• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • چینی خصوصیات کا حامل سوشلسٹ نظام: نظریاتی ارتقاء اور غربت کے خاتمے پر اس کا اثر/قیس انور

چینی خصوصیات کا حامل سوشلسٹ نظام: نظریاتی ارتقاء اور غربت کے خاتمے پر اس کا اثر/قیس انور

تعارف (Introduction)
چینی خصوصیات کا حامل سوشلسٹ نظام (Socialism with Chinese Characteristics) جدید دنیا میں مارکسی نظریہ (Marxist theory) کی سب سے اہم تبدیلیوں میں سے ایک کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس منفرد نقطۂ نظر نے نہ صرف چین کے اقتصادی اور سماجی منظرنامے کو تبدیل کیا بلکہ اسے انسانی تاریخ میں غربت میں کمی کی سب سے بڑی کوشش سمجھا جاتا ہے۔ یہ مضمون اس منفرد ماڈل کی نظریاتی بنیادوں، کلاسیکی مارکسزم (classical Marxism) سے اس کے تعلق، اور چین میں انتہائی غربت کے خلاف اس کے عملی نفاذ کا جائزہ لیتا ہے۔
نظریاتی خاکہ اور مارکسی بنیادیں (Theoretical Framework and Marxist
Foundations)
چینی خصوصیات کا حامل سوشلسٹ نظام، چینی کمیونسٹ پارٹی (Chinese Communist Party) کی طرف سے مارکسی اصولوں کو چین کے مخصوص حالات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش سے وجود میں آیا۔ جیسا کہ Dirlik (1989) کی دلیل کے مطابق یہ تطبیق (adaptation) مارکسزم کی روایتی تشریحات سے ایک اہم انحراف تھا، جس نے ایک ایسے “چینی سوشلسٹ تصور” (conceptualization of Chinese socialism) کو جنم دیا جو نظریاتی خالص پن (ideological purity) کی بجائے عملی نتائج کو ترجیح دیتا ہے۔
اس ماڈل کی نظریاتی بنیاد کو Choi (2011) “بیضوی ساخت” (elliptical structure) پر استوار قرار دیتے ہیں جو سوشلسٹ اصولوں اور چینی حقیقتوں کے درمیان توازن قائم کرتی ہے۔
جیسا کہ Hong (2020) نے توجہ دلائی ہے کہ اس تصورکے ارتقا میں Deng Xiaoping کا حصّہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے اس کے لیے وہ Deng کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ “سوشلسٹ نظام کی اصل فطرت پیداواری قوتوں کی آزادی ہے” (“the nature of socialism is to emancipate productive forces”)۔ یہ تشریح مارکسزم کے روایتی طبقاتی جدوجہد (class struggle) کے emphasis سے ایک واضح انحراف تھی جس میں معاشی ترقی کو سوشلسٹ تبدیلی کے لیے شرط کے طور پر پیش کیا گیا۔
کلاسیکی مارکسزم سے انحرافات (Deviations from Classical Marxism)
چینی ماڈل کئی اہم پہلوؤں میں کلاسیکی مارکسزم سے انحراف کرتا ہے۔ Wu (2008) واضح طور پر تسلیم کرتے ہیں کہ “چینی خصوصیات کا حامل سوشلسٹ سماج وہ سوشلسٹ سماج نہیں ہے جسے مارکس اور اینگلز نے کمیونزم کے ابتدائی مرحلے کے طور پر تصور کیا تھا” (“the socialist society with Chinese characteristics we have built up is indeed not the socialism envisaged by Marx and Engels as the lower stage of communism”)۔
ان انحرافات میں مندرجہ ذیل شامل ہیں:
1. مارکیٹ معیشت کا انضمام (Market Economy Integration): کلاسیکی مارکسزم میں مرکزی منصوبہ بندی پر زور دیا گیا، جبکہ چین نے ریاستی کنٹرول کے ساتھ مارکیٹ میکانزم کو اپنایا۔
2. نجی ملکیت کے حقوق (Private Property Rights): اس ماڈل میں نجی ملکیت کی اجازت ہے، جو کہ روایتی مارکسزم کی نجی ملکیت کی مخالفت سے انحراف ہے۔
3. طبقاتی تعاون (Class Collaboration): طبقاتی جدوجہد کے بجائے، چینی ماڈل قومی ترقی کے لیے طبقات کے درمیان تعاون کو فروغ دیتا ہے۔
غربت کے خاتمے کا عملی نفاذ (Poverty Alleviation: The Practical Implementation)
چینی خصوصیات کے حامل سوشلسٹ نظام کی غربت میں کمی کے حوالے سے کامیابی غیر معمولی رہی ہے۔ Naughton (2017) اس بات پر روشنی ڈالتے ہیں کہ چین کے طریقہ کار نے مارکیٹ اصلاحات کو ریاستی نگرانی میں غربت کے خاتمے کے پروگراموں کے ساتھ جوڑا۔
اس کے نتائج بے مثال رہے: Gao (2021) نے یہ دکھایا ہے کہ شہری اور دیہی معیشت کی ساختی تبدیلی نے چین کی غربت میں کمی کے “معجزے” (miracle) میں کلیدی کردار ادا کیا۔
غربت میں کمی کی حکمت عملی میں کئی اہم عناصر شامل تھے:
1. ہدفی مداخلت (Targeted Intervention): یونیورسل ویلفیئر پروگراموں کے بجائے، چین نے مخصوص اور مقامی غربت کے خاتمے کے اقدامات اختیار کیے۔
2. انفراسٹرکچر کی ترقی (Infrastructure Development): دیہی علاقوں میں ریاست کی بھاری سرمایہ کاری سے رسائی اور مارکیٹ تک رسائی بہتر ہوئی۔
3. تعلیمی اصلاحات (Educational Reform): مہارتوں کی ترقی اور تعلیم کو غربت میں کمی کے ٹول کے طور پر اپنایا گیا۔
4. صنعتی ترقی (Industrial Development): دیہی صنعتی کاری اور زرعی جدیدیت کو فروغ دیا گیا۔
نظریاتی اور عملی نتائج (Theoretical and Practical Implications)
غربت کے خاتمے میں چینی خصوصیات کے حامل سوشلسٹ ماڈل کی کامیابی ترقیاتی نظریے کے (development theory) کے متعلق اہم سوالات اٹھاتی ہے۔ Liu (2018) دلیل دیتے ہیں کہ یہ ماڈل مارکسی اصولوں اور مارکیٹ میکانزم کو ملا کر سماجی ترقی کے اہداف حاصل کرنے کی صلاحیت ظاہر کرتا ہے۔
چینی تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ نظریاتی لچک (ideological flexibility)، ریاستی صلاحیت (state capacity) اور واضح ترقیاتی اہداف (development goals) کے امتزاج سے غربت میں کمی کے حیران کن نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
نتیجہ (Conclusion)
چینی خصوصیات کا حامل سوشلسٹ نظام، مارکسی فکر میں ایک اہم نظریاتی اور عملی جدت (innovation) کی نمائندگی کرتا ہے۔ اگرچہ یہ کئی اہم پہلوؤں میں کلاسیکی مارکسزم سے انحراف کرتا ہے، لیکن اس نے بنیادی سوشلسٹ اصولوں کو برقرار رکھتے ہوئے چین کے مخصوص حالات سے مطابقت پیدا کی۔ غربت میں کمی میں اس کی کامیابی اس نقطۂ نظر کی افادیت کو ظاہر کرتی ہے، اگرچہ اس کی دوسرے سیاق و سباق میں مطابقت اور طویل مدتی پائیداری کے حوالے سے سوالات باقی ہیں۔

تصویر بشکریہ بی بی سی

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply