: “نہیں، میں انسانیت کا پرستار ہوں۔”

کسی نے کہا: “تم نے سب کچھ چھوڑ دیا؟”
اس نے مسکرا کر کہا: “سب کچھ چھوڑنے کے بعد جو کچھ پایا ہے، وہ تمہیں کیا معلوم؟”

گاندھی سے منڈیلا تک:
تاریخ نے اُسے فلسفی کہا، ادب نے اُسے استاد مانا، اور انسانیت نے اُسے چراغِ راہ سمجھا۔
اس کی تحریر نے گاندھی کو جلایا، اس کی فکری تپش نے نیلسن منڈیلا کے عزائم کو گرمی دی، اور اس کی فقیرانہ چال نے مارٹن لوتھر کنگ کو ثابت قدمی سکھائی۔
ایسے لوگ مر کر نہیں مرتے، ان کی میت نہیں دفنائی جاتی، ان کے افکار زمین میں اگائے جاتے ہیں۔

فقر کا شاہ:
یونانی کہاوت ہے: “جسے دیوتا پیار کرتے ہیں، اُسے فقر عطا کرتے ہیں۔”
اور روس کی سرزمین پر لیو ٹالسٹائی اُن کا سب سے پیارا بندہ تھا۔
فقیر ہو کر وہ بادشاہ بنا، اور بادشاہوں کو وہی سکھا گیا جو خدائی سلسلوں میں شامل ہوتا ہے: خودسپردگی، سادگی، اور سچائی۔

julia rana solicitors london

آخری بات:
وہ مرا نہیں۔
وہ زندگی سے پردہ کر گیا، مگر وقت کے ماتھے پر اپنے نام کی روشنائی چھوڑ گیا۔

Facebook Comments

فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply