عالمی رہنماؤں کے نام/محمد علم اللہ

رات کے تین بج رہے ہیں۔ یہاں برطانیہ کی یونیورسٹی کے ایک چھوٹے سے کمرے میں، جہاں چاروں طرف سناٹا ہے، ایک عجیب سی بے چینی دل کو گھیرے ہوئے ہے۔ باہر چاندنی رات اپنی خاموشی سے کچھ کہہ رہی ہے، مگر میرا دل اس خاموشی کو سننے سے انکاری ہے۔ وہ تو ہندوستان اور پاکستان کی سرزمین پر اٹکا ہوا ہے، جہاں جنگ کی آگ بھڑک رہی ہے۔ آج میرے استاد، تھومس ولسمین، بتا رہے تھے کہ پہلی اور دوسری جنگ عظیم بھی کبھی اسی طرح شروع ہوئی تھیں—بے سبب، بے معنی، اور پھر لاکھوں انسانوں کی زندگیاں نگل گئیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کبھی کسی کا بھلا نہیں کرتی۔ یہ بات میرے دل میں گھر کر گئی۔
میں ایک عام سا طالب علم ہوں، جو اس وقت اپنی کتابوں اور خیالوں کے درمیان بیٹھا یہ خط لکھ رہا ہے۔ میرا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں، نہ ہی میں کسی ملک یا قوم کی حمایت میں یہ الفاظ رقم کر رہا ہوں۔ میرا تعلق انسانیت سے ہے، اس انسانیت سے جو ہندوستان میں بھی سانس لیتی ہے اور پاکستان میں بھی۔ وہ انسانیت جو جنگ کی آگ میں جھلس رہی ہے۔ میں سوچتا ہوں، یہ جنگ کس کے لیے ہے؟ کون جیتتا ہے جب ماں اپنا بیٹا کھو دیتی ہے؟ کون مسکراتا ہے جب بچے یتیم ہو جاتے ہیں؟ کون خوش ہوتا ہے جب گھر راکھ بن جاتے ہیں؟
جب سے جنگ کی خبر سنی، دل میں ایک عجیب سا خوف سمایا ہے۔ یہ خوف نہ ہندوستان کے لیے ہے، نہ پاکستان کے لیے—یہ خوف اس مٹی کے لیے ہے جو دونوں کی ہے۔ وہ مٹی جو صدیوں سے ہمارے پیروں تلے سانس لیتی رہی، جس نے ہمیں اپنی گود میں پالا، جس کے کھیتوں میں ہمارے باپ دادا نے پسینہ بہایا۔ وہ مٹی اب خون مانگ رہی ہے، اور ہم، اس کے بیٹوں کی طرح، اسے خون سے سیراب کر رہے ہیں۔ کیا یہ وہی مٹی نہیں جس کے لیے ہم نے محبت کے گیت گائے تھے؟ کیا یہ وہی دھرتی نہیں جس کے لیے شاعروں نے نظمیں لکھیں، جس کے رنگوں کو ہم نے اپنی ثقافت کا زیور بنایا؟
میں سوچتا ہوں، اگر جنگ نہ ہوتی، تو کیا ہوتا؟ شاید کوئی ماں رات کو اپنے بچے کو لوری سنا رہی ہوتی۔ شاید کوئی بوڑھا باپ اپنے بیٹے کے خط کا انتظار کر رہا ہوتا۔ شاید کوئی بہن اپنے بھائی کے لیے راکھی باندھنے کی تیاری کر رہی ہوتی۔ لیکن جنگ نے یہ سب چھین لیا۔ اب نہ لوریاں ہیں، نہ خطوط، نہ راکھیاں۔ اب صرف چیخیں ہیں، دھماکوں کی گونج ہے، اور وہ خاموشی جو موت کے بعد چھا جاتی ہے۔
فلسفی کہتے ہیں کہ انسان اپنی تقدیر خود لکھتا ہے۔ اگر یہ سچ ہے، تو کیا ہم نے اپنے ہاتھوں سے موت کا یہ ناٹک لکھا؟ کیا ہم نے خود اپنے بھائیوں کے خون کا رنگ چنا؟ میں جانتا ہوں، آپ سب عالمی رہنما ہیں۔ آپ کے کندھوں پر بڑی ذمہ داریاں ہیں۔ آپ کے فیصلے لاکھوں زندگیوں کو متاثر کرتے ہیں۔ لیکن کیا آپ نے کبھی رات کے سناٹے میں ایک ماں کی سسکی سنی ہے؟ کیا آپ نے کبھی اس بچے کی آنکھوں میں جھانکا جو اپنے باپ کے بغیر بڑا ہو رہا ہے؟ اگر نہیں، تو ایک لمحے کے لیے رکیے۔ اپنے دل سے پوچھیے—کیا جنگ واقعی اس قابل ہے؟
میں ہندوستان یا پاکستان کے کسی ایک کی طرفداری نہیں کر رہا۔ میری آواز دونوں کے لیے ہے۔ وہ لوگ جو سرحد کے اس پار ہیں، وہ بھی ہم جیسے ہیں۔ ان کی ماں بھی ہماری ماں کی طرح راتیں جاگتی ہے۔ ان کے بچے بھی ہمارے بچوں کی طرح خواب دیکھتے ہیں۔ ان کے گھر بھی ہمارے گھروں کی طرح محبت سے بنے ہیں۔ پھر یہ لڑائی کس لیے؟ یہ سرحدیں، یہ لکیریں، یہ جھگڑے—کیا یہ سب اس محبت سے بڑھ کر ہیں جو ہم سب کو جوڑتی ہے؟
یہ خط لکھتے ہوئے میری آنکھیں نم ہیں۔ شاید اس لیے کہ میں اپنی مٹی کو روتے دیکھ رہا ہوں۔ وہ مٹی جو کبھی پنجاب کے کھیتوں میں لہلہاتی تھی، جو سندھ کے پانیوں سے سیراب ہوتی تھی، جو گنگا کے کناروں پر گیت گاتی تھی۔ آج وہ خاموش ہے۔ اس کی خاموشی مجھے رلا رہی ہے۔ میں سوچتا ہوں، اگر ہم سب مل کر اس مٹی سے ایک بار پھر محبت کا وعدہ کریں تو کیا ہو؟ اگر ہم جنگ کے بجائے امن کا ہاتھ بڑھائیں تو کیا ہو؟ اگر ہم اپنے بچوں کو بندوق کے بجائے کتاب دیں تو کیا ہو؟
میں جانتا ہوں، یہ خط پڑھ کر شاید آپ سوچیں کہ یہ ایک طالب علم کے جذباتی خیالات ہیں۔ لیکن یہ خیالات اس دل سے نکلے ہیں جو اپنی دھرتی سے محبت کرتا ہے۔ یہ آواز اس انسان کی ہے جو جنگ کی تباہی کو نہیں دیکھنا چاہتا۔ یہ درخواست اس شخص کی ہے جو چاہتا ہے کہ آنے والی نسلیں ہم پر فخر کریں، نہ کہ ہم پر لعنت بھیجیں۔
آپ سب سے گزارش ہے، ایک بار پھر سوچیے۔ جنگ کے بجائے امن کا راستہ چنیں۔ اپنے لوگوں کو بتائیں کہ محبت سے بڑھ کر کوئی طاقت نہیں۔ اپنی مٹی کو بتائیں کہ ہم اسے خون سے نہیں، محبت سے سیراب کریں گے۔ یہ خط ہندوستان کے لیے بھی ہے، پاکستان کے لیے بھی، اور اس دنیا کے ہر اس انسان کے لیے جو امن کا خواب دیکھتا ہے۔
میں رات کے اس سناٹے میں، اپنی یونیورسٹی کے اس چھوٹے سے کمرے سے، آپ سب کے لیے دعا کرتا ہوں۔ دعا کہ آپ کے فیصلے محبت سے بھرے ہوں۔ دعا ہے کہ آپ کی قیادت اس دنیا کو امن کی طرف لے جائے۔ دعا ہے کہ ہماری مٹی ایک بار پھر مسکرائے۔
خاموشی اور امید کے ساتھ،
ایک طالب علم، جو اپنی دھرتی سے محبت کرتا ہے!

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply